دنیا کو ہے اُس مہدیِ برحق کی ضرورت                             ہو جس کی نگاہ زلزلۂ عالمِ افکار

تریاق قلب

تریاق قلب

پیش لفظ
حاضر نظر کتاب تریا ق قلب جو منظومات پر مشتمل ہے حضرت سیدنا ریا ض احمد گوھر شاہی مد ظلہ العالی (سرپر ست اعلیٰ انجمن سر فرو شان اسلام پاکستان)نے تحریر کی ہے۔ حضرت نے یہ منظومات 1976-77 ؁ میں اس وقت لکھیں جب سہون شریف (سندھ)کی پہاڑیوں میں دنیا سے دور عبادات وریا ضت اور مجا ہدات میں مصروف تھے اور اگر یہ کہا جائے کہ حضرت کا یہ کلام الہامی ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔اراکین انجمن اور طالبین حق کے لئے مشعل راہ ہے حضرت کا مختصر تعارف ہم مینارہ نوراورروحانی حصول کی یاداشتیں روحانی سفرمیں محفوظ کر کے شائع کر چکے ہیں۔
تا کہعوام الناس بھی حضرت کے روحانی فیوض و برکات سے مستفیض ہو سکیں
مرکزی ناظم اعلیٰ
وصی محمد قریشی

کہاں تیری ثناء کہاں یہ گناہگار بندہ
کہاں لاہوت و لامکاں کہاں یہ عیب دار بندہ

نور سراپا ہے تو مگر یہ نقص دار بندہ
کتنی جرأت بن گیا تیرے عشق کا دعویدار بندہ

مگر عشق تیرا دن رات ستائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کروں

پاک ہے ذات تیری مگر یہ بے نشان بندہ
بادشاہ ہے تو زمانے کا مگر یہ بے اشنان بندہ

مالک ہے تو خزانے کا مگر یہ بے سروسامان بندہ
جتلائے پھر بھی عشق تجھ سے یہ انجان بندہ

مگر اس عشق میں موت بھی نہ آئے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

آئی آواز اے عاشق اپنا گریبان دیکھ
عمل ہیں تیرے روسیاہ اس سیاہی کا نشان دیکھ
لگا نہ دھبہ عشق پر اے نادان دیکھ
گر بننا ہے عاشق پھر نصوحے کی دکان دیکھ

مگر تیرا یہ نصوحہ نہ مل پائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

لگ گئی آگ سینے میں بجھانا بھی مشکل ہو گیا
عشق کہتے کہتے عشق نبھانا بھی مشکل ہو گیا

دیکھا جو دستور یار کو جان بچانا بھی مشکل ہو گیا
جکڑے گئے زنجیروں میں راز بتانا بھی مشکل ہو گیا

گر تو بھی جلوہ نہ دکھائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

نہیں ہوں سوالی فقیری میرا دھندا نہیں ہے
دنیا والو عشق خدا ہے عشق بندہ نہیں ہے

عرصے سے ہوں آوارہ میں کوئی اندھا نہیں ہے
عشق ہے یہ ابدی کوئی پرندہ نہیں ہے

یہ دنیا مجھے پاگل بنائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

خیال آتا ہے مجھے اپنی سیاہ کاری کا
دل روتا ہے دیکھ کر حال اپنی خریداری کا

ہوتی ہے تسلی پھر دیکھ کے حال آہ و زاری کا
ملتا ہے پھر ثبوت مجھے تیری غفاری کا

مگر یہ عشق فلک سے جا ٹکرائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

نکلا جو پنجہ ابلیس سے سمن جاری ہو گیا
ڈالا گھیرا فوج ابلیس نے ملزم باغی ہو گیا

نفس بھی ہوا دشمن دل تھا جو غازی ہو گیا
بچایا جو قلندرؒ نے رب بھی راضی ہو گیا

اب بھی پردہ نہ اٹھائے تو میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

نکلا نالہ جب سینے سے دل سینے میں تڑپنے لگا
غضب عشق میں آ کر سارا جنگل اللہ ھُو اللہ ھُو کرنے لگا

پہنچی آواز جو عرش پر عرش بھی تھر تھر ہلنے لگا
کیسی یہ ھُو تھی کہ زمین و آسمان جلنے لگا

تو پھر بھی سر نہ اٹھائے تو میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

پڑے ہیں ٹیلوں پر یہ بے آب و گیاہی
تعجب ہے کیا یہی ہے قاعدہ فقرائی

نیند گئی لقمہ بھی گیا یہی ہے رضائے الٰہی
پڑے ہیں مستی میں نظریں جمائے ہوئے گوھر شاہی

ان نظروں میں گر تو نہ آئے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

ملتا نہیں خدا بھی محمدؐ کی رضا کے بغیر
ہوتی نہیں رضائے محمدی شریعت مصطفی کے بغیر

پہنچ نہ سکے گا ہرگز تو اس شاہراہ کے بغیر
کہ خدا بھی چلتا نہیں قانون خدا کے بغیر

اس قانون میں بھی تو سامنے نہ آئے تو میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

یوں تو اللہ ھُو ہے جا بجا مگر اک نقطے میں بات ہوتی ہے
مل جائے گر یہ نقطہ پھر نور کی برسات ہوتی ہے

اسی نقطے کی تلاش میں طالبوں کی عمر برباد ہوتی ہے
خدا کی قسم اسی نقطے سے مجبور خدا کی ذات ہوتی ہے

یہ نقطہ پا کر بھی تو نظر نہ آئے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

ہزاروں رستے ہیں عرش بریں تک ابھی تو تو رواں ہے
ہزاروں دشمن ہیں ان راہوں میں تیرا کدھر گماں ہے

گر مقدر ہیں بلند تیرے آشیانہ بہ آسمان ہے
مگر آسماں کے آگے اس عشق کی دکان ہے

ان راہوں میں ہی گر عشق ستائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

آگئے کدھر ہم یہ تو سخی شہبازؒ کی چلّہ گاہ ہے
واہ رے خوش نصیبی یہ ہماری بھی عبادت گاہ ہے

وہ تو کر گئے پرواز اب ہماری انتظار گاہ ہے
اس بھٹکے ہوئے مسافر پر انکی بھی نگاہ ہے

سخی شہبازؒ کی محفل میں جا کر بھی یاد تیری ستائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

اس عشق میں طلعت و بابر کو بھی بھلا بیٹھے
یاد رہی نہ کسی کی اپنا آپ بھی گنوا بیٹھے

عقل تھی جو تھوڑی سی وہ بھی جلا بیٹھے
اے رب تیرے عشق میں ہم یہ دکھڑا بھی سنا بیٹھے

گر تو بھی قدم قدم پر آزمائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

عشق ہوا کیسے کچھ سمجھ میں بھی آیا نہیں
نہ پوچھا کسی سے کسی نے بھی سمجھایا نہیں

مرشد تھا باطنی شائد چراغ اس نے جلایا نہیں
تجھ سے کیا شکوہ مرشد بھی اب تک سامنے آیا نہیں

گر کوئی مرشد کا نام پوچھ پائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

کیا اقرار جب ہم نے جلنا نبی پاکؐ نے تصدیق کی
باھُوؒ بنے ضامن تب اللہ نے نور کی توفیق دی

پھر دھکیلے گئے پل صراط پر یہ بھی بخشش عجیب دی
جان کا خطرہ ایمان کا بھی کتنی کھائی قریب دی

بارہ سال سے پہلے یہ پل نہ ختمائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

کتنا مہنگا ہے عشق تیرا یہ تو کسی نے بتایا نہ تھا
ہو جائیں گے زندہ درگور کوئی اس لئے میں آ نہ تھا

دن رات روتے رہیں گے میں نے اتنا جرم کمایا نہ تھا
جرم ہے تیرے عشق کا جو میری سمجھ میں آیا نہ تھا

عشق کی آگ جلا کے عشق کو رلائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

ہو گئے قیدی ہم جبلوں کے اک دلدار کی خاطر
پی رہے ہیں خون جگر ان دیکھے دربار کی خاطر

سولی پہ لٹکے گئے عشق کی تار کی خاطر
جان بھی نہ نکلے اک تیرے دیدار کی خاطر

روح کو ادھر بھی چین نہ آئے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے پھر میں کیا کروں

*******

جس ذکر سے دھڑکے نہ دل وہ ذکر کیا
گر آنکھوں سے نکلیں نہ آنسو وہ فکر کیا

دیدار نور ہو نہ میسر وہ شکر کیا
مر نہ جائے تیرے عشق میں خاکی وہ بشر کیا

پہچان نہ سکے جو حق و باطل کو وہ نظر کیا
زندگی گزاری تیرے امتحانوں میں اور صبر کیا

غاروں میں پگھلتے رہے اب خوف قبر کیا
عشق میں عقل ہی نہ رہا پھر حساب حشر کیا

کتنی انمول تھی یہ زندگی جو مدت تک حیوانی میں گزری
پتہ نہ تھا راہ و منزل کا جو بھی گزری پریشانی میں گزری

نفس کی خدمت کرتے رہے دن رات تھی شیطانی میں گزری
کتنے ہوتے ہیں خوش نصیب وہ لوگ جنکی عمر ذکر سلطانی میں گزری

*******

گوھر گر ہر سانس سے نکلے نہ اللہ ھو وہ عبادت کیا
جھک نہ پڑے ریاضتوں کی وہ ریاضت کیا

گھسیٹتا رہے نفس دنیا میں وہ آدمیت کیا
بسا نہ سکے گر دل پہ کعبہ وہ انسانیت کیا

بس جائے جس دل میں کعبہ وہ ملائکوں کا سجدہ گاہ ہے
ہوتا ہے اسی کا عرش پہ ٹھکانہ وہی تو عید گاہ ہے

اسی کی جنبش سے ہلتا ہے عرش معلی وہی اسرار گاہ ہے
جس نے پایا گر نہ یہ رتبہ وہی خام نگاہ ہے

اے دل تو انجانوں کو محرم راز نہ بنا
ان عاقلوں کو یہ بھید نہ سنا

پا نہ سکے اس راز کو عیب کی نظر نہ لگا
یہ تو دل کا سودا ہے ہے جو نصیب اولیاء

*******

نماز و روزوں سے ملتا نہیں یہ ہر گز خام خیالوں کو
چلوں اور وظیفوں سے بھی ملتا نہیں یہ ناسوتی پیالوں کو

دینی پڑتی ہے قربانی مال و جان کی اس راہ پہ چلنے والوں کو
پھر بھی قسمت سے ملتا ہے یہ سودا ان صابرین جیالوں کو

لکھ دل پر اللہ ھو تصور سے سبق سیکھ جلالیت کا
پھر لکھ سینے پر محمدؐ بسا یہ بھی نقطہ جمالیت کا

دل ہو گا تب صدق آئے گا مزہ پھر شریعت کا
ورنہ نہیں ہے ثبوت کچھ تیری نمازوں کی قبولیت کا

*******

پہن کر چوغے و کلاوے فقیر بن گئے تو کیا
پڑھ کر تصوف پیر بن گئے تو کیا

کر کے یاد حدیث فقہ مُلاّ بے تقدیر بن گئے تو کیا
عمل نہ کیا فرعون بے تقصیر بن گئے تو کیا

اسلام عمل سے ہے زبانی قیل و قال نہیں
مریدوں کا کیا پیروں کا بھی کچھ حال نہیں

ڈھونڈ لیں کسی کامل کو اتنی تو مجال نہیں
کر رہے ہیں اسلام کے ٹکڑے اتنا خیال نہیں

دعویٰ پھر بھی ہے ان کو اللہ سے رسائی کا
رہزن بنے بیٹھے ہیں رستہ دکھاتے ہیں شناسائی کا

خود تو بے خبر ہیں پیالہ پلاتے ہیں اولیائی کا
آیا جو ان کے شکنجے لگ گیا ٹیکہ شیطان کبریائی کا

*******

کر کے حج کئی دل قابو میں نہ آیا تو کیا مزہ
پڑھ کے قرآن بھی کچھ عمل میں نہ آیا تو کیا مزہ

کھا کے طمانچہ بھی ہوش میں نہ آیا تو کیا مزہ
پہنچ کر قبر میں بھی فتنوں سے باز نہ آیا تو کیا مزہ

رکھ کے داڑھی عیب چھپایا تو کیا مزہ
رگڑ کر ماتھا مُلاّ کہلایا تو کیا مزہ

کھا کے زہر گر پچھتایا تو کیا مزہ
لٹا کے جوانی خدا یاد آیا تو کیا مزہ

ہو گیا جب دل دو ٹکڑے اس کا جڑ جانا کیا
ہو جائے چھید گر بوتل میں اس کا بھر جانا کیا

ہو گیا بند جب در توبہ پھر دامن پھیلانا کیا
کیا کچھ نہ عمل خالی ہاتھ ادھر جانا کیا

ادھر تو جاتے ہیں اعمال اپنے بے عملوں کی جا نہیں
پاتے ہیں سزا اعمال گندے کس کو یہ پتہ نہیں

پڑھ کے کلمہ بن بیٹھے امتی امتی ہونا سستا نہیں
خواب میں بھی نہ ہو سکے دیدار مصطفی امتی بنتا نہیں

فرض ہے تیرا پیارے محمدؐ کو اک بار تو دیکھ
علم سے دیکھ عمل سے دیکھ سوتے یا بیدار دیکھ

سمجھ میں نہ آئے گر یہ بات کوئی کامل شب بیدار دیکھ
پڑھ علم دیدار اس سے پھر دیدار ہی دیدار دیکھ

آزمایا نہ جس نے پیر کو خود ہی آزمایا گیا
ملا گر نفسی مرشد ایمان کا صفایا گیا

رکھ کے تکیہ مرشد پر بیٹھے رہے وقت سارا ضائع گیا
کہ ہوتے ہیں جن کے خام مرشد ابلیس کے ہاتھ آیا گیا

*******

ہو گئی کمر کبڑی تیری درجہ عبادت نہ ملا
مارے گئے اندھیرے میں درجہ شہادت نہ ملا

بھٹکتے رہے دربدر کمرۂ عدالت نہ ملا
ملا نہ رستہ ہرگز کہ باحضور باارادت نہ ملا

شریعت ہے فرضِ اوّلین اسی سے زندگی بنتی ہے
پھر شریعت تیل ہے طریقت کا جس سے گاڑی چلتی ہے

اسی کے دم سے حقیقت و معرفت کی رحمت برستی ہے
کہتے ہیں جنیدؒ بے شرع پر ابلیس کی جھلک ٹپکتی ہے

معافی ہے شریعت کی اس وقت جب دیدارِ اللہ ہو جائے
اسکی ہر بات اللہ ہر نظر اللہ گھربار اللہ ہو جائے

نظر سے بن جائے مٹی سونا زبان کھولے انتظار اللہ ہو جائے
ہوتا ہے پارس وہی جس کو رگڑے خریدار اللہ ہو جائے

ہوتا ہے وہی دنیا میں نائب اللہ کا چاہے شاہ کو گدا کر دے
جہاں بھی چاہے بلا لے ملائکوں کو چاہے جس کو تباہ کر دے

اسے کیا اہمیت نیک و بد کی چاہے جس کو باخدا کر دے
اسے کیا ضرورت سجدے کی جو روبرو جا کے سجدہ کر دے

یہ تو وہ صدی ہے جہلا بھی علماء بنے بیٹھے ہیں
جسم پر چیتھڑے چل رہی جوئیں اور باخدا بنے بیٹھے ہیں

بہت ہیں ایسے بھی عالمِ سُو جو اولیاء بنے بیٹھے ہیں
یہ تو وہی فرعون ہیں جو خدا بنے بیٹھے ہیں

نہ اٹھا پردہ کہ یہی دورِ یزید ہے
سنبھل جائے یہ مسلم تجھے کیسے امید ہے

پا جائے اسرارِ حق اسکی عقل سے بعید ہے
دلوں پہ لگا کے قفل نفس کا مرید ہے

حُبِ دنیا لذّت دنیا نفس کی یہ غذا ہے
مقام ہے اس کا عالم ناسوت جنّات سے اس کا رشتہ ہے

نور قرآن نور عرفان یہ دل کی غذا ہے
مقام ہے اس کا عالم ملکوت فرشتوں سے اس کا تعلقہ ہے

گر دل کو برباد کیا تو نفس کو شاد کیا
گر نفس کو برباد کیا تو دل کو آباد کیا

پھولا پھالا دل تو روح کو پھر پاک کیا
روح پہنچی عالم جبروت میں جب سینہ چاک کیا

*******

دلوں میں شیطان بسا کے پھر بھی ہے دعویٰ ایمان اللہ
ہو رہی دختر پروشی ادھرِ ادھر سہارا قرآن اللہ

چمگادڑ بنے بیٹھے ہیں پھر بھی تکیہ کہ ہے رحمن اللہ
دنیا کو دھوکہ خدا کو بھی سمجھے ہے شاید انجان اللہ

تکیہ ہے اس کی رحمانی کا نادانوں کو یہ پتہ نہیں
وہ تو قہار ہی قہار ہے جب تک اس کے آگے جھکا نہیں

تجھے کیا خبر اس کی غفّاری کی جب اس راہ پہ چلا نہیں
جائے تو جنت میں یا جہنم میں اسے کچھ پرواہ نہیں

جب منہ موڑا ادھر سے سچ کہا دہریوں نے خدا نہیں
کیسا سمیع و بصیر ہے کچھ بھی سنتا نہیں

قریب ہے شاہرگ کے اسے کچھ بھی پتہ نہیں
بیزار ہوئے محمدؐ کاش تو نے پایا وہ رستہ نہیں

گر جھک جائے تو ادھر تجھ میں اور مجھ میں پردہ کیا
پہنچا جب میرے نشیمن میں پھر میں کیا اور خدا کیا

فَاذْکُرُوْنِی اَذْکُرُکُمْ پھر تجھے اور تمنّا کیا
تب ہی پوچھے گا خدا اے بندے تیری رضا کیا

*******

اے بندے سمجھ تو کیوں ہوا دنیا میں ظہور تیرا
تو وہ عظیم تر ہے خدا بھی ہوا مشکور تیرا

عش عش کرتے ہیں کروّبیاں دیکھتے ہیں جب شکستہ صدور تیرا
فخر ہوتا ہے اللہ کو بنتا ہے جب جسم سراپا نور تیرا

کہتے ہیں پھر اللہ اے ملائیکو میرے بندے کی شان دیکھو
ہوا تھا جسں پہ انکار سجدہ اب اس کا ایمان دیکھو

جنبش پہ ہے جس کا دل ایک سرا ادھر ایک لامکاں دیکھو
ناز ہے تم کو بھی عبادت کا مگر عبادت قلب انسان دیکھو

کاش تو شیطان تو نہ تھا جو شیطان ہوا
آیا اللہ کے امتحانوں میں تو بے ایمان ہوا

پڑا ہوس دنیا کے چکر میں تو بے عرفان ہوا
تو وہ چمکتا ہوا ستارہ تھا جو بے نشان ہوا

( نوٹ: مشکور سریانی میں دوست کو بولتے ہیں )

*******

گیا تھا بیرون ممالک کہ آ کے بنگلے بنائیں گے
بڑی محنت سے کام کیا ورنہ سبھی طعنے بنائیں گے

گئے گر خالی ہاتھ ادھر نبیؐ کو کیا منہ دکھائیں گے
مانگیں گے وہ تحفہ کچھ ہم کیسے نظریں اٹھائیں گے

پچھتائیں گے پھر وہ بھی جو تھے نہ پچھتانے والے
ہو گی ان کو بھی ندامت تھے جو حلوے دنبے کھانے والے

پوچھا جائے گا ان سے بھی تھے جو بے تاج حکومت چلانے والے
ہوئی گر سفارش اعمالوں کے سوا ہوں گے حق پر سر کٹانے والے

اُدھر حسب نسب چلتا نہیں اُدھر تو میزان ہے
اُدھر سیّد قریشی کی کیا پرواہ جو تارکِ قرآن ہے
اہل حرفہ اہل سیاست سبھی کے لئے اک فرمان ہے
تھا جو بھی اس کی یاد سے غافل وہی حیوان ہے

ہوا حیوان جب تو زنجیر لازم ہو گئی
نہ دیکھا گوشت و پوست کو تکبیر لازم ہو گئی

نہ دیکھا اس کا رتبہ شاہی تقدیر لازم ہو گئی
بچا نہ سکے گا کوئی جب تحریر لازم ہو گئی

*******

چھوڑ کے خیال دنیا کا دنیا والوں سے جی بہلانا کیا
پڑیں جہاں ایمان پر چھینٹیں اس کوچے سے گزر جانا کیا

ملا نہ کوئی محرم دلِ انجانوں کو حال سنانا کیا
مر گئے زندگی میں ایک بار اب جینا کیا مر جانا کیا

وہ قلب ہی نہ رہا تن میں پھر طلعت کیا بیگانہ کیا
ہر دم رہے زبان پہ تو ہی تو کملا کیا دیوانہ کیا

جل رہے ہیں جب عشق میں ہم کو اور ستانا کیا
دے کر دیدار دیکھ ہوتی ہے شمع کیا پروانہ کیا

*******

اوّل سے ہی اللہ ہم کو آزماتا رہا
اور خلقت میں بھی نشانہ ملامت بناتا رہا

کیا کوئی بھی دھندا دھندے کو بھی رُلاتا رہا
کیا خبر تھی ہم میں صبر و تحمّل بناتا رہا

دیں اتنی ٹھوکریں کہ زندگی سے بیزار ہوئے
چھوڑ کے بال بچّے اس دنیا سے فرار ہوئے

بنایا بسیرا پھر پہاڑوں میں اور تلاش یار ہوئے
بہت ہی مغلوب تھے ہم جو آج شکن حصار ہوئے

*******

کر لے جب بھی توبہ وہ منظور ہوتی ہے
بندہ بشر ہے جس سے غلطی ضرور ہوتی ہے

کہتے ہیں موسیؑ ٰ اللہ کو وہی عبادت محبوب ہوتی ہے
جس میں گناہ گاروں کی گریہ زاری خوب ہوتی ہے

شکر ہے پروردگار تیرا اس عاصی پر فضل کیا
نکالا دنیا کے کیچڑ سے آشیانہ بہ جبل کیا

ہدایت دے کر قرآن و عرفان کی روانہ بہ منزل کیا
وہ بھی تو ہیں بے نصیب جن کے دلوں کو تو نے قفل کیا

قفلوں والے کریں گے کیسے یقین ہم پر
کہ ہو چکا ہے اتنا مہربان رب العالمین ہم پر

کھول چکا ہے اسرار حور و نازنین ہم پر
کہ بس رہا ہے جُسہ توفیقِ الٰہی زمین ہم پر

حق و نور کی روشنی جب آنکھوں میں آئی
چودہ طبق نظر آئے جیسے اک رائی
اک سے اک کا فاصلہ اتنا چھوٹی سی کھائی
واہ رے نادان نادانوں کو عجب کہانی سنائی

*******

سن اے انجان جس طرح زر و مال کی زکوٰۃ ہوتی ہے
عامل کامل پر بھی واجب یہ بات ہوتی ہے

حق کریں ادا دنیا میں گمنام یہ تو مشکلات ہوتی ہے
برزخ سے آکر کرتے ہیں حق ادا جن پر حاضرات ہوتی ہے

پڑھ کے کلام ہمارا شائد تو بھی ہوش میں آئے
یہ بھی ممکن ہے جو ہوش ہے اس سے بھی جائے

اس کو سمجھیں گے عام کیا خاص کی بھی سمجھ میں نہ آئے
ابھی بھی چھپایا ہے بہت کچھ طعنہ خود فروشی نہ مل جائے

کھولا ہے راز اس لئے حق و باطل کی تمیز کر
کھول آنکھیں اپنی اپنے اندر پیدا یہ چیز کر

یہی ہے مسلم کی وراثت کیوں نہ اس کو عزیز کر
نہ رکھ خیال عالمانہ عمل و یقین بر قلم ناچیز کر

ڈھونڈ کسی پارس کو کہ تو بھی سونا بن جائے
ایسا نہ ہو کہ زندگی تیری رونا بن جائے

گیا وقت یہ بھی پھر کانٹوں کا نہ بچھونا بن جائے
ڈر ہے یہ بھی کسی ناقص کا نہ کھلونا بن جائے

*******

دے رہے ہیں لعنتیں یاران نبیؐ کو ہیں یہ بھی پیر والے
رابعہ بصریؒ پر بھی کستے ہیں آوازیں کچھ شیطانی زنجیر والے

کچھ غوث پاک کو نہیں مانتے ہیں دید و شنید والے
مومن و ولی بنے بیٹھے ہیں یہی ہیں دراصل یزید والے

بھنگ چرس افیون ان کا ایمان ہے
راہبر ہے وہ بھی فارغ سنت و قرآن ہے

حضرت علیؓ کو اﷲ بنا بیٹھے یہی ان کا ذکر زبان ہے
منافق ہے ان کی نظروں میں باقی جو بھی مسلمان ہے

کچھ احمدی بھی ہیں پرویزی بھی نہ جانے کیا کیا
جو بھی بنتا ہے فرقہ وہی ہوتا ہے سنت سے جدا

ان کی چال نئی جماعت نئی اور انداز نیا
نہ سمجھ سکے گا انجان تو کون ہے کیا اور کون کیا

ہم نے تفصیل لکھ دی ان کو آزمانے کے بعد
پائی ہم نے یہ راہ گھربار لٹانے کے بعد

تو بھی پا لے گا کچھ نہ کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد
سیکھا نہ گر یہ سبق پچھتائے گا مر جانے کے بعد

*******

یہ راز چھپا کر کریں گے کیا اب تو دنیا فانی ہے
انتظار تھا جس قیامت کا عنقریب آنی ہے

دجال و رجال پیدا ہو چکے یہ بھی اک نشانی ہے
ظاہر ہونے والا ہے مہدی بھی یہی راز سلطانی ہے

پڑھ کر علم عمل نہ کیا تو عالمیت کیا
کر کے عمل پارس نہ پکڑا تو قابلیت کیا

مل گئے دونوں آزمایا نہ تو صلاحیت کیا
پا نہ سکا پھر بھی خدا کو تیری اصلیت کیا

گر چالیس سال عمر ہوئی ابلیس نے بھی منہ موڑ دیا
پوچھا ابلیس سے کیا قصور کہ تو نے دل توڑ دیا

کہنے لگا کیا ضرورت میری تجھے ہی ابلیس بنا کے چھوڑ دیا
چل نہ سکے گا عمل تجھ پر کہ سارا عمل نچوڑ دیا

لے کر بھید میرا گر کچھ نہ پایا دعویٰ نہ رکھنا مسلمانی کا
ڈھانچہ تو ہے انسانی تیرا روح نہ پایا انسانی کا
جھکڑا ہے زنجیروں سے جسم تیرا غلبہ ہے جس پر شیطانی کا
کیا عجب دل پر بھی لگا ہو قفل تیرے قہر سلطانی کا

*******

نماز بھی پڑھا دی مولانا نے قرآن پڑھنا بھی سکھا دیا
کلمے بھی پڑھائے حدیثیں بھی بہت کچھ مغز میں بٹھا دیا

بتا نہ سکا دل کا رستہ باقی سب کچھ پڑھا دیا
یہی ایک خامی تھی ابلیس نے سب کچھ جلا دیا

کرتا ہے ذکر زبان سے پڑتا ہے جب در ریاضت آدمی
پڑھتا ہے نفل و تہجد آتا ہے پھر در نزاکت آدمی

پکڑتا ہے خناس دل کو اثر نہیں کرتی عبادت آدمی
ہنستا ہے پاس کھڑا ابلیس دیکھ کر حالت آدمی

کر رہا ہے اﷲ اﷲ دل کو کچھ خبر نہیں
ماتھا بھی گھس گیا سجدوں میں مگر کچھ اثر نہیں

ہو گئے پھر باغی اتنی محنت سے بھی پاک ہوا صدر نہیں
یہ نہ سمجھ سکے دل پہنچتا ہے عرش پر بشر نہیں

چھوڑ عبادت ایسی پہلے دل کو صاف کر
لگا کے ٹیکہ نوری نفس کو بھی پاک کر

لکھ دل پر اسم اﷲ انگلی کو قلم خیال کر
آئے جب نظر قلب پہ اسم اﷲ پھر عبادت بے باک کر

پھر ناف پر بھی تصور سے اسم اﷲ جما
کر کے مشق یہ نفس کو بھی مطمئنہ بنا

پھر ہاتھوں پر لکھ ماتھے پر بھی تصور بنا
آنکھوں پہ لکھ کانوں پہ لکھ ناک کو بھی اس میں سما

لکھا جائے گا اک دن تصور سے یہ ضرور
ہو جائے گا ذکر قلب بھی جاری گر کر لے منظور

اسی سے ہو گا حاصل تجھے ذاتی نور
یہی ہے وسیلہ ولیوں کا یہی راہ حضور
*******

آخر جب پھینک کر آئیں گے گھر والے قبر میں تجھ کو
آئیں گے فرشتے سوال کرنے ہوں گے ششدر دیکھ کر تجھ کو

دیکھ کر تاباں اسم اﷲ ماتھے پر دیں گے صدا تجھ کو
جرأت نہیں ہے کچھ پوچھنے کی پھر شاید دے تو دُعا مجھ کو

ہوتا ہے مومن ہوتا ہے جب ذکر قلب جاری
اتنا مشکل تو نہیں ہے گر تو سمجھ نہ بیٹھے بھاری

کرے گر مشق اس کی ثابت ہو تجھ پہ بات ہماری
وگرنہ اے پیارے رگڑتا رہ بے راہر و عمر ساری

آیا جب مسلم کے گھر میں تو اک انسان ہوا
چلا جب دین پر دل سے تو وہ مسلمان ہوا

مومن بنا جب تب اس پہ واجب قرآن ہوا
ورنہ نہیں ہے خبر کچھ یزید ہوا کہ ہامان ہوا

*******

ابلیس سے بچائے مشکل نہیں مگر آدمی ہے امتحان کا
مقابلہ ہے اس کا فرشتوں سے قصہ نہیں یہ زبان کا

اس کا ڈھانچہ اک بوتل ہے بند ہے علم جس میں کون و مکاں کا
بند ہیں اس میں نو جُسّے سات لطیفے بھید ہے یہ قرآن کا

یہ جُسّے جسم میں تیرے ہیں پیوستہ اور روحیں بھی پیوستہ
دیکھ نہ سکے تو ان کو یہی ہے تجھ پہ شیطان کا پردہ

ان کی تربیت تیرے ذمہ ورنہ تو بھی جہل وہ بھی جہلا
تربیت سے نکلتے ہیں جب وجود سے تب ہوتا ہے آدمی باخدا

ایک تو لطیفہ قلب ہے جو نکلے تو عرش سے جا ٹکرائے
دوسرا ہے جُسہّ نفس وہ بھی آدمی کو طیر سیر کرائے

لطیفہ اناّ و خفی بھی ہیں میلوں آدمیوں سے بات کرائے
ملے جب اتنے غیبی لشکر تب ہی آدمی اشرف البشر کہلائے

*******

آ جائے بشر گر تکبیر میں اس کو سمجھا سکتا ہے کون
آ جائے گر ضد پہ اس کو بچا سکتا ہے کون

ہو جائے گر نفس کا قیدی تو اس کو چھڑا سکتا ہے کون
مگر ہو جائے گر اللہ کا تو اس کو مٹا سکتا ہے کون

تو وہ عظیم ہے کہ یہ کون و مکاں بھی تیرے ہوئے
ہوا جب کوہ و پیما زمین و آسماں بھی تیرے ہوئے

پھر بنا گر شہباز لامکانی چودہ جہاں بھی تیرے ہوئے
پڑی دعوت گر زبان قلب سے حوریں کیا کروبیاں بھی تیرے ہوئے

بتاؤں کیا زبان قلب ہے کیا یہ تو لمبا ساز ہے
کیا جانے تو تیرے اس ڈھانچے میں کیا کیا راز ہے

دعوت ہے کیا روحوں اور ملائکوں کو بلانے کی آواز ہے
ہوتا ہے جب عمل دعوت میں کامل بندہ نہیں بندہ نواز ہے

نکلتے ہیں جب جُسّے جسم سے ڈھونڈتے ہیں اپنی تربیت گاہ
سالک سے ہمکلام بھی ہوتے ہیں جس طرح سالک کی شکل و شبہاہ
باطن میں ان کے سکول ہیں ان کی تعلیم جدا زبان جدا
ہوتا ہے کوئی فرش پر عرش پر کوئی کعبے میں کوئی روئے خدا

یہ درجہ پایا تو نے گر مقدر سے پائے گا
کری کوشش گر کچھ نہ کچھ تو ہاتھ آئے گا

مارا گیا اس راہ میں درجہ شہادت تو پائے گا
ورنہ اے بندے وہاں جا کر کیسے گردن اٹھائے گا

اُدھر یہ تو پوچھتے نہیں یہ کرکٹ کا کھلاڑی تھا
کرنل تھا جرنل تھا یا وزن اس کا بھاری تھا

ادیب تھا شاعر تھا مُلّا تھا یا بخاری تھا
دیکھیں گے یہی کتنا نور اس کا جاری تھا

نفس کی تو پرورش کرتا رہا جو شیطان لعین تھا
پایا نہ کچھ قرآن سے جو تیرا فرض اوّلین تھا

فکر مال چکر ذال میں الجھا رہا یہ تو امتحان یقین تھا
اب ڈھونڈتا ہے پروانہ شفاعت کیا تو نہ مسلمین تھا
*******

مسجدوں کی جگہ مے خانے بنائے
لگا کر عَلَم زنا خانے بنائے

لٹکا کر تسبیحاں چہرے معصومانے بنائے
بنے اولیاء کہ کھانے پینے کے بہانے بنائے

یہ دھوکہ اﷲ سے نہیں خود کو دھوکہ دیا
واہ رہے بندے نفس کی خاطر تو نے کیا کچھ کیا

*******

پوچھا موسٰیؑ نے اﷲ سے تجھے کوئی پائے تو پائے کہاں
میں آتا ہوں طور پر وہ جائے تو جائے کہاں

گر ہو کوئی مشرق میں پیدا تو وہ طور بنائے کہاں
آئی آواز ہوتا ہوں ذاکر کے قلب میں زمیں پہ ہو یا آسماں

پھر کہا اﷲ نے میں ناراض ہوں تجھ سے اے موسٰیؑ
میں کل بیمار تھا تو دیکھنے تک نہ آیا

کہا موسٰیؑ نے ہوتا ہے بیمار تو یہ انداز کیا راز کیا
بیمار تھا تیرے محلے میں ذاکر قلبی کیا میں اس میں نہ تھا

پھر کہا موسٰیؑ نے گھس گئے پاؤں میرے اب تو جلوہ دیکھا
یہ راز نہ کھل سکے گا محمدؐ اور اس کی اُمت کے سوا

آئے پھر ضد پہ موسٰیؑ وہ بھی انسان ہوں گے میری طرح
پڑی جب جھلک نور کی موسٰیؑ جلے طور جلا

کتنا خوش نصیب ہے تو کہ امت محمدؐ سے ہوا
کر دیدار خواب میں مراقبے میں یہ روبرُو یہ درجہ تجھے ملا

کل نبی و مرسل ترستے رہے زندگی میں یہ راز نہ ملا
یہ تو وہی راز ہے جس کا میں نے کھل کر ذکر کیا

کہا نبی پاکؐ نے سید پشت حضورؐ سے نکلا
گر کوئی عالم باعمل نکلا تو میرے سینہ ظہور سے نکلا

پایا کسی نے مقام فقر میرے اور اﷲ کے نور سے نکلا
گر ہوا غرق راہ حق میں وہ میرے منشور سے نکلا

کر کے محنت کچھ نہ ملا وہ بھی میری نظور سے نکلا
آیا پاک و صاف ہو کر ادھر وہی راہ صدور سے نکلا

چلا جو بھی اﷲ کے عشق میں وہ بھی طور سے نکلا
شرط نہیں ہے کچھ کعبے سے نکلا یا دور سے نکلا

*******

کرے گا جب تصور دل پر اسم اﷲ تو زمین ہموار ہو گئی
لکھے گا کاتب جب نوری حروف سے پھر کھیتی تیار ہو گئی

پھر ڈالا گر مرشد نے نطفہ عجب بہار ہو گی
اس نطفے سے بنے گا طفل نوری جسکی پرورش زانوار ہو گی

نکلے گا جب بطن باطن سے عرصہ بعد یہ طفل نوری
اسی کو ہو گی حاصل پھر مجلس حضوری

ہو کے حضرت علیؓ کے حوالے کرے گا تعلیم پوری
پا کے تعلیم پھر ہو گی اس کی غوثی یا سلطانی منظوری

ملتا ہے لاکھوں میں ایک کو ہوتا ہے ان لطیفوں کے علاوہ
ہوتا ہے بیابان میں شیر باطنی گر اڑا تو شہباز کہلایا

خوراک ہے اس کی ذکر و فکر کنگرۂ عرش پر آشیانہ بنایا
اس میں ہوتی ہے طاقت اتنی جلے بغیر ہی روبرو ہو آیا

نظر آتا ہے کبھی یہ سالک کی صورت میں کبھی مرشد کی صورت میں
ہوتی ہے اس کی صورت جدا دکھاتا ہے جو بوقت ضرورت میں

سمجھ نہ بیٹھنا کہ تجھ سے کوئی خواب کہہ رہا ہوں
یا نشہ پی کر تجھ سے بے حساب کہہ رہا ہوں

کہانی ہے کسی زمانے کی یا قصہ کتاب کہہ رہا ہوں
جو بھی کہہ رہا ہوں نصاب در نصاب کہہ رہا ہوں

مرتا ہے آدمی چلی جاتی ہے روح عالم برزخ تک
یہی جُسّے ہو کے آدمی رہتے ہیں قبر تک

ناسوتیوں کے جُسّے مر جاتے ہیں عرصہ کچھ خبر نہیں
مرتے نہیں اﷲ والوں کے جُسّے حشر تک

وہ پھر قبروں سے نکل کر دنیا والوں کی امداد کرتے ہیں
پائیں کسی کو مصیبت میں تو اﷲ سے فریاد کرتے ہیں

کر رہے ہیں کام جُسّے ولیوں کے لوگ ولیوں کو یاد کرتے ہیں
آ جاتی ہے روح ولیوں کی بھی جب جُسّوں کو ارشاد کرتے ہیں

*******

ایک عالم آنے والی ایک ہے عالم جانے والی روحوں کا
جُسّوں کو ملتی ہے قبر میں روحوں کو ملتی ہے برزخ میں سزا

پکڑے گئے کہ وہ بھی تھے روحانی کے مشیر و آشنا
اس کو کون پوچھے تھا ڈھانچہ ہڈیوں کا جو گھل گیا

ملا تھا قطرہ نور کا کر کے ترقی لہر بن گیا
آئی طغیانی ٹکرایا بحر سے اور بحر بن گیا

نہ رہی تمیز من و تن کی دل تھا جو دہر بن گیا
بس گیا علم اس پہ اتنا کہ شہر بن گیا

اس نقطہ کی تلاش میں کتنے سکندر عمریں گنوا بیٹھے
خوش نصیبی میں تیری شک کیا گھر بیٹھے ہی یہ راز پا بیٹھے

کہا تھا خاقانی نے جب ہم بھی تیس سال رلا بیٹھے
ہوئے جب یکدم باخدا تخت سلیمانی بھی ٹھکرا بیٹھے

*******

یہی سوچ کر اﷲ نے آدمی بنایا تھا
اسی بے وفا کو پھر سجدہ بھی کرایا تھا

اسی کے لئے لوح و قلم بنایا تھا
مگر اس بے نصیب نے خود کو بھی نہ آزمایا تھا

نماز میں آئے گا نظر جب قلب پہ لکھا اسم اﷲ
بھول جائے گا تو اس وقت دنیا و مافیہا کو قسم اﷲ

کتنے دیئے سجدے رہے گا نہ یاد پا کے رسم اﷲ
پھر ہی ہوگی پرواز کی تیاری کر کے آغاز بسم اﷲ

ملے گا پھر ثبوت تجھے تیری عبادت کا قدم بہ قدم
دیکھ سکے گا پھر تو نور کی لہریں دم بہ دم

عجب نہیں کھل جائے راز مخفی بھی تجھ پہ پیہم
گر ہوش میں رہا پھر یاد آئیں گے تجھ کو ہم

بتایا ہے جو کچھ تجھ کو اس کو عمل اکسیر کہتے ہیں
پڑھتا ہے جب دعوت کوئی اس کو عمل تکسیر کہتے ہیں

آجائے رجعت میں اکسیر و تکسیر سے اس کو بے تقصیر کہتے ہیں
گر نہ پایا کچھ ان سے اس کو بے تقدیر کہتے ہیں

پڑا جس پہ لعنت کا طوق اسے ہی عزازیل کہتے ہیں
پھر خاکی کیا ناری کیا اسے ہی ذلیل کہتے ہیں

وہ صوفی کیا مفتی کیا اسے ہی بے دلیل کہتے ہیں
نکلا پھر زبان سے کچھ لفظ اسے ہی قال و قیل کہتے ہیں

دیکھے سزا گر سجیّن میں روحوں کی زندگی سے بیزار ہو جائے
پھٹ جائے دل تیرا خوف سے شاید مغز بھی بیکار ہو جائے

کھلے راز تجھ پہ آدمیت کا جب یہ دیدار ہو جائے
ڈھونڈ کسی کامل کو کر دیدار شاید پھر تو ہوشیار ہو جائے

بھٹک کے راہ پہ آیا وہ بھی انسان ہوا
ورنہ جانور ہے جو جمعیت پریشان ہوا

دیکھی نہ جس نے راہ قبور وہی انجان ہوا
قبر بھی کرے نہ اسے قبول جو بے اشنان ہوا

*******

روح بھی ایک دل بھی ایک نہیں فرق کچھ انسانوں میں
فرق ہے گر ان کی زبانوں میں اور ایمانوں میں

چلا جو ایمان پر پہنچا وہی خفیہ خزانوں میں
ورنہ اے بندے تو نہ انسانوں میں نہ حیوانوں میں

ہوتا ہے مقام تیرا فرشتوں سے اونچا کہ وہ ناز کریں
کبھی ہوتا ہے مقام تیرا شیاطین سے بھی نیچا کہ وہ عار کریں

کری جس سے شیطان نے بھی نفرت اسے کس نام سے پکار کریں
پھر بھی دعویٰ امتی کا اُف تیری عقل کیسے بیدار کریں

انسان افضل کتا ارذل گر کوئی نہ حقیر ہوتا
ہوتا گر مقابلہ کتے سے تیرا ہر کتا قطمیر ہوتا

دیکھتا گر کتے کو جنت میں تو کتنا شرم گیر ہوتا
سچ بتا تو بہتر ہوتا یا کتا بے نظیر ہوتا

ایسا کوئی کتا ہی نہیں جو مالک کی حفاظت نہ کرے
انسان ہی ہے سرکش جو خالق کی عبادت نہ کرے

نہ جھکائے سر کو قدموں میں نفس کو بھی ہدایت نہ کرے
پھر بھی گلہ ہم سے تیرا کہ ہماری شکایت نہ کرے

*******[

سورج چڑھا تو نکلا پیٹ کے جنجال میں
گھر آیا تو پھنسا بیوی کے جال میں

سویا تو وہ بھی بچوں کے خیال میں
عمر یوں ہی پہنچ گئی ستّر سال میں

ہوا جب کام سے نکمہ لیا دین کا آسرا
اب کہاں ہے خریدار تیرا بیٹھا جو حسن لٹا

بے شک کر ناز نخرے اور زلفوں کو سجا
وقت تھا جو تیرا وہ تو بیٹھا گنوا

کر کے ذکر چار دن بن گیا زنجہانی ہے
دھوکہ ہے تیری عقل کا جو ہو گئی پرانی ہے

اب کچھ توقع اﷲ سے یہ تیری نادانی ہے
قابل تو نہیں گر بخش دے اس کی مہربانی ہے

ڈوبنے لگا فرعون جب وہ بھی ایمان لے آیا تھا
کر کے دعویٰ خدائی وہ بھی پچھتایا تھا
کر لی توبہ آخر میں وہ وقت ہاتھ نہ آیا تھا
جس وقت کا قدرت نے بندے سے وعدہ فرمایا تھا

*******

ہر شجر با ثمر نہیں ہے ہر بوٹی با اثر نہیں ہے
ہر طفل بہ مکتب نہیں ہے ہر بندہ با شر نہیں ہے

ہر پتھر اصل نہیں ہے ہر فقر عطر نہیں ہے
فرق ہے تجھ میں سارا کہ تیری نظر نہیں ہے

شیشے کو تو ہیرا بنائے تو قصور کس کا
ان آنکھوں کا علاج نہ کرائے تو قصور کس کا

میری ان باتوں پہ یقین نہ آئے تو قصور کس کا
خود بھی کعبہ ڈھونڈنے نہ جائے تو قصور کس کا

*******

رکھ کے کفن سر پہ غاروں میں گھر بنائے بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ ساقی ہم کو ہم تو جگر کھائے بیٹھے ہیں

نہیں ہے خوف مرنے کا ادھر ہی قبر بنائے بیٹھے ہیں
رکھ کے تکیہ اﷲ پر صبر میں آئے بیٹھے ہیں

نہ سمجھ ہم کو شرابی ہم تو زہر کھائے بیٹھے ہیں
رکھ کر خبر زمانے کی بھی اپنا آپ گنوائے بیٹھے ہیں

اس نازنین کا بھی اﷲ حافظ جو ہمارے حق میں آئے بیٹھے ہیں
قسم ہے رب تیری تیری خاطر سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں

خبر نہیں ہے ان کو ہم کیا راز پائے بیٹھے ہیں
کہاں ہیں کیا ہیں اور کیا حال بنائے بیٹھے ہیں

ہو چکا ہو گا ادھر ماتم میرا یہی سمجھ میں آئے بیٹھے ہیں
کیا خبر ان کو تیرے عشق کی قسم کھائے بیٹھے ہیں

لٹا ہی دی جوانی ہم نے آخر تیرے جبلوں میں
نفس کو مارا ہوس کو بھی ان کھبلوں میں
تھی جتنی بھی طاقت آزما دی ان صدموں میں
پھر بھی شبہ ہے تجھ کو میرے ان قدموں میں

*******

کر کے تمام یہ نقطہ عثمان مروندیؒ بھی شہباز ہوئے
شاہ لطیفؒ بھی بری امامؒ بنے باھوؒ بھی پرواز ہوئے

کر کے آغاز ہم بھی یہ دھندا واقف راز ہوئے
رہا تھا گلہ قسمت کا ہم کو جو آج سرفراز ہوئے

ناز تو ہے مگر منتظر دور و افتاد کے قابل نہ تھے
آ گئے اس کی قید میں جس صیاد کے قابل نہ تھے

چھوڑ آئے یتیم جن کو وہ بیداد کے قابل نہ تھے
رل گئیں وہ معصوم جانیں جو فریاد کے قابل نہ تھے

ڈھل گئے وہ سائے کنول کے جو برباد کے قابل نہ تھے
کیا ہے شکوہ ہم سے ہم ان کی یاد کے قابل نہ تھے

قابل نہ تھے ان کی زلفوں کے ہار و سنگار کے قابل نہ تھے
ڈالا ان کو اس پھاہی میں جس دیوار کے قابل نہ تھے

دن رات بہتے ہوں گے آنسو وہ زار و قطار کے قابل نہ تھے
کاش وہ بے داغ دل فراق یار کے قابل نہ تھے

*******

اِدھر تو سرفراز ہے اُدھر سارا جہاں لٹ گیا
تھیں جن کو وابستہ ہم سے امیدیں انکا سارا ارمان لٹ گیا

لٹ گئی ان کی بھی جوانی اور زمین و آسمان لٹ گیا
تھیں ان کے دل میں بھی تمنائیں بہت جن کا کارواں لٹ گیا

یاد نہ کر ماضی کو اے شکستہ دل جب نام و نشان مٹ گیا
کیا قصہ گل یاسمین کا جب وہ گلستان مٹ گیا

ملے گی تجھے کہاں سے وہ خُو جب وہ پرستان لٹ گیا
کیا ہے تعلقہ انسان سے انسان کا جب انسان مٹ گیا

*******
حقیقت کا نظارہ ان جبلوں اور بیابانوں میں ہے
جو دنیا کے مکتبوں میں ہے نہ عبادت خانوں میں ہے

اِدھر کائنات بھی ڈھلتی کارخانوں میں ہے
نہ ملا ایسا سکون کبھی جو ان زندانوں میں ہے

رہ کے بھوکے و ننگے خوش ہیں اسیری پر
سوتے ہیں پتھروں پر کہ مست ہیں فقیری پر

کھاتی ہے ترس دنیا دیکھ کے حال ظہیری پر
ہمیں تو رشک ہے ہو گئے قربان راہ شبیریؓ پر

راضی ہو نہ ہو ہم نے تو اپنا خون بہا دیا
جس کا گلہ تھا تجھے اس پہ ہم نے سر کٹا دیا

چیرا سینے کو انگلیوں سے اور تیرا کلمہ جما دیا
کر کے ٹکرے ٹکرے دل کے اس پہ کعبہ بسا دیا

مان نہ احسان تو ہم نے تو احسان چڑھا دیا
کہ جھکا ہوا تھا سر تیرے محبوب کا جو بلند کرا دیا
*******

خود کو کسی کے ذمہ کر تیرا ذمہ اٹھائے کوئی
بن کے ذمہ دار تیرا تجھے رستہ دکھائے کوئی

کاش میری ان باتوں کو بھی آزمائے کوئی
دین دنیا میں پھر ہرگز نہ دھوکہ کھائے کوئی

ہر عالم بے عمل نہیں ہے ہر بندہ بے عقل نہیں ہے
لٹکا کر داڑھیاں پھر رہے ہیں کئی ہر کوئی اصل نہیں ہے

پردے میں گھومتے ہیں شیطان بہت ہر کوئی بے شکل نہیں ہے
مگر آ جائے کچھ اس کی عقل میں یہ وہ نسل نہیں ہے

یہ تو وہ عمل ہے عاصیوں کو بھی مجیب مل جاتے ہیں
ہوتے ہیں جو بے نصیب انہیں بھی نصیب مل جاتے ہیں

نہیں ہے فرق خواندہ ناخواندگی کا کہ خطیب مل جاتے ہیں
ڈھونڈتی ہے دنیا جن کو ستاروں میں قریب مل جاتے ہیں

پارس بھی اسی میں کیمیا بھی اسی میں
وفا بھی حیا بھی شفا بھی اسی میں
رضا بھی بقا بھی لقا بھی اسی میں
خدا کی قسم خدا بھی اسی میں

*******

کر پرواز بسم اﷲ کہ تو طائر کمال بن جائے
مل جائیں گے صیاد کئی جب طائر حلال بنا جائے

چل جائے گی تکبیر زکوٰۃ کی گر تو جمال بن جائے
چڑھے نہ سورج جس کی خاطر شاید وہ بلالؓ بن جائے

نکل ناقصوں کے چکر سے کہ تو بھی نہ انگار بن جائے
رہ کے نزد خرمن شُعلۂ بجلی کا نہ شکار بن جائے

دیکھ کے انداز جھوٹے کہیں نہ ان کا ہتھیار بن جائے
عبرت لے کہ تو بھی عقل بیدار بن جائے

سن حال ان جھوٹے پیروں اور فقیروں کا اے نادان
پڑھ کے کتابیں سلوک و ملوک کی بن گئے جب رازداں

کسی نے داڑھی سجائی کسی نے زلفیں کھل گئی پیری کی دوکان
چلانے کے لئے دھندا لیا آسرا کھول بیٹھے قرآن

کوئی تقریر و تحریر سے کوئی عقل و تدبیر سے بن گیا خلق کا نشان
کسی نے منہ پہ چادر چڑھائی لگا لئے پیچھے چند انسان

کوئی دے کے روشنی بلب کی چہرے کو بن بیٹھا کرّوبیاں
کسی کو میسر یہ سہولت کہ تھے باپ دادا اس کے سلطان

لنگر بھی جاری کر دیا جو زمانہ شناس تھے
ہونے لگیں محفلیں پھر عام تھے یا خاص تھے

ہوا شہرت میں ایسے اضافہ سخاوت میں جو پاس تھے
ہو گئی حمایت ان کی بھی کہلاتے جو باس تھے

کوئی طالبی میں مصروف ہوا کوئی مریدی میں مقبول
ہو گئے پھر اس کنویں میں آ کے کئی چشمے حلول

سنی جب شہرت ابلیس نے ہو گیا وہ بھی نزول
سمایا ان کے سینوں میں بڑے سلیقے سے رکھ کے اصول

اب ڈھونڈ کر کوئی نقطہ تکمیل ہوئی
بنا کے فرقہ جدا نام کی تشکیل ہوئی

کمی کیا نادانوں کی جن کی تعمیل ہوئی
نکلا قوم کا جنازہ بگڑی جو اصیل ہوئی

گیا جو بھی اس کو طالبی کا رنگ دکھا دیا
کسی کو لگایا حبس دم پر کسی کو بھنگ پلا دیا

کسی کو بتایا کوئی وظیفہ کسی کو ملنگ بنا دیا
پہنچا سکیں گے کیا خاک کسی کو اک ڈھنگ سکھا دیا

آیا ان کے چنگل میں زندگی سے برباد ہوا
آیا جو بے راہ رجعت میں فریاد کیا بے فریاد ہوا

عمر گزاری پہاڑوں میں لا حاصل کتنا بیداد ہوا
آیا ہوش پھر جو استاد تھا بے استاد ہوا

ہم نے دیکھے ہیں طالب ایسے دشت و بیابانوں میں
کر رہے ہیں عمل پورا سیکھ کے آئے تھے جو دکانوں میں

آئی رجعت کوئی بیمار کوئی بے زار کوئی پڑے چنڈو خانوں میں
کوئی دیوانے کوئی مستانے کوئی ہو کے خوار مل گئے شیطانوں میں

*******

یہ تو حال ہے طالبوں کا سن لو مریدوں کا بھی حشر
دے جایا کرو سال و سال نذرانہ ہیں ہم نجات محشر

ہو سکے تو عمل کرو ورنہ کیا بیٹھے جو ہیں ہم وسیلۂ ظفر
کاش ان کو اپنی ہی خبر نہیں تیری کیا رکھیں گے خبر

ڈھونڈنا ہے پیر کو نہ دیکھ پدرم سلطان بود
یہ بھی نہ دیکھ گھوم گھام کر کہ شکل اُو انسان بود

اس کا بھی نہیں ہے یقین کہ تصنۂ مسلمان بود
کر یقین تب ہوں اس کے اعمال جیسے کروّبیاں بود

حریص نہ ہو نفس کا پجاری نہ ہو
اور نبیؐ کی سنت کا شکاری نہ ہو

جھلک ہو اس میں نور کی ناری نہ ہو
رکھ خبر کہ پریشان عمر ساری نہ ہو

واقف ہو راہ قبور حاصل جسے حضوری ہو
جس کی اک ہی نظر سے حاصل تجھے منظوری ہو

یاد کرے دور سے حاصل جسے صدوری ہو
ورنہ نہیں ہے سمجھ تیری منزل پوری یا ادھوری ہو

میسر نہ ہو گر ایسا انسان شافی
پھر تیرے لئے بس ہے قرآن کافی

یہی شفاعت تیری یہی نشان کافی
یہی راہبر تیرا اور یہی سلطان کافی

*******

ہم پر یقین کر نہ کر کر یقین علم اکسیر پر
کر بھروسہ قرآن پر پھر کر یقین علم تکسیر پر

گر ہے شک یا بغض و عناد کر ماتم اپنی تقدیر پر
کہ رہتے ہیں خالی وہ برتن ہوتے ہیں جو الٹے شہتیر پر

نفس کو نہ پہچانا جو ساتھ تھا تیرے بندۂ خدا کو کیا پہچانا
بندۂ خدا کو نہ پہچانا تو محمدؐ مصطفی کو کیا پہچانا

فناہ کو بقا کو لقا کو نہ پہچانا تو عشق خدا کو کیا پہچانا
پہچان نہ سکا جب ان منزلوں کو تو خدا کو کیا پہچانا

سچ ہے نفس نہ ہوتا تو یہ بازار جہان نہ ہوتا
نہ ہوتی حسن پرستی نہ ناز نخرے اور خریدار کفران نہ ہوتا

نہ آتے فرعون و قارون بھی مغلوں کا دسترخوان نہ ہوتا
نہ بنتی دوزخ نار ہرگز گر تیرا امتحان نہ ہوتا

بنایا تھا آدمؑ کو اﷲ نے پڑا تھا جب بت اِدھر
تھوکا تھا عزازیل نے حقارت سے پڑا تھا جو ناف پر
بن گیا وہ کیڑا باطنی لے کر حسد و تکبر
ہوا پیوست انسان سے پھر بسیرت کفر

*******

لے کر ساتھ مصاحبوں کو سکندر بھی تلاش آبِ حیات ہوے
کی عرض خضرؑ سے وہ بھی تیار در بحرِ ظلمات ہوے

پا کے اندھیرا بحر میں ہو گئے خضرؑ سے جدا
خضرؑ کو ڈھونڈا ادھر اُدھر نہ ملی کوئی راہ

آئے تھے ڈھونڈنے زندگی کو دکھایا موت نے نظارہ
ہو گئے مایوس و مجبور ہونے لگا ختم راشن سارا

بھٹک رہے تھے ہو کے پشیمان وہ بے خبر
پی کے پانی آبِ حیات کا آ گئے واپس بھی خضرؑ

ہوے رنجیدہ دیکھ کے حال بیچاروں کا خضرؑ
کہ پانی تو نہ ملا اٹھا لو پاؤں تلے ہیں جو پتھر

ہم تو تھکے ہارے ہیں رہا نہیں تم پر بھی یقین اے خضرؑ
تھے جن کے یقین محکم لیں پتھروں سے جھولیاں بھر

آئے جب روشنی میں دیکھا سب لعل و جواہر نکلے
ہوئی ندامت ان کو خضرؑ سے ہو کے بھی بیزار نکلے

یقین ہی تو کنجی ہے ایمان و عرفان سے
ہوتا نہیں ہے فائدہ بھی کچھ اس کے بغیر قرآن سے

آبِ حیات کیا تھا تھا عمل اکسیر شائد
بحر ظلمات کیا تھا تھا دنیا کا اسیر شائد

پیا جس نے بھی یہ پانی حیات و ممات برابر ہوے
یہ جہاں کیا وہ جہاں کیا چودہ طبقات برابر ہوے

*******

یہ جائے ارادت نہیں ہے اجازت ہے گر ایقان سے پکڑا
نہ ہاتھوں سے نہ باتوں سے یہ شعلہ ایمان سے پکڑا

ہو جائے گا قلب وہ روشن جس پہ آن گرا
ہو سکے گا واقف اسرار حق گر دھیان سے پکڑا

پائی شفا ہم نے آ کے اس شعلے کی لپیٹ میں
کہ یہ نقطہ مرشد سے اور نسخہ قرآن سے پکڑا

بن گئے شاہ محی الدینؒ بھی دادا میرے
چھوڑ کے خاندان اپنا یہ رشتہ عرفان سے پکڑا

ہم نے بھی گزاری تھی زندگی آغوش دنیا میں
آخر پکڑا جو نفس کو دل ناتواں سے پکڑا

سدھارا پھر اس موذی کو بڑے جتنوں سے
ہوا جب انسان پھر ہم کو گریبان سے پکڑا

رکھا تو نے عرصہ تک اس نعمت سے محروم کیوں
نفس ہم سے شاکی ہم نفس سے جب یہ نقطہ ادبستان سے پکڑا
ہو گئے پاک سب جُسے جل کے بت کے سوا
روٹھا بت جو جلنے سے اس کو قبرستان سے پکڑا

اب آنے لگی آواز ہر رگ سے اللہ ھو کی
کہ یہ سکون ہم نے کچھ زمین سے کچھ آسمان سے پکڑا

کیا بتاؤں تجھے کہ دل کی زندگی ہے کیا
ڈال کر کمند ہم نے اس کو کہکشاں سے پکڑا

بن بیٹھے آج ہم بھی طالب مولا لیکن
سلجھے تھے تب جب یہ رستہ اک انسان سے پکڑا

ہدایت ہے انسان کو انسان سے ہی اے کور چشم
کہ وسیلہ انسان نے انسان سے شیطان نے شیطان سے پکڑا

*******

پڑا ہے بت اِدھر لٹکی ہے جان اُدھر
دے رہے ہیں سجدے اِدھر وہم و گمان اُدھر

لکھتے ہیں سیاہی سے پڑتا ہے لہو کا نشان ادھر
بود و باش اس جنگل میں زندگی کا سامان ادھر

ٹپکے آنکھوں سے آنسو دو چار بن گئے دُرِّ تابان ادھر
پھڑکا جب دل کبوتر کی طرح ہو گئے فرشتے حیران ادھر

آگئے رشک میں کاش ہم بھی ہوتے انسان ادھر
یہ تو وہی خستہ حال تھا جو ہو گیا سینہ تان ادھر

کہا بت کو چل اس دنیا سے کہ بن گیا مکان ادھر
یہ تو اک دھوکہ تھا پڑا ہے جو بے سر و سامان ادھر

نکلی روح سیر کو یہ تو اک ڈھانچہ رہ گیا
نہ ہل سکا نہ جل اک بے بس سانچہ رہ گیا

چلے گئے بیچنے والے یہ تو خالی خوانچہ رہ گیا
تھا یہ بھی کچھ ان کے دم سے جو اک طمانچہ رہ گیا
نہ کر شبہ چور بھی اوتاد و اخیار بن بیٹھے
آئے جو پارس کے ہاتھوں خود ہی سرکار بن بیٹھے

مارا نفس کو اور حق کے خریدار بن بیٹھے
حق نے لیا گر سوکھے کانٹے بھی گلزار بن بیٹھے

*******

فقر میں جو بھی آیا پہلے تو معیوب ہوا
ملا نہ جب تک کچھ درجہ محجوب ہوا

پڑی تجلی گر ٹوٹا عقل تو مجذوب ہوا
گر رہا ثابت قدم اس وقت تو محبوب ہوا

آتا ہے جو بھی پہلے تو وہ بے کار ہوتا ہے
پڑتا ہے جب امتحانوں میں تو وہ خوار ہوتا ہے

گر چل پڑے بے طریقہ پھر وہ بیزار ہوتا ہے
ملتی ہے یہ منزل اسے جو شریعت میں ہوشیار ہوتا ہے

*******

آئے تھے جس طرح اسی پہ گزارہ کر بیٹھے
خریدا نہ سامان کچھ اک سہارا کر بیٹھے

لذت دنیا کو بنایا سامان آخرت بس
نفس کی تمنا میں مسجدوں سے کنارا کر بیٹھے

پوچھا آغا جی سے آتی ہے کوئی صلوٰۃ تمہیں
سمجھے نہ جس قرآن کو اس کا بگاڑا کر بیٹھے

پیٹ بھرنا خالی کرنا کام ہے ان کا اتنا
پوچھی جو مسجد کی بیت الخلا کا اشارہ کر بیٹھے

دل میں ہے یہی تکیہ کہ ہیں ہم مومن و مسلم
ہیں یہ بھولے جانور جو ہڈیوں کا نظارا کر بیٹھے

جی رہے ہیں دیکھ کے ہڈیوں کو جن میں تاثیر نہیں
سمجھیں گے کیا وہ درندے جو مذہب کا پھاڑا کر بیٹھے

جن کی آستینوں میں چھپا ہوا ہے ناگ عزازیلی
نہ چھیڑ ان سپیروں کو جو ماتم گوارا کر بیٹھے
ان کے کیا کہنے مُلّوں کا بھی کچھ حال نہیں ادھر
رہ کے نور خرمن میں خرمن کو انگارہ کر بیٹھے

کہاں سے ملے خوشبو اب ان مسجدوں سے
نمازی کیا مُلاّ بھی جہاں فتنوں پر گزارہ کر بیٹھے

نہیں رہی تاثیر قرآن میں بھی کہ بے زار ہے
جس کے معنوں کو الٹ پلٹ کر کھارا کر بیٹھے

سونپا تھا دین و گھر اللہ نے ان مُلاّؤں کو
یہ ڈوبے حلوے میں اور شیاطین ابھارا کر بیٹھے

کیا رہا شکوہ اللہ کو اس آدمیت سے
جو ہو کے آدمی فرعونیت میں شمارا کر بیٹھے

مسکینوں کی بھی عاجزی کچھ عجیب ہوئی
یہ بھوکے ننگے و پیاسے رب سے تکرارا کر بیٹھے

چھپ گئی کہکشاں بھی اس خاموش آسماں سے
تھے جو مصنوعی سیارے خود کو درخشاں ستارا کر بیٹھے
*******

اس زندگی سے گئے پایا جب سراغ زندگی
پایا پھر وسیلۂ ظفر مٹایا جب داغ زندگی

نکلے پھر دنیا کے اندھیرے سے جلایا جب چراغ زندگی
دھویا آنسوؤں سے قلب کو بسایا جب باغ زندگی

نکلا اس چمن سے طائر لاہوتی اور کیا نباض زندگی
ہوئے جب قبر و گھر یکساں اور کیا فیاض زندگی

زندگی میں ہی دیکھا یوم محشر اور کیا بیاض زندگی
پیا خون جگر خاطر حق اور کیا ریاض زندگی

*******

ہو کے ذبح خون عرش تک پہنچا تحت یثریٰ تک نہ پہنچا
کر کے پرواز یکدم یہ روح کعبے تک پہنچا خدا تک نہ پہنچا

نہیں ہے دل کو تسکین اے ریاض فنا تک پہنچا التجا تک نہ پہنچا
پی کے پانی آب حیات کا بھی قضا تک پہنچا بقا تک نہ پہنچا

ہیں یہ طریقت کے گرداب لمبے ثنا تک پہنچا شنا تک نہ پہنچا
سچ تو یہی ہے تیری سزا تک پہنچا سخا تک نہ پہنچا

نہیں ہے منظور بہشت تیری یہاں بھی تیری بقا تک نہ پہنچا
کیا دلچسپی حور و قصور سے جب یہ دل شفا تک نہ پہنچا

*******

آتے رہیں گے غوث و قطب ہے جب تک یہ جہاں باقی
مٹ نہ سکے گا یہ کارواں ہے جب تک قرآن باقی

رہتے ہیں ہر وقت تین سو ساٹھ یہ اولیاء اللہ
ان ہی کے دم سے ہے اس دنیا میں ایمان باقی

ابدال اوتاد اخیار زنجبا و نقبا بھی ہیں
ان کے ہاتھوں میں ہے اس دنیا کا اجرائے فرمان باقی

یہی ہیں دنیا کا نظام چلانے والے دراصل
ان ہی کی برکتوں سے ہے مہیا قدرت کا احسان باقی

گر ہو زیادتی مجذوبوں کی رہتا ہے دنیا میں فساد جھگڑا
گر آ جائیں سالک پھر رہتا ہے دنیا میں امن و امان باقی

اکٹھے ہوتے ہیں کعبے میں یہ سارے موقع حج پر
آتے نہیں نظر ماسویٰ ہے جن کی نگاہ عیاں باقی

ہے یہ محکمہ باطنی رسولؐ کریم کی پولیس کا
رہتے ہیں انکے علاوہ بھی کئی عاشقان رحٰمن باقی

قسم ہے گر یہ دنیا ہو جائے محروم ان کے قدموں سے
بن جائیں جبلات دھواں نہ رہے اس زمین کا نشان باقی

*******

ہوئی سالاری شمرے کی ہوا پھر نبض مسلمان کو بھی خطرہ
بن گئیں مسجدیں فیشن ایبل ہوا ان کے ایمان کو بھی خطرہ

آگئے پھر خطیب ماڈرن ہوا قرآن کو بھی خطرہ
آگیا گر مہدی کوئی ہوا اس کی جان کو بھی خطرہ

لگ گئے عَلم چنڈوخانوں پر ہوا حسینی نشان کو بھی خطرہ
آئی صدی کیسی ہوا مسلمان سے مسلمان کو بھی خطرہ

کر گئی سائنس ترقی ہوا زمین سے آسمان کو بھی خطرہ
منٹوں میں بدل گئی تقدیریں ہوا خلقت سے سلطان کو بھی خطرہ

چپے چپے پہ راہزن دین کے ہوا نبی کی شان کو بھی خطرہ
نہ لکھ بے دھڑک اے گوھر شاہی ہوا تجھ انجان کو بھی خطرہ

آگئے نشیلے مریض ہوا طبیب کی دوکان کو بھی خطرہ
ہوئے لٹیرے قاضی بھی ہوا امن و امان کو بھی خطرہ

چڑھائی عینک علم کے اندھوں نے ہوا حدیث و قرآن کو بھی خطرہ
بن گئے طبیب پڑھ کر قصے ہوا حکمت لقمان کو بھی خطرہ

دینے لگیں بانگیں مرغیاں ہوا مرغے کی کمان کو بھی خطرہ
ٹوٹنے لگے عہد و پیما ہوا عالموں کی زبان کو بھی خطرہ

بن گئے رسے ریت کے ہوا جادہ پیماؤں کی پروان کو بھی خطرہ
آئی نئی مشینیں نئے انڈے ہوا دین عربستان کو بھی خطرہ

ہو گئیں برہنہ بیبیاں ہوا ان کی آن کو بھی خطرہ
نہ خبر حلال و حرام کی ہوا طفلِ نادان کو بھی خطرہ

ہو گئے منسلک بندے کتوں سے ہوا شیطان کو بھی خطرہ
نفرت ہے اسے کتوں کی بو سے ہوا اس کے امتحان کو بھی خطرہ

*******

جس حال پہ رکھے تو اسی پہ ہیں شاداں ہم
دکھتا رہے فقط نام تیرا ہوئے جس پہ قربان ہم

رل کر اس مٹی میں ہو گا نہ زباں کو شکوہ تیرا
ہو گئے نام لیواؤں میں تیرے اسی پہ نازاں ہیں ہم

نہ کر شبہ اے آسمان ان گیسوؤں پر ہمارے
تمنا نہیں ہے کچھ بھی اسی کے دیدار کو گریاں ہیں ہم

کھا نہ غم تو دیکھ کر خون جگر کو
یہی پیالہ ہے بیٹھے ہیں دینے کو جسے ترساں ہم

قسم ہے تجھے سخی شہبازؒ کی اے لعل باغ
گواہ رہیو بیٹھے ہیں عرصے سے بے گور و کفاں ہم

رس چکا ہو گا پتے پتے میں تیرے سوز عشق
رکھنا سنبھال کے امانت میری بنائیں گے کبھی گور لرزاں ہم

سمجھے گا کیا میری داد و فریاد کو یہ زمانہ
یہ تو اک عجز تھا کر بیٹھے جسے افشاں ہم

آتا نہ تھا دل کو چین کبھی نہ کبھی اے ریاض
یہ بھی اک مرض تھا بنا بیٹھے قلم کو رازدان ہم

*******

جل جائے وہ اناج خرمن ہو نہ میسر جس سے طعام
کیا ناز اس ہم نشین پر ہو نہ سکے جس سے کلام

کیا فائدہ اس طبیب کا کر نہ سکے جو علاج تمام
خطرہ ہے اس مُلاّ سے بھی ہے جو دین میں خام

کم بخت ہے وہ عالم لے نہ سکا جو باطن سے اکرام
کیا ہے عبادت اس متقیٰ کی حاصل نہ ہو جسے زندگی دوام

آیا کوئی جہل فقر میں بے کامل ہوا ابلیس کا غلام
نہیں ہے بھروسہ اس فلسفی کا ہاتھوں میں ہے جس کے جام

ہو جا علیحدہ اس پیر سے کر نہ سکا جو نفس تیرا رام
کہ ہوتے ہیں جو لعل ہیرے رہتے ہیں سمندروں میں گمنام

ہے یہ کلید باطنی اور ظاہری میں ہمارا پیغام
کھل جائیں گے احواس تیرے دیکھتا رہا جو صبح و شام

بند ہے اس میں روح ہماری ہو جائے شائد تجھ سے ہمکلام
گر ہے یقین راسخ تیرا چھٹ جائے گا اک دن قید زمام

*******

کر کے عمر ضائع پوچھتا ہے اب راہ شبیرؓ کیا ہے
کیا ہے جنازہ تقدیر کا اور راہ تکسیر کیا ہے

کون سی وہ زندگی ہے کہ حلال ہو جاؤں
ملتی ہے وہ چھری کس کوچے سے اور تکبیر کیا ہے

کہتے ہیں بازار مصطفی بھی ہے اس جہاں میں
خریدار ہے خدا جس کا بتا وہ عمل اکسیر کیا ہے

ہٹ جاتے ہیں حجاب دل کے جس کی دید سے
ہو گئے نابینے بھی محرم بتا وہ سرمہ ضمیر کیا ہے

جس کی کرن سے ہیں نور افشاں قبریں فقیروں کی
ہیں یہ شاخیں جس شجر طوبیٰ کی بتا وہ بدر منیر کیا ہے

ہو نہ پریشان پیارے ہے کچھ ارادت تو سن
بازار مصطفی یہی عمل تحریر ہے اور تقریر کیا ہے

آزما لے تو بھی گوشت کے لوتھڑے کو ہے جو دل
آئے خبر یہ دل کیا تو کیا اور تقدیر کیا ہے
ہوا نہ جب تک غوطہ زن اس دریائے توحید میں
سمجھے گا کیا شان فقر ہے کیا اور سلسلہ دستگیرؒ کیا ہے

*******

نہ چھیڑ قصہ باد نکہت کا ویرانے میں اے دیوانہ دل
ڈھونڈ نہ تو شہر خموشاں میں وہ شہنشائیاں اے مستانہ دل

رکھ نہ تمنا کچھ ان لاشوں سے ستاروں کے علاوہ
تھا بے شک خاکی تو ہو گیا اب جو عرشیانہ دل

نہ رکھ امید اس ہم سفر سے کچھ اے محبوبہ
تھا جو کبھی شیدائی تیرا تھا وہ پرانا دل

نہ رکھ تو بھی آس کوئی اے میری جنت
پالا تھا تو نے آغوش میں ہو گیا وہ بیگانہ دل

بنا کے لحد میری رو لینا دو چار دن
تھا جو سپوت تیرا مٹ گیا وہ فسانہ دل

کر دینا بھرتی یتیم خانے میں بھی ان کو
کہ مر گیا باپ ان کا ڈھونڈتے ڈھونڈتے خزانہ دل

کیا دیکھو گے میرا حال فقیری اور حال ظہیری
ملتی نہیں بت کو اجازت ہو گیا وحشیانہ دل

ٹک گئی نظر اس کی اک دور دربار پر
مڑے گا نہ کبھی جلے بغیر یہ پروانہ دل

کر بیٹھا عشق اک بے پرواہ سے انجان یہ
تڑپتا رہے گا بھٹی میں برسوں یہ خاقانہ دل

آ جائے باز ضد سے نہیں ہے ممکن اے ریاض
کہ دے چکا ہے تحریر سمیت گواہاں یہ جلالانہ دل

*******

آیا تکبر میں گر کوئی عابد و زاہد ہوا بے شک تباہ
یاد آیا نماز میں گر دنبہ ہے وہ بے راہ

منافق ہے وہی آیا جو بے شرع فقر محمدی میں
ہوا پیر غوثی قطبی کے علاوہ ہے یہ بھی کبیرہ گناہ

الجھا جاہل گر مسئلوں میں گیا دین حق سے
دیکھا نہ قرآن زندگی میں یہی ہے شرک خدا

بنا مرشد کے مولوی ہو نہیں سکتا مولائے روم
کہ باطنی علم کے بغیر مولویت ہے فتنہ بڑا

ہوا جو بھی نفس و زن کا مرید وہ
کچا ہوا زبان کا ہوا ایمان سے بھی جدا

رہا شبہ جس کو اولیاء انبیاء پر
ہوا فیض و رشد سے محروم وہ خیرہ نگاہ

ہوا جو عالموں کا دشمن دین و نبی کا دشمن
نور ہے درخشاں یہ ہو نہ گر باطن سے جدا
کیا عمل گر بقائے دنیا کی خاطر
ہوا محدود دنیا تک مرا خالی گیا

کر عمل وہ ہو جو سہارا آخرت بھی
نہیں ہے بہتر کوئی عمل اکسیر کے سوا

ہے یہ طریقہ محمدیؐ قبضے میں غوث پاک کے
چشتی نقشبندی و سہروردی ہیں سب اس کے تلے سایہ

ہے جہاں سے ابتدا اس کی ان کی وہ انتہا
ہے گر مقصود منزل لے لے اس کی آغوشِ پناہ

ہوتا نہیں وہ خالی ہے جو وابستہ اس سلسلے سے
ابھرے ر پڑھا جب دل نے یا شاہ محی الدین شیاءً للہ

بن بیٹھے ادھر کئی چرا کے راز قادری
پائے گا حق بات میری ملا نصیبے سے کامل رہنما

*******

سوچا تھا اک دن ہم نے یہ وجہ تنزل کیا ہے
رہتے ہیں سرگرداں ہر دم یہ زندگی بے منزل کیا ہے

کون سی خامی ہے وہ رہتے ہیں پریشان ہر دم
سدھر جائے جسں دین و دنیا وہ عمل کیا ہے

جھانکا جو گریبان کو نظر آئیں ہزاروں خامیاں
روئے بہت آیا جو سمجھ میں مقصد اصل کیا ہے

نکلے پھر ڈھونڈنے رہنما کو اس اندھیر میں
بھٹکتے رہے برسوں سمجھ نہ تھی پیر اکمل کیا ہے

لی بیعت پہلی ہم نے بدست پیر دیول شریف
ہوا نہ فیض کچھ نہ سمجھے تھے وہ یہ تمنا دل کیا ہے

لے کر اجازت ان سے کیا رخ پھر گولڑے کا
سمجھ نہ سکے وہ سجادہ نشین یہ نسل کیا ہے

ہوئے بے زار گدیوں سے لیا سہارا خانقاہوں کا
کہا جام داتار نے نچھاور ہیں گل ہزاروں تو گل کیا ہے
ہوئی مایوسی بڑی دیکھا جو تقدیر کو اتنا بے محمل
سوئے ہوئے تھے کہا بریؒ نے اٹھ بتاؤں تقدیر رمل کیا ہے

ڈھونڈ رہا ہے تو جسں نقطے کو تہہ دل سے
چھوڑ دے دنیا یہ کہ بتاؤں اس کا حل کیا ہے

چھپ کے دامن میں باطنیوں کے سیکھا کچھ علم لدّنی
آ بتاؤں تجھے بھی دنیا میں اصل اور نقل کیا ہے

*******

کہا نفس نے کھائیں گے آج چاول کچھ
کہا دل نے اے بیٹے چنوں پہ ہی گزارہ کر

گھومنے دے آج ہم کو پرستان میں کسی
کہا دل نے قبروں میں ہی گھوم گھام کے گزارہ کر

دیکھنے ہی دے کسی حور کو او ظالم
کہا دل نے ان مینڈکوں کا ہی نظارہ کر

ہوا پریشان نفس دیکھی جو حالت ناتوانی
بلایا ابلیس کو کچھ تو مدد دوبارہ کر

دے رہا ہے عذاب مجھے بھوک و پیاس کا یہ
خستہ حالی پہ میری اب ماتم نہ گوارا کر

جلتا ہوں میں نور ایمان سے پھر بھی
نصیحت ہے میری اندر پھر شور شرارہ کر

کروں گا مدد تیری ہوا جب تک ممکن
رکھ کے تلاش موقع کی پھر ہمیں پکارا کر

لگا نہ دھبہ نفسانیت پر ہرگز جانی
ہم تیرے تو ہمارا اس کو بھی ہمارا کر

*******

ملا جس سے ایمان کچھ گرا وہ ثاقب شہاب تھا
لرزی مٹی جس کے خون سے وہ محافظ نور کتاب تھا[
اٹ گیا پھر دھول میں وہ مرغ لاہوتی
کر نہ سکا پرواز پھر تشنہ دنیا و مآب تھا

ہو گئے پھر پیوست اس کے بیضے خاک سے
ہوا پھر وہ بھی خاکستر جو شعلۂ آفتاب تھا

سمائی اس میں وہ بو آئی پھر وہ خو
بھولا سبق وہ لایا جو ٹکڑا نصاب تھا

ڈھونڈ کے آسان حیلہ مذہب میں ترمیم کی
نکلے پھر حیلے کئی ملا و مفتی بے حساب تھا

کچھ اہل سنت سے جدا کچھ شریعت سے دغا
اکھاڑ پھینکا ان شاخوں کو کہ ان میں حجاب تھا

کہا جہلوں کو پھر ہیں ہم ہی شافعی امت
آئے ریا کار کئی کہ عمل مسلم جو کمیاب تھا
وہ مذہب ہوئے تھے حسینؓ قربان جس کی طرح
ہو گیا مدفون اب شناس حق جو نایاب تھا

*******

کہا سائنس نے میں عقل و تدبیر تیری اے بے ریا
بولی روحانیت میں قسمت و تقدیر تیری اے ناخدا

یہ رفتار دنیا میرے دم سے ایٹمی دور میرے قدم سے
یہ ٹیلی سلاسل یہ کاریں اور سیارے میرے رزم سے

سکھائی میں نے انسان کو تہذیب اور سکھایا علم جہاں
سکھایا پھر اس کو ہنر میں نے پہنچا یہاں سے وہاں

حکمت میں ہاتھ میرا سپاہت تک میرا ہاتھ ہے
لے کر جراحی سے تیری سلطنت تک میرا ہاتھ ہے

کاشت کی زمین میں بھی لیتے ہیں کام مجھ سے
گدا سے لے کر شاہ تک ہیں سبھی غلام مجھ سے

بنایا فضا کو پاؤں تلے چاند کو بھی پاؤں تلے
رہا روشن نام اس کا آیا جو میرے پرچم تلے

نسواں کو بھی دی آزادی اور کلبوں میں نچایا
پڑھ کے سبق میرا اس نے تجھے الو بنایا

میں ہوں رواں دواں اس دنیا کی تقدیر بیشک
ہوا جو بھی منکر میرا پڑی اس کو دنیا کی زنجیر بیشک

ہے بیشک زنجیر تو تدبیر تو ہیں جو روحانیت سے خالی
رہتا ہے اس کا قدم سر تو ہوتا ہے جو میرا سوالی

تیرا نشانہ چاند تک بحر تک یا زمین تک
میرا مرغ رہتا ہے سدا عرش بریں تک

مشرق و مغرب میرے قدموں میں جب بھی چاہوں
چودہ طبقوں کا کشف میری نظر میں تجھے کیا بتاؤں

تیرا سیارہ گر مریخ پر میری نظر لوح محفوظ پر
تیرا رابطہ برقی رو سے میرا سلسلہ تجّلئ نور پر

تیری یہ بتیاں زمین پر جن کی روشنی پائے گل تک
میری کہکشاں آسمان پر پڑے تو تہہ دل تک

ہے تو محتاج میری گر ایمان و انصاف سے سوچے
پانی سے رو تیری تیل سے سیارہ ہوا سے آواز روکے

پلا جو تیری آغوش میں بے شک دنیا میں شاہ ہوا
ہوا جو وابستہ مجھ سے وہ اک دن باخدا ہوا

*******

نہ تاثیر گفتار نہ طاقت رفتار نہ عروج کردار تیرا
نہ خوف قبر نہ یاد خدا تیری یہ مسلمانی کیا ہے

پڑھ کے کافر اک ہی بار لاالہ ہو گیا خلدی
نہیں اثر دھڑا دھڑ لاالاؤں سے یہ ناتوانی کیا ہے

مال مست حال مست ذال مست بن نہ سکا لعل مست
بیٹھے ہو آڑ میں دین کی یہ سبق بے ایمانی کیا ہے

نہ شب بیدار تو نہ پرہیز گار تو نہ حق دار تو
سمجھتا ہے خود کو مومن اور نادانی کیا ہے

شکم سیری میں دعویٰ فرعونی فاقہ کشی میں ہوسگانی
فریاد نکلی مصیبت میں بھی نہ اور کبر نفسانی کیا ہے

کھاتا ہے بیل بھی سوتا ہے بیل بھی طرز تو
نہ وہ نمازی نہ تو نمازی پھر فرق جسمانی کیا ہے

مارا گیا ابلیس اک سجدہ نہ کرنے سے
منکر ہی منکر تو سجدوں کا پھر تکیہ رحمانی کیا ہے

پڑھا کلمہ رسماً ہوا مسلمان رسماً آیا ایمان رسماً
نہ مانے احکام فرقانی پھر یہ ورق گردانی کیا ہے

بہلاوہ ہے دل کو یارو دھوکہ مذہب کو یارو
مانی نہ گر تاج پوشی پھر گل افشانی کیا ہے

کہا یاروں نے نہیں فائدہ کچھ مُلاّ سی عبادت کا
نبیڑ اپنی تو ان سے کیا یہ بہانہ شیطانی کیا ہے

کہتے ہیں پھر ہے عبادت دلوں میں ہمارے پوشیدہ
ہیں جو پوشیدہ دل تو کیا جانے ان کی زندگانی کیا ہے

کہا دل نے اللہ ھو ملا ثواب بہتر ہزار قرآنوں کا
ہوا ھُو سے پھر باھُو کاش سمجھے تو ذکر سلطانی کیا ہے

دل تو ہے اک لوتھڑا ہو نہ گر لطیفۂ قلب زندہ
باہر ہے عقل سے بات تیری کہ لطیفۂ انسانی کیا ہے

آتا ہے جب حرکت پہ یہ سینے میں ذکر سے
عش عش کرتے ہیں کرّوبیاں کہ مقام لامکانی کیا ہے

*******

کہا اقبالؒ نے درد دل کے واسطے آیا آدمی
سمجھے تھے ہم شائد اقبالؒ سے کچھ بھول ہوئی

گومتے رہے ہم بھی عرصہ تک ان گردابوں میں
ہوا جب دل کو درد پھر زندگی کچھ حصول ہوئی

یہ حیلۂ نفس تھا بت میں بھی ہمارے
سمجھا جب نفس کو دل کو تازگی قبول ہوئی

آگئے تھے اول اول رجعت میں پا کر یہ سبق
سمجھایا جو حق باھُوؒ نے کچھ عقل دخول ہوئی

نہ خدمت سے نہ سخاوت سے ہوا کوئی تغیر
ہوا جب ذکر قلب جاری کچھ روشنی حلول ہوئی

*******

رکھا جس نے بھی صبر اس کا مقام انتہا ہوتا ہے
کہ نہیں ہے جن کا آسرا کوئی ان کا خدا ہوتا ہے

ہوا گر برباد راہ حق میں وقت جوانی
وہی ہے بایزیدؒ جو پتلا وفا ہوتا ہے

مارا گر ہوس و شہوت کو رہ کے دنیا میں
وہی ہے طالع قسمت جو اک دن باخدا ہوا ہے

کی گریہ زاری گنہگار نے کسی وقت پیشمانی
کبھی نہ کبھی وہ بھی کعبے میں سجدہ گراں ہوتا ہے

ہوا گناہ سرزد غلبۂ نفس سے اگر
ہے وہ قابل بخشش جب آدمی فنا ہوتا ہے

مگر نہیں ہے ہرگز وہ عابد لائق جنت
جس میں غیبت بغض یا کبر و اَنا ہوتا ہے

ہوا تھا ابلیس بھی ملعون اسی کبر و اَنا سے
دشمن ہے وہ ناسمجھی میں بندہ اس کی رضا ہوتا ہے

ہوتی ہے اس کی ہاتھا پائی ہیں جو عالم و عابد
ڈال کر چپکے سے نفاق ان میں پھر فرار راہ ہوتا ہے

بڑھتا رہتا ہے نفاق بھی ساتھ ساتھ نمازوں کے
آخر بن کے کوئی غلام احمد یا غلام اللہ رونما ہوتا ہے

ایک لاکھ اسی ہزار زنّار ہیں اس کے نفس پر
ٹوٹتے نہیں وظیفوں چلوں سے بیشک کبڑا ہوتا ہے

ٹوٹ سکتے نہیں زنّار یہ کامل کے علاوہ
ملی جس کو یہ نعمت وہی نورالہدیٰ ہوتا ہے

ملے کوئی خالص کود جا بیشک بحر فقر میں
ورنہ شریعت سے بھی کچھ نہ کچھ دل صفا ہوتا ہے

پکڑا شریعت کو کر کے پاک قلب آلود زدہ
مل جاتا ہے در توبہ جب آدمی بانگِ درا ہوتا ہے

سکونِ قلب خواب جنت خیال حوراں شریعت میں
طریقت میں آدمی قبل از موت سوئے خدا ہوتا ہے

سستا نہیں ہے مقام یہ حاصل ہو جو اس زندگی میں
ہوا جو مر کے زندہ وہی قبور شنا ہوتا ہے

یہی ہے طریقت میں پہلا قدم بزور شرع بغور اکمل
لگتے ہیں پھر بارہ سال اور تب حدود لاانتہا ہوتا ہے

رب اس سے راضی وہ رب سے ہوا نہ گر ساکن راہ
کہ مقام فقر ہے دور بہت جو نورِ خدا ہوتا ہے

اڑنا حجاب ہوا پے چلنا حجاب فرشتوں سے ملنا حجاب
ہیں یہ سب ہیچ مراتب فقر کا روبرو لقا ہوتا ہے

اس کی نظر نظر خدا اس کا فرمان بھی فرمان خدا
خدا نہیں جدا بھی نہیں کہ وہی نائب خدا ہوتا ہے

کود کے اس بحر میں پائے یہ اسرار ہم نے
کہ رہتا ہے جوبن میں وہ شیروں کا بھید پا ہوتا ہے

ہو جائے گر اس کی دوستی شیروں سے زور قسمت
ہر محفل میں ہر منزل میں ان کے ہمراہ ہوتا ہے

*******

جب کوئی سالک جنون عشق میں مبتلا ہوتا ہے
کر دیا جاتا ہے قتل جب عاشقِ خدا ہوتا ہے

ہو جاتی ہے اس کی جزا لازم جو خون بہا ہوتا ہے
فرماتے ہیں رب پھر میں اس کا وہ میرا دلربا ہوتا ہے

*******

اب سن قصہ شیطان کا ہے جو تجھ پہ غلبہ جما
روکتا ہے اس قلم کو بھی کہ میرا پردہ نہ اٹھا

عقل میں تجھ سے ابتر علم میں عیاری میں بھی
پل رہا ہے تیرے شکم میں جس کا جاسوس بچہ

کرتا ہے گر اس کا مقابلہ تو راہ حق میں
تجھ میں بھی ہو علم کچھ نہ کچھ تو اس سا

ہو تجھ میں بھی پہچان حق و باطل کی وگرنہ
ہو گئے خاکستر اس کی ایک پھونک سے کئی سورما

کبھی تو آئے گا بن کے پیر تیرا یا فقیر کوئی
کہ تو ہے منظورِ نظر تجھے نمازوں سے کیا

کبھی کہے گا پی لے بھنگ ہے یہ شراب طہورا
دے کے عجیب و غریب چکر کرے گا تجھے گمراہ

روکے گا اس عبادت سے ہے جو تاثیر دل
لگ جاتی ہے آگ اس کو کرتا ہے کوئی اکسیر روا

آتی ہے پھر فوج در فوج ہنود کی بندش کے لئے
آیا نہ باز ان سے ہوتا ہے پھر بذات خود رونما

کسی کو ڈالا رجوعات خلق میں ہو گئی برباد محنت
کسی کو دیا شریعت سے چھڑا دکھا کے مصنوعی خدا

دیکھا کئی طالبوں کو اس رجعت میں ہم نے
جو دیکھ کے مصنوعی نظارے بیٹھے ایمان گنوا

نہ دیکھی اوقات اپنی نہ دیکھا وہ خاکی جُسہّ
نہ سمجھی بات یہ بن گئے شباشب اولیاء

آسکتا ہے شکل میں درباروں اور ستاروں کے بھی
نہ سمجھ سکے جسے وہ کہ ہے یہ حقیقت کیا

پہلے تو پکڑ اس جاسوس کو کہتے ہیں جسے نفس
آ نہ سکے گا گرفت میں نہ کر فقیری میں عمر تباہ

ادھر تو چاہیے علم و حلم اور دل کشادہ جانی
پھر صبر و رضا اور مرشد جو ہو راہوں سے آگاہ

تین شکلوں میں آسکتا نہیں نبی کعبہ اور قرآن کی
ہو گر ایسا نہ رہے پہچان حق و باطل کی راہ مصطفی

*******

آئی غنودگی جب عشق میں گرے زمین پر
پایا بے حس کوؤں نے آئے دیدار آدم

کہا ایک نے ہے کوئی اسیر محبت
یا موالی ہے یا کوئی بیمار آدم

پیاسا ہے یا مر گیا مسافر شاید
کہا دوسرے نے ہو گا کوئی مکار آدم

بنایا ہے بہانہ اس نے طائروں کو پکڑنے کا
پاس نہ جانا اس کے کہ ہے ہوشیار آدم

کیا کہے گا ہمیں پاسباں ہیں لال باغ کے
کرتا ہے حرام یہ ہوتا ہے جدھر نمک خوار آدم

مرتے مرتے بھی باز نہیں آتا یہ حرکتوں سے
بستے ہیں درندے کئی ہے عجب خونخوار آدم

کر رہا تھا یہ اﷲ اﷲ سویرے سویرے
کہا دوسرے نے اﷲ اﷲ ہی ہے شکار آدم

داڑھی ہے اس کے منہ پر شکل مومنانہ
آئی آواز یہی ہے ترقی رفتار آدم

تھے ہوش میں ہم سن رہے تھے بات ان کی
ہوئے حیران بہت کہ ہیں مردار بھی بیزار آدم

*******

چاند ابھرتا ہے ہمیشہ ڈوب جانے کے بعد
آیا دل کو سکون خون جگر پلانے کے بعد

بہشت بھی ملی دل کے بجھ جانے کے بعد
پایا اک نقطہ کتنے نقطے مٹانے کے بعد

کہا مرشد نے خام ہے گھر بار چھڑانے کے بعد
آئی دل میں پختگی اپنا کفن اٹھانے کے بعد

رلتے رہے ویرانوں میں ہوش و حواس گنوانے کے بعد
کبھی شاداں کبھی نالاں عشق کی مار کھانے کے بعد

ہم عشق میں برباد وہ برباد ہمارے جانے کے بعد
ہوئی عشق کو تسلی کتنی جانیں رلانے کے بعد

آئے یاد بچے آیا صبر آنسو بہانے کے بعد
نہ رہی طاقت گفتار اب یہ دکھڑا سنانے کے بعد

بہتر ہیں جو بن گئے اولیاء کچھ خواب آنے کے بعد
کر دی تحریر ہم نے دین دنیا آزمانے کے بعد
ہو جائے شائد پاک دل تیرا یہ دوا کھانے کے بعد
ہے جو تریاق نوری سمجھے گا شفا پانے کے بعد

پچھتائے گا اک دن ضرور یہ تصنیف ٹھکرانے کے بعد
ہے جو منظور نظر و اذن محمدؐ حال پیمانے کے بعد

نہ رہے گی حاجت کسی کامل کی یقین جمانے کے بعد
کیا عمل جاری پہنچ جائیں گے بلانے کے بعد

بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیش لفظ
حضراتِ محترم !کائنات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے وقتاًفوقتاً ہدایت کے لئے پہلے تونبی بھیجے اور نبی الاخرزماں احمد مصطفی ﷺکی آمد کیساتھ ہی نبوت کے دروازے بندکردیئے ۔اس کے بعدسرکار کی ظاہری باطنی تعلیمات کی روشنی میں خلفائے راشدین،امام الواصلین ،مقتداکاملین کادورشروع ہوتاہے جوامت کی رہبری فرماتے ہیں ۔اسکے بعدولایت کا دورشروع ہواجوآج تک جاری ہے۔
ہر دور میں امت کی رہبری و اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے کچھ بندے مبعوث کرتا ہے۔جو اپنے ظاہری و باطنی تصرفات کے ذریعہ امت کے بھٹکے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ابتداء میں تواکثر بندے دنیا سے ناطہ توڑ کر اپنے حقیقی رب سے ناطے جوڑنے دنیا سے دور عبادات ، ریاضات ، مجاہدات کے لئے جنگلوں میں نکل جاتے ہیں۔ تاکہ دنیا کا کوئی عمل ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے ان میں بعض تو اسی کے حصول میں اپنی زندگی جنگلوں کی نذر کرجاتے ہیں اور کچھ خاص بندوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ تکمیل کے بعد شہروں میں خلق خدا کو ظاہری و باطنی فیض پہنچانے کے لئے تعینات فرما دیتا ہے۔ تکمیل کے بعد جب بندہ کسی بندے پر کامل نگاہ ڈالتا ہے تو اس کی تقدیر بدل ڈالتا ہے۔ انہی اللہ کے بندوں میں انجمن سرفروشان اسلام پاکستان کے سرپرست اعلیٰ حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی بھی ہیں۔ جنہوں نے اپنی عمر کا بہت بڑا حصہ روحانیت کے حصول اور تکمیل کے لئے جنگلوں میں گزارا اور جب خلق خدا کو فیض پہنچانے پر تعینات کئے گئے تو مختصر عرصے میں بیشمار خواتین و حضرات کی زندگی میں انقلاب ہی نہیں بلکہ مردہ قلوب کو ایک ہی قلندرانہ کامل نگاہ کے ذریعہ زندہ کر کے ذکر اللہ میں جاری و ساری کر ڈالا۔ قصہ مختصر یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حاضر نظر کتابچہ میں قبلہ عالم حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی نے ہماری دیرینہ خواہش اور بے حد اصرار پر اپنی روحانیت کے حصول پر مبنی اپنی یاداشتیں محفوظ کرائیں اور تاکہ طالبین حق اور معتقدین اسے پڑھ کر رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس سے صحیح معنوں میں مستفیض ہو سکیں۔ دعا ہے اللہ تعالی حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی کو عمر دراز عطا فرمائے اور تادیر ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم فرمائے اور ہمیں ان سے صحیح معنوں میں مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین

صدر و مرکزی ناظم اعلیٰ

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

جب سنِ بلوغت کو پہنچا ،تو فقیری کا شوق انتہا کو پہنچ چکا تھا۔لیکن سیرابی کسی طریقہ سے نہ ہو رہی تھی۔ دن رات بابا گوھرعلی شاہؒ کے مزار پر بیٹھا درود شریف پڑھتا رہتا۔جتنے نوافل پڑھے جا سکتے پڑھ لیتا تہجد بھی پڑھتا لیکن جس راستے کی تلاش تھی اس کا نام و نشان نہ ملتا ۔
ہماری برادری کے ایک پولیس انسپکٹر جو پیر صاحب آف دیول شریف کے مرید تھے مجھے مشورہ دیا کہ یہ راستہ بغیر مرشد کے طے نہیں ہو سکتا ،پہلے کسی کا دامن پکڑو اور میں پیر صاحب آف دیول شریف سے بیعت ہو گیا انہو ں نے نماز پڑھنے کی تاکید کی اور ایک تسبیح اللہ ھوپڑھنے کی بتائی اور جب بھی تنہائی ملتی اللہ ھو پڑھتا رہتا ۔تقریباً ایک سال بعد نمازیں بھی ختم ہو گئیں اور وہ اللہ ھو بھی بے کیف رہ گیا ،اپنے آپ کو کولہو کے بیل کی طرح پایا جو سارا دن پٹی باندھے سفر کرتا رہتا ۔سمجھا بہت دور پہنچ گیا ہوں جب پٹی کھلی تو وہیں موجود تھا،اب پیر صاحب سے بدگمانی ہونے لگی۔ان کے باقی مریدوں سے ملا کوئی پانچ کوئی چھ سال سے ان کے مرید تھے۔طوطے کی طرح اﷲ ھو پڑھتے رہتے لیکن کسی کو محفل حضوری نصیب نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی ذکر قلب تک پہنچا۔البتہ وہ نماز روزہ کے پابند ہو گئے تھے۔ پیر صاحب سے بیت توڑنے کو کہا ۔ کہنے لگے بیت کیوں توڑتا ہے۔میں نے کہامیری پیاس نہیں بجھی اور اب گولڑہ شریف میں قسمت آزمانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا قادری مرید چشتی سلسلہ سے فیض حاصل نہیں کر سکتا۔میں نے کہا میری قسمت اور بیت ٹوٹ گئی۔اب گولڑہ شریف صاحبزادہ معین الدین صاحب سے بیت ہوا۔انہوں نے نماز کے ساتھ ایک تسبیح درود شریف کی بتائی میں نے کہاکوئی ایسی عبادت بتائیں جو میں ہر وقت کر سکوں۔بقول اس آیت کے کہ جب نماز پڑھ لو میرے ذکر میں مشغول ہو جاؤ۔ اٹھتے بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے بھی انہوں نے کہ تو کس زمانے میں ایسی بات کرتا ہے ایسے طالب ختم ہوگئے۔جانماز پڑھ گناہوں سے توبہ کر۔ایک تسبیح روزانہ درود شریف پڑھا کر،ماں باپ کی خدمت کر رزق حلال کھااور ہمارے آستانے میں بھی حاضری دیا کر۔بس یہی کافی ہے میں نے کہا نماز بھی پڑھتا ہوں۔درود شریف کی بھی کئی تسبیحاں پڑھتا ہوں لیکن پیاس نہیں بجھتی ۔انہوں نے کوئی جواب نہ دیااور بے رخی سے دوسرے شخص کی طرف متوجہ ہو گئے اور پھر تھوڑی دیر بعد آستانہ سے اٹھ کر چلے گئے۔میں نے یہی سمجھاکہ ان کے پاس بھی ظاہری لبادہ ہے ورنہ طالب سے اس طرح کوئی بے رخی نہیں کرتا اور بیٹھے ہی بیٹھے وہاں سے بھی بیت ٹوٹ گئی۔
اب میں ہر وقت پریشان رہتا کہ کوئی ایسا رہبر مل جائے جس سے سکون قلب میسر ہو۔میرے ایک دوست جو تصوف سے کچھ واقفیت رکھتے تھے مجھے ایک دوست کے پاس لے گئے وہ درویش لمبا چوغہ پہنے ہوئے تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو ان کے خلیفہ نے گرم گرم دودھ کے گلاس پیش کئے۔کچھ امید قائم ہو گئی تھوڑی دیر تک فقیری کی باتیں ہوتی رہیں منزل سامنے نظر آنے لگی اتنے میں انکے خلیفہ نے حقہ آگے بڑھایا۔ فقیر نے لمبے لمبے کش لگائے اور چرس کی بو سارے کمرے میں پھیل گئی۔میں جلدی جلدی کمرے سے باہرنکل گیا ۔وہ دوست بھی پیچھے پہنچ گیا اورسمجھانے لگا کہ ان فقیروں کی اپنی اپنی رمزیں ہوتی ہیں ۔یہ چرس ان کے لئے حلال ہے بلکہ جس کو یہ پلا دیں اس کا بھی بیڑا پارہے ۔میں نے کہا نشہ حرام ہے اور مجھے اس کی بو سے نفرت ہے ۔جب خدا نمازوں،روزوں اور تسبیحوں سے نہ ملا تو چرس پینے سے کیا امید ہو سکتی ہے ۔اس نے ایک شعرپڑھا
اﷲ اﷲ کرنے سے اﷲ نہیں ملتا
اﷲ والے ہیں جو اﷲ سے ملا دیتے ہیں
بلکہ ایک ہی کش سے پہنچا دیتے ہیں
میں نے کہا میرا دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ اﷲ والا ہے۔اس نے کہا پھر تیری قسمت ہی خراب ہے۔
کچھ دنوں کے بعد نواب شاہ سے ایک رشتہ دار آگئے ۔ان سے تفصیلی بات ہوئی انہوں نے کہا کیا خبر تیری قسمت میں کامیابی ہے یا نہیں،خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔تو جام داتار کے دربار پر چلا جا۔وہ زندہ پیر ہیں تجھے اپنی مہم کا اشارہ ہو جائے گا۔میں جام داتار کے دربار پر پہنچا جمعرات کا دن تھا۔ رقاصائیں سندھی زبان میں کچھ پڑھ کر ناچ رہی تھیں۔ سب زائرین بچے ،جوان ،بوڑھے ان ہی کی طرف متوجہ تھے، میں نے عشاء کی نماز پڑھی کچھ نوافل پڑھے اور تھکن کی وجہ سے جلدی نیند آگئی رات کا کوئی حصہ تھا، کسی نے مجھے جگایا دیکھا تو ایک بزرگ سامنے کھڑے تھے۔ ان کے قریب دو آدمی اور بھی تھے جو صرف ایک ایک دھوتی پہنے ہوئے تھے۔ بزرگ نے کہا ان کے ساتھ جاؤ اور مسواکیں کاٹ لاؤ۔ میں ان کے دو آدمیوں کے ساتھ قریبی جنگل میں چلا گیا او ر جھال کی مسواکیں توڑنے لگا۔تھوڑی دیر میں سیر سوا سیر کی لکڑیاں اکٹھی کر لیں ۔ دوسرے ساتھی مجھ سے زیادہ توڑ چکے تھے۔ کہنے لگے انہیں اٹھاؤ اب واپس چلتے ہیں، انہوں نے فوراً اٹھالیں۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن اٹھا نہ سکا۔ حیران تھا کہ دو من کی بوری اٹھا لیتا ہوں لیکن یہ معمولی سا وزن کیوں نہیں اٹھ رہا۔ میری پریشانی پر وہ لوگ ہنسے اور کہنے لگے مرشد تو ہے نہیں اور فقر کے لئے نکل پڑا۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے اور میں نے اپنی ناکامی کا اشارہ پا کر بھی واپس لوٹنا نہ چاہا سوچا مرشد ابوبکر حواریؒ کا بھی نہیں تھا وہ کیسے کامیاب ہوئے جب گھر سے نکل پڑا تو پوری قسمت آ زمالے اور درود شریف پڑھتا ہوا آگے کی طرف جنگل ہی جنگل میں چل پڑا نہ منزل کا پتہ کہ کہاں جانا ہے بس دل میں یہی بات ہے کہ جہاں بھی جائے گا زمین اسی رب کی ہے جس کی تلاش میں نکلا سات آٹھ سوکھی روٹیاں میرے پاس ہیں جوتے، قمیض ،بنیان اتار کر پھینک دیئے، کمر میں ایک دھوتی ہے اور قرآن مجید گلے میں لٹکا ہوا ہے کئی دن سے سفر جاری ہے۔ کسی جگہ نماز پڑھی جا رہی ہے کسی جگہ نوافل ادا ہو رہے ہیں اور کسی جگہ تلاوت کی جا رہی ہے۔ بھوک کا نام و نشان مٹ گیا۔ عادتاً دو چار نوالے سوکھی روٹی کے چبا لیتا ہوں۔ عجب مستی ہے سمجھتا ہوں کہ فقیر بن گیا۔ آزمائش کے لئے چڑیوں کو حکم دیتا ہوں۔ ادھر آؤ ۔ وہ نہیں آتیں۔ پھر کہتا ہوں اچھا مر جاؤ ۔ وہ نہیں مرتیں پھر سمجھتا ہوں کہ ابھی فقر ادھورا ہے۔
آج عصر کی نماز کے بعد جب سفر شروع ہوا تو ایک گدھا میرے بائیں جانب میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ میں نے اسے نظر انداز کر دیا کہ خود ہی تھک کر الگ ہو جائے گا۔لیکن جب سے وہ ساتھ لگا خیالات بدلنا شروع ہوگئے کہ رات آنے والی ہے ۔جنگل میں پتہ نہیں کیسے کیسے درندے ہوں گے ،ابھی تیر احکم چڑیاں بھی نہیں مانتیں توان درندوں سے کیا نمٹے گا۔وہ تجھے کھاجائیں گے اور تودھوبی کے کُتے کی طرح نہ دین کا نہ دنیاکااسی طرح ماراجائے گا۔بڑی مشکل سے ان خیالات پرقابوپاتاہوں ،پھر ایک شعر کانوں میں گونجتاہے۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
اب اس شعر کے بارے میں بار بار سوچتاہوں اتنے میں میری نظرگدھے پر جاپڑی وہ مجھے دیکھ کرہنستاہے میں پریشان ساہوگیا کہ یہ کیساگدھاہے جوہنس رہاہے۔اب وہ مجھے آنکھوں سے اشارہ کرتاہے اورآوازبھی آتی ہے کہ میرے اوپرسوارہوجاؤ میں ہٹتاہوں اوربچتاہوں پھرگدھے کے ہونٹ ہلتے ہیں جیسے کچھ پڑرہاہوجوں جوں اس کے ہونٹ ہلتے گئے میں اس کی طرف کھنچتاگیا اورآخرخود بخود اس کے اوپرسوارہوگیا وہ گدھاتھوڑی دیربھاگااورپھر ہوامیں اڑنے لگا۔میں نے باقاعدہ راوی ،چناب کے دریاعبورکرتے دیکھا،اپنے گاؤں کے اوپربھی پروازکی ،یعنی اس گدھے نے پورے پاکستان کی سیر کرادی اورپھرمجھے وہیں اتاراجہاں سے اٹھایاتھا۔اب فقیری کے سب نشے ہرن ہوچکے تھے ۔اپنی حالت اور حماقت پر غصہ آرہاتھا ۔میں جلد اپنے وطن پہنچ کر دنیاکے عیش چکھناچاہتاتھا ۔میں جلدی جلدی قدموں سے جام داتارؒ کے دربارکی طرف رات دن سفرکرکے پہنچا۔میرے بہنوئی میری تلاش میں وہاں پہنچ چکے تھے ۔مجھے اس حالت میں دیکھا پوچھاکیاارادہ ہے میں نے کہابس منزل پالی ہے اب واپس چلتے ہیں ۔
اس دن کے بعد یعنی بیس سال کی عمرسے بتیس 32 سال کی عمر تک اسی گدھے کا اثررہا۔نمازوغیرہ سب ختم ہوگئی ۔جمعہ کی نمازبھی ادانہ ہوسکتی ۔پیروں فقیروں اور عالموں سے چڑ ہوگئی اور اکثرمحفلوں میں ان پر طنز کرتا۔شادی کرلی تین بچے ہوگئے اورکاروبارمیں مصروف ہوگیا۔زندگی کامطلب یہی سمجھاکہ تھوڑے دن کی زندگی ہے عیش کرلو۔فالتووقت سینماؤں اورتھیٹروں میں گزارتا،روپیہ اکٹھا کرنے کے لئے حلال وحرام کی تمیز بھی جاتی رہی ۔کاروبارمیں بے ایمانی ،فراڈاورجھوٹ شعاربن گیایہی سمجھئیے کہ نفس امارہ کی قید میں زندگی کٹنے لگی ۔سوسائٹیوں کی وجہ سے مرزائیت اور کچھ وہابیت کا اثرہوگیاالحمدُللہ یہ اثرات اب زائل ہوچکے ہیں۔
نواب شاہ میں میری چھوٹی بہن رہتی تھی۔اس کی بڑی لڑکی (عمرپندرہ سولہ سال) کو دورے پڑنے شروع ہوگئے ہاتھ پاؤں اکڑ جاتے اور زورسے چیخیں مارتی اور کبھی دوران دورہ گھروالوں سے باتیں کرتی ۔اپنانام اور مذہب کچھ اوربتاتی ۔گھروالے پہلے ڈاکٹروں کی طرف رجوع ہوئے،جب کوئی آرام نہ ہوا توعاملوں کو بلایا۔انہوں نے کہا زبردست قسم کی دیوی ہے جوہمارے بس سے باہر ہے ۔ایک دن دورے کی حالت میں لڑکی نے کہاملتان شاہ شمس ؒ کے دربار پرلڑکی حاضری دوتب چھوڑیں گے۔اس کی والدہ لڑکی کو ملتان دربارپر لے گئی ۔حاضری کے بعدبڑی بہن کے گھر چلی گئی جو ملتان کے قریب ایک گاؤں میں آباد تھے ۔رات کو لڑکی کووہاں دورہ پڑااور اسی طرح کا دورہ بڑی بہن کی لڑکی کوبھی پڑا ۔وہ گھبرائیں اور صبح دونوں بچیوں کو راولپنڈی لے آئیں۔میں نے ساری کیفیت پوچھی اورکہا کہیں اچھے ڈاکٹرکو دکھاتے ہیں۔اثروغیرہ سب بنی بنائی باتیں ہیں میراخیا ل تھاکہ یہ ہسٹریاکامرض ہے جسے عامل حضرات جناّت کا مرض کہہ دیتے ہیں میں دونوں لڑکیوں کو ایک دوست ڈاکٹرکے پاس لے گیا اور اس نے بھی یہی کہا ہسٹریا ہے ان کی شادی کردو۔اس نے انجکشن لگاناچاہاتوایک لڑکی کا رنگ لال ہوگیا۔کہنے لگی ڈاکٹر تب مانوں انجکشن لگاؤاوربازوآگے کردیا۔ڈاکٹرنے انتہائی کوشش کی لیکن سوئی گوشت میں نہ جاسکی ۔ایسے لگتاکہ بازوپتھر کے ہوگئے۔ڈاکٹرنے گھبراتے ہوئے کہاکہ انہیں کسی پیرفقیر کے پاس لے جاؤ۔یہ کوئی دوسری بات ہے میں نے پوچھاکہ کیا تم بھی جنات جادواور آسیب وغیرہ کے قائل ہو۔اس نے کہاکہ جادوکے متعلق توپہلے پارے میں تصدیق ہے ۔جنات کا ذکرسورۃ جن میں ہے اورآسیب کے متعلق ایک آیت سنائی جس کا ترجمہ ہے کہ شیطان انسان کو آسیب سے پاگل کردیتاہے۔ اس نے بتایاکہ لالہ زارمیں سائیں اسلم ہے اسکو دکھادو۔بچیوں کوگھرلے آیااور سوچتارہاکہ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔جنات اس کے جسم میں کس طرح داخل ہوسکتے ہیں ۔یہ ناممکن ہے لیکن وہ ٹیکہ کی سوئی گوشت میں داخل کیوں نہ ہوئی ۔
رات کو دونوں بچیاں سوگئیں اورمیں بیٹھ کران کی حفاظت کرنے لگاکیونکہ کبھی ان کو دورہ پڑتااورکبھی وہ چیختی چلاتی باہر کودوڑتیں ۔رات کا تقریباًایک بجاہوگامیں نے دیکھا کہ ایک آگ کا شعلہ آیااورایک بھانجی کے سینے میں داخل ہوگیا اوراس کو دورہ پڑگیا۔صبح ہی صبح بچیوں کوسائیں اسلم کے پاس لے گیا اس نے اپنی ہتھیلی پرپھونک ماری اور ہتھیلی میں دیکھ کران کے گھروں کے نقشے اور جس طرح یہ بیمارہوئیں او رجن جن درباروں پر حاضریاں دیں سب کچھ بتادیا۔حتیٰ کہ اسنے میرے گاؤں والے مکان کا نقشہ بھی بتادیا۔لڑکیوں کو سامنے بٹھایا کچھ پڑھ کرپھونک ماری ۔لڑکیوں کی آوازاوررنگ بدل گئے ۔ان سے کہاتم کون ہواورکہاں سے آئے ہو۔ایک نے کہامیں دیوی ہوں اوردوسری میری بہن ہے۔سائیں اسلم نے بچیوں کو ڈنڈوں سے خوب ماراانہوں نے آئندہ نہ آنے کی قسم کھائی اورکلمہ پڑھ لیا۔پانچ دن تک بچیاں ٹھیک رہیں اورپھر وہی حالت ہوگئی ۔ان مشاہدات سے میرادھیان پلٹ چکاتھا ۔دوبارہ سائیں اسلم کے پاس لے گئے اس نے کہاکہ گھر کے اندرمائی صاحبہ کے پاس لے جاؤ ۔مائی صاحبہ نے ایک سفید رنگ کا تکیہ سامنے رکھا۔اس پرکچھ پڑھاتوایک سفید ریش بزرگ کا سایہ نمودارہوا۔ہم سے پوچھاکسی کو کچھ نظرآتاہے ۔میں اور میری ایک بھانجی نے سرہلایا۔مائی نے کہا انہیں سلام کہہ کراپنی کہانی سناؤ۔یہ بری سرکارؒ ہیں مجھے صرف دکھائی دیتے رہے اوریہ بھی محسوس ہوتارہاکہ کچھ باتیں کررہے ہیں اورہاتھ اورسربھی ہلتے نظرآئے لیکن بھانجی سے تفصیل سے بات ہوئی۔انہوں نے کہا،ریاض کے کاروبارمیں جونقصان ہورہاہے وہ بھی جادوہی کی وجہ سے ہے اورکہاملتان والی کو جلدآرام آجائے گا لیکن تم کو بیماری کے لئے اورریاض کو کاروبارکے لئے سات جمعرات تک ہمارے پاس دربارپرآناپڑے گا اوراتنے ہی چکر مائی صاحبہ کے دربارپرجوروات کے پاس ہے لگانے پڑیں گے۔اسی دن کے بعد ملتان والی بھانجی ٹھیک ہو کر ملتان چلی گئی ہم ماموں بھانجی درباروں کے طوافوں میں لگ گئے۔جب ہم بری سرکارؒ یا دوسرے بزرگ کے مزارپر جاتے دل ہی دل میں السلام علیکم کہتے اور دل ہی دل میں وعلیکم السلام ،جواب مل جاتا اور کبھی تربت کی چادرپر اور کبھی دیوار پر مجھے بزرگ کا عکس کا نظر آتا ۔مسکراتے اور غائب ہو جاتے۔ اب مجھے درباروالوں سے محبت ہو گئی تھی ۔ کام کاج میں بھی خیال ان ہی کی طرف رہتا ۔ہر وقت ولیوں سے متعلقہ کیسٹیں سنتا رہتا اورجو جذبہ اور شوق بارہ سال پہلے تھا دوبارہ ابھر آیا ۔
ایک رات دیکھا کہ ایک سفید رنگ کی روشنی کار کی بتیوں کی طرح تیز کمرے میں پھیلی جب کہ سردیوں کا موسم تھا اور کمرہ چاروں طرف سے مکمل بند تھا۔ میں اور میرا بھائی عمر تقریباً ۱۸ سال اور میری بیوی کمرے میں سو رہے تھے بھائی ڈر کر چیخنے لگا اور بیوی بھی گھبرائی اور میں بھی حیران تھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی اور ایک لمحہ کے بعد کہاں چلی گئی میں ابھی سوچ رہا تھا کہ کمرہ پھر منور ہوا ۔ روشنی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی تھی منٹ آدھ منٹ کے بعد ختم ہو گئی اس روشنی کے بعد مجھے سخت بخار ہو گیا اور چارپائی بھی ساری رات لرزتی رہی ۔ دوسری رات تقریباًاسی وقت روشنی میں ایک بزرگ نظر آئے مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا۔ بیٹا اب تمہارا وقت آچکا ہے ہوشیار ہو جاؤ ۔ باقاعدہ نماز شروع کرو ۔ گناہوں سے تائب ہو جاؤ روزانہ بعد نماز مغرب کسی شیریں چیز پر اولیاء انبیاء کی ارواح کے لئے فاتحہ پڑھا کرو تاکہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو اور فرش پر سویا کرو۔ میں نے ان نصیحتوں پر دل سے عمل شروع کر دیا ۔
وہ بزرگ اکثر نظر آتے رہتے ۔کبھی بات کرتے اور کبھی بغیر بات کے غائب ہو جاتے ایک دن میں بری سرکارؒ کے مزار پر گیا وہی بزرگ ایک سائے کی شکل میں چادر پر بیٹھے نظر آئے ۔ ہر سوا ل کا جواب تسلی بخش دیا۔ اب مجھے یہ یقین ہو چکا تھا کہ بزرگ بری امامؒ کی روح مبارکہ ہے یہ باتیں میرے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی معلوم ہوئیں کوئی کہتاصحیح ہو گا ۔اکثر فراڈہی سمجھتے۔ میرے محلہ میں ایک نوجوان لڑکی چند ماہ سے پاگل ہوگئی تھی نہ ڈاکٹروں اور نہ ہی عاملوں کے تعویزات سے اثر ہوتا ۔میرے ماموں شش و پنج میں تھے مجھے ان کے گھر لے گئے اور کہا اپنے بزرگ کو بلاؤ تاکہ لڑکی ٹھیک ہو جائے۔ان کامطلب تھا کہ اس طرح حق و باطل کا پتہ چل جائے گا ۔وہی سایہ میرے سامنے آیا لڑکی پر دم کیااورپانی بھی دم کر کے دیااورلڑکی ٹھیک ہوگئی ۔اسکے بعد ایسے مریض آناشروع ہوگئے جنہیں شفاء ہوجاتی اورمیری انڈسٹری کا کاروبار بھی خوب چمکنے لگا،تقریباًایک سال کے بعد اس سایہ نے حکم دیا کہ اب تزکیۂ نفس کے لئے تین دن کے اندراندر دنیاچھوڑدو۔حکم کو تیسرادن تھا رات کے بارہ بج رہے تھے بیوی کو ایک نظرسرسے پاؤں تک دیکھاسب سے لاڈلے بچے کو آخری بوسہ دیااورآنکھوں میں آنسو لئے ہوئے دھیرے دھیرے قدموں سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہواقدم لڑکھڑارہے تھے اتنے میں ایک ٹیکسی قریب آکررکی پوچھاکہاں جاناہے میں نے کہاجی ٹی ایس کے اڈے پر،ٹیکسی سڑک پردوڑرہی تھی اورمیں اپنے آبائی شہر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیرآبادکہہ رہاتھا۔ داتاصاحب ؒ اورپھرسخی سلطان باھُوؒ کے دربار پرگیااوران ہی کے حکم کے مطابق نورالہدیٰ خریدی اورپھر سہون شریف کے لئے روانہ ہوگیا۔بس کے طویل سفر میں نورالہدیٰ کو پڑھتارہااس کی ہر سطر میرے دل میں اثرکررہی تھی،ایک جگہ پرلکھاتھاکہ جواس کتاب کو پڑھ کربھی واصل باللہ نہ ہواکم بخت بے نصیب ہے اورمیں اب دوبارہ اپنے نصیبوں کو آزمانے کے لئے ایک سہارے کے ساتھ جارہاتھاکسی اسٹاپ پربس رکی میں پانی پینے کے لئے ایک ہوٹل میں گیامیں نے دیکھامیرامنہ بہت لمباہوگیاہے اپنی ٹھوڑی اورہونٹ دکھائی دینے لگے۔قدم ادھرڈالتاادھر پڑتالوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے اورمیں بھی سمجھ چکاتھا کہ یہ کتا ب پڑھ کرواقعی دیوانہ جسم ہوگیاہوں ۔میں نے سوچا اب تودنیامیں رہنے کے قابل بھی نہ رہا۔ہرشخص اس عجیب شکل اورعجیب چال پرمذاق اڑائے گا۔ایسے جانوروں کاٹھکانہ جنگل ہی ہے۔ سکھر تک بس کاسفرکیااب ریل سے سہون شریف جاناتھا۔ریل میں اونگھ آگئی دیکھاسامنے لال شہبازقلندرؒ کا روضہ ہے۔میں وہاں کھڑاہوں اور ایک پگڑی سرپرباندھی جارہی ہے اورجب سہون پہلی مرتبہ میں پہنچا توبالکل وہی روضہ نظرآیا ،مغرب کاوقت ہے لوگ رقص کررہے ہیں اوراپنے حال سے بے خبر لوٹ پوٹ ہورہے ہیں۔کان میں آوازآئی شہبازؒ کے عاشقوں کا یہ حال ہے اورتواللہ کے عشق کا دعویدارہے ۔اسٹیشن کے سامنے والی پہاڑی پرچلاجااورجوطریقہ ’’نورالہدیٰ ‘‘میں لکھاہے اسی طریقہ سے تصور سے اسم ذات کا ذکرکر۔میں اسی وقت پہاڑی کی طرف چلاگیااوراسم ذات کے ذکر میں مشغول ہوگیا۔دوران ذکر اونگھ آگئی دیکھا کہ محفل لگی ہوئی ہے کئی بزرگ بیٹھے ہیں ایک بزرگ جن کا جسم موٹادرازقد اور درازمونچھوں والے میری طرف اشارہ کرکے پنجابی زبان میں کہتے ہیں۔
اسیں آں قلندر دیوانے لجپال دے
جسم میں لرزش اسی روشنی والی رات ہی سے شروع تھی اوردل کی دھڑکن سخی سلطان باھُوؒ کے دربار سے ہی نمایاں ہوگئی تھی اور آج وہی دھڑکن اللہ ھُومیں تبدیل ہوگئی تھی میں اپنی قسمت پربہت خوش تھااور جس راز کو بچپن ہی سے درباروں غاروں اورجنگلوں میں ڈھونڈرہاتھااپنے قلب میں پایا ۔تین دن تک شرابی کی طرح پہاڑی پر لطف اندوزہوتارہا۔نہ گرمی کی پرواہ اورنہ ہی بھوک پیاس کی چاہ رہی ۔رمضان کا مہینہ تھاروزوں کا خیال آیا ۔سحری کو اسٹیشن چلاجاتااورافطاری کے لئے سامان خرید کرلے آتا۔شروع شروع میں اس پہاڑ ی پر ڈرلگتاتھالیکن کچھ ماہ بعد خوف بالکل ختم ہوچکا تھا۔میری آنکھیں اندھیرے کی عادی ہوگئی تھیں۔رات کودورتک ہر چیز دیکھ سکتاتھاکبھی کبھی قریبی دریا پرنہانے کے لئے چلاجاتااورواپسی پراسٹیشن سے چنے وغیرہ خرید لاتا۔رات ہرحالت میں اس پہاڑی پرگزارتا۔ہررات کچھ نہ کچھ کشف ضرورہوتااوردل کی دھڑکن بھی اسم اللہ کے ساتھ تیزہوتی رہتی۔ایک رات میرے قریب کافی کُتے پہنچ گئے اوربھونکناشروع کردیا۔کاٹنے کے لئے دوڑتے لیکن قریب آکررک جاتے پھرگھنگھروکی آوازچاروں طرف سے آنے لگی اورپھرمیرے اوپرپتھر برسنا شروع ہوگئے اورمیں چپ چاپ دبکا رہاکچھ پتھر لگے اورکچھ اوپر سے گزرگئے ۔آج سارادن اسٹیشن پربیٹھارہا لیکن رات کو پہاڑی پرجانے سے ڈرلگ رہاتھا۔پھوسوچااللہ ھُو کرنااورموت سے ڈرنایہ توتوکل کے خلاف ہے اورپہاڑی پرچلاگیا۔آج کی شب جب سورۃ مزمل کی تلاوت کررہاتھامیں نے دیکھا فجرکاسماں پیداہوگیااورپہاڑی کے اردگرد بے شمارکرسیاں بچھ گئیں اورپھران کرسیوں پربے شمار بزرگ عربی لباس میں ملبوس رونق افروزہوئے ۔تیرہ آدمی میرے قریب کھڑے کردیئے گئے اورایک صداآئی آج چناؤ ہونے والاہے ۔وہ آدمی مجھ سے عمرمیں کافی بڑے تھے کسی نے صرف کپڑے کی دھوتی اور کسی نے درختوں کے پتوں سے اپناجسم ڈھانپاہواتھا۔معلوم ہوتاتھاکہ عرصہ سے جنگلوں میں چلّے اوروظیفے کررہے ہیں ۔میں اپنے آپ کو ان کے سامنے مکھی کی مانند سمجھ رہاتھااوران نورانی شکلوں میں کھڑاہونے سے بھی شرم آرہی تھی ۔اتنے میں آسمان سے بجلی کی مانند ایک لمبی روآئی اورمیرے جسم پرآن گری حاضرین حیران تھے کہ یہ کیسے ہوسکتاہے۔کل کا آیا ہوا پرانوں پر سبقت لے جائے ان تیرہ آدمیوں کے منہ سے نکلا شاید کچھ بھول ہو گئی اتنے میں دو بارہ رو آئی اور میرے جسم پر آن گری۔ان تیرا آدمیوں میں سے کسی نے غصہ سے کسی نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور چلے گئے اس واقعہ کے بعد میرا جسم سخت بھاری ہو گیااور میں بغیر مشق کئے لیٹ گیا۔بال بال سے اﷲ ھو کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔حتیٰ کہ دل سے ایسی سُریلی آواز آرہی تھی جیسے کوئی بچہ اﷲ ھو پڑھ رہا ہے میں جس سمت دیکھتا لفظ’’اﷲ‘‘ لکھا نظر آتا اور اب دل پر بھی خوشخط سنہری لفظوں میں لفظ’’اﷲ‘‘نظر آیا ۔بے اختیار زبان سے سبحان اﷲ نکلا۔آج کے بعد کئی قسم کی مخلوق اور کئی بزرگوں کی ارواح مجھے دیکھنے کے لئے آتے۔
ایک صبح جب رفع حاجت کے لئے پہاڑی سے نیچے اترنے لگا دیکھا بے شمار موٹے موٹے سیاہ رنگ کے چیونٹے میرے ارد گرد دائرہ بنائے بیٹھے ہیں میں حیران تھا کہ ان سے کس طرح گذر کے جاؤں یہ پاؤں کوکاٹیں گے اتنے میں ایک موٹا سا مکوڑا اپنی جگہ سے ہلا اور میری طرف مخاطب ہوا ۔آواز آئی ڈرو نہیں ہم تمہا ری حفاظت کے لئے مامور کئے گئے ہیں ۔میں نے کہا تم ننھی ننھی جانیں میری کیا حفاظت کرو گے۔ اس نے کہا یہاں سانپ بچھو اور زہریلے کیڑے بہت زیادہ ہیں ہم ان سے بخوبی نپٹ سکتے ہیں اس کے بعد انھوں نے میرے گزرنے کا راستہ چھوڑا دیا۔کسی کسی دن یہ مکوڑے بھی میرا حصار کرتے۔
ْْشروع میں پہاڑی پر جب اسم ذات کی مشق کرتا تو مجھے کئی بزرگ اپنے پاس کھڑے یا بیٹھے نظر آتے کچھ بہت ہی خوبصورت قسم کی عورتیں آتیں اور ان کو جھک کر سلام کرتیں۔ ان کے ہاتھوں میں گول قسم کے پنکھے ہوتے اور وہ ان بزرگوں کو جھلتی رہتیں لیکن جب وہ عورتیں میرے سامنے آتیں تو اکڑ کے مسکرا کے گزر جاتیں اور مجھے اپنی کمتری کا سخت احساس ہوتا۔اس برقی رو کے بعد دوسری رات بھی وہ عورتیں آئیں جب قریب سے اِترا کر گزر رہی تھیں تو آواز آئی اس کو اللہ نے عزت دی ہے تم بھی اس کی تعظیم کرو اور اس آواز کے ساتھ وہ کمر تک جھک گئیں اور شرمندہ ہو کر چلی گئیں۔جب کبھی دل پریشان ہوتا یا بال بچوں کی یادستاتی تو وہی عورتیں ایک دم ظاہر ہو جاتیں۔دھمال کرتیں اور پھر کوئی نعت پڑھتیں اوروہ پریشانی کا لمحہ گزر جاتا اور کبھی جسم میں درد ہوتا تو وہ آکر دبا دیتیں۔جس سے مجھے کافی سکون ملتا۔یاد رہے یہ سب ناسوتی واقعات پیش کئے جا رہے ہیں۔حالات بالا اور راز بالا کی اجازت نہیں ہے۔
اب سردیوں کا موسم آچکا تھا اس وجہ سے لعل باغ کا اشارہ ہوا عصر کے وقت لعل باغ پہنچا، حالات اور جگہ کا جائزہ لیا ایک گول سا مٹی کا چبوترہ تھا اس کے اوپر ایک درخت جھکا ہوا تھا اور اشارہ بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھنے کا تھا۔باغ کے کونے میں ایک جھونپڑی تھی جہاں ایک ادھیڑ عمر کی عورت کچھ سی رہی تھی۔دوسری طرف ایک اور بزرگ عمر تقریباً 100 سال بیٹھے ہوئے تھے میں نے ان سے باغ کے حالات معلوم کئے اورکہا کچھ دن اس چلہ گاہ میں عبادت کرنا چاہتاہوں۔ بزرگ نے کہا میں چالیس سال سے چلے کاٹ رہا ہوں، گھر بار چھوڑا ،اناج چھوڑا، مٹی کھائی ، معدہ کو خراب کیا لیکن فقیری نہیں ملی۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی جوانی برباد نہ کرو۔ جا کے ماں باپ کی خدمت کرو اور بچوں کی پرورش کرو۔ بس یہی فقیری ہے ،ہر شخص قلندر نہیں بن سکتااور اس نے یہ بھی بتایا کہ چلہ گاہ بہت سخت ہے یہا ں کئی لوگ عبادت کی غرض سے آئے ایک رات بھی چلہ گاہ میں نہ ٹھہرسکے کئی کو جانی نقصان ہوا ۔
آدھی رات کا وقت تھا۔ چلہ گاہ میں داخل ہونا چاہا لیکن سخت اندھیرا اور بزرگ کی باتوں کا خوف رکاوٹ بن گیا چلہ گاہ سے دور ریت پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے اللہ ھُو کی مشق شروع کر دی ۔ جب دوزانوں بیٹھے تھک گیا آلتی پالتی بیٹھ گیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ کوئی چیز رانوں پر رینگ رہی ہے آنکھیں کھولیں ، دیکھا ایک لمبا موٹا سیاہ رنگ کا سانپ رانوں سے گزر رہا تھا آدھا گزر چکا تھا اور باقی میرے دیکھتے دیکھتے گزر گیا۔ مجھے لرزہ طاری تھا کہ یہ اگر کاٹ لیتا تو کیا ہوتا آواز آئی بچانے والا جب یہاں بچا سکتا ہے تو چلہ گاہ میں بھی بچا سکتا ہے۔میں فوراًاُٹھا اور چلہ گاہ میں اسی درخت کے نیچے بیٹھ کرپھر مشق شروع کردی ۔میرے پاس پانچ صدروپے بچے ہوئے تھے کچھ اس عورت کو اورکچھ دوسرے فقیروں کو بانٹ دیئے ۔کبھی کوئی چائے کی پیالی پلادیتااور کبھی کوئی کھانا کھلادیتا۔
آج بھوک بہت ستارہی ہے پیٹ میں بل پڑچکے ہیں اورپیٹ سے آوازآتی ہے ہائے بھوک ،ہائے بھوک اورسرمیں بھی بھوک کی وجہ سے دردہورہاہے۔دوپہر کو کچھ زیارتی ایک بس پرباغ میں آئے انہوں نے کسی مرادکے پوراہونے پر پلاؤ کی دیگ خیرات کرنی تھی ۔میرے سامنے بکراکٹاچاول بِھگے ۔آگ جلی اور پلاؤتیار ہوگیا۔اب وہ لوگ اپنے آدمیوں کو مٹی کی پلیٹوں میں ڈال کردینے لگے اتنے میں ایک کٹورااٹھائے ہوئے میں بھی پہنچ گیا۔میراخیال تھاکہ خیرات غریبوں مسکینوں کے لئے ہوتی ہے اور اس وقت میں بھی کسی مسکین سے کم نہیں تھا۔جوشخص دیگ پرکھڑا تھا مجھے سختی سے ڈانٹ دیااورکہاجہاں بھی جاؤ یہ مانگنے والے پہنچ جاتے ہیں۔میری صورتِ حال دیکھ کرایک شخص کو ترس آگیا اور بڑی حلیمی سے کہنے لگاکہ سامنے بیٹھ جاؤ ہمارے آدمی کھالیں اگرکچھ بچ گیاتوتمہیں دے دیں گے اور میں اپنے نفس کو برابھلاکہتاوہاں سے چل دیا لیکن اتنی بے عزتی کے بعد بھی بھوک نہ مٹ رہی تھی۔تب میں نے پیلوکے پتے کھانے شروع کردیئے ۔وہ کڑوے تھے لیکن پھربھی کافی مقدارمیں کھاگیا۔اب پتوں کی وجہ سے زبان پرچھالے پڑگئے ۔تیسرے دن مستانی نے کچھ سوکھے ٹکڑے دیئے ۔لیکن چبائے نہ جاسکے ۔مستانی کا حال بھی میری ہی طرح تھا،اگرکوئی زیارتی دوچارروپے دے جاتاتووہ دوکان سے آٹاچینی لے آتی اورجب کہیں سے کچھ نہ ملتاتوبھوک ستاتی ۔دوتین دن تک توبرداشت کرتی آخرگودڑی اٹھاتی اور کسی نہ کسی گاؤں سے ٹکڑے مانگ لاتی جس سے میراکام بھی چل پڑتا۔میں نے وہ ٹکڑے ایک درخت کی جڑمیں رکھ دیئے اور رات کو چّلہ گاہ میں چلاگیا۔آ ج بھوک کی وجہ سے ذکر انفاس صحیح طورپر نہ ہوا۔صبح زبان قدرے بہترنظرآئی ۔جب درخت کی طرف گیاتوٹکڑے کوئی کُتالے گیاتھا۔بڑاافسوس ہوا۔اب مستانی کی جھونپڑی کی طرف گیامستانی عید منانے کے لئے علی الصبح ہی بھٹ شاہ چلی گئی تھی ۔جھونپڑی میں تلاش کیاکہ شاید کچھ کھانے کو مل جائے لیکن کچھ بھی نہ ملا۔آج عید کادن تھا سخی شہباز قلندرؒ کے پروانے عیدمنانے کے لئے باغ میں جمع ہورہے تھے اور رنگ برنگے کھانے تیل کے چولہوں پرپکناشروع ہوگئے ۔میں ایک کونے میں بیٹھایہ تماشا دیکھ رہاتھانفس کہتاعید کا دن ہے کچھ تومانگ کرکھلادے اورمجھے دیگ والوں کی بات یادآگئی ۔نفس کو کہتااللہ کوغیرت پسندہے صبر کر۔سامنے ایک جوان سی عورت سوّیاں پکارہی تھی اورمیری نظروں کاجائزہ بھی لے رہی تھی۔کہتے ہیں عورت کی چھٹی حس بہت تیزہوتی ہے ۔وہ سمجھ گئی اوراپنی پانچ چھ سالہ بچی کو ایک پلیٹ میں سویّاں ڈال کرمجھے بھیجیں ۔میں کھابھی رہاتھااوررب کا شُکربھی ادا کررہاتھاکیونکہ دوسال میں پہلی دفعہ مجھے سویّاں نصیب ہوئی تھیں ۔ان سویّوں کے ذائقہ کے بعد نفس میں دوبارہ جان آگئی اور اب بھوک کی طلب پہلے سے بڑھ گئی۔تھوڑے بہت پتے چبالئے جاتے کیونکہ مستانی ایک ہفتہ تک واپس نہ آئی تھی بھوک کی وجہ سے آج سخت کمزوری محسوس کررہاہوں ،سرکا درد بھی زوروں پر ہے ۔سوچااس سے بہترہے کہ مرہی جاؤں۔سرکو پتھر مارناشروع کردیا کہ کسی طریقہ سے پھٹ جائے لیکن نہ سرپھٹااورنہ ہی میں مرا۔ہواتیزچل رہی تھی اورمیں بڑاسنبھل سنبھل کرچلّہ گاہ کی طرف جارہاتھاکہ کمزوری کی وجہ سے کہیں اُڑنہ جاؤں ۔چلّہ گاہ میں بیٹھاحسبِ معمول فاتحہ پڑھ رہاتھاکہ ایک شخص آکر قریب ہی بیٹھ گیا۔اس کے ہاتھ میں کٹے ہوئے سیبوں کی پلیٹ تھی ۔میں نے پلیٹ پہچان لی،یہ وہی پلیٹ تھی جسمیں سیب کاٹ کرمیں راولپنڈی میں فاتحہ دیاکرتاتھا۔اس نے پلیٹ میرے ہاتھوں میں دی اورکہا یہ سیب حضرت فاطمۃ الزہرؓہ نے بھیجے ہیں اورکہاہے کہ تم حالتِ خوشی میں ہم کویادکیاکرتے تھے اور آج حالتِ غمی میں ہم نے تم کو یادکیاہے۔میں نے وہ سیب کھالئے اور کئی سال ایسے لگاجیسے پیٹ بھراہواہے ۔کھاناملتاتوکھالیتاورنہ بھوک نہ لگتی ۔ایک دن پتھریلی جگہ پر پیشاب کررہاتھا،پیشاب کا پانی پتھروں پرجمع ہوگیا اور ویساہی سایہ مجھے پیشاب کے پانی میں ہنستاہوانظرآیا،جس سائے سے مجھے ہدایت ملی تھی۔میری اس وقت کیاحالت تھی میں بیان نہیں کرسکتا۔میں جس کو ایک روحانی چیز سمجھتاتھا،جس کے حکم کے مطابق گھربارچھوڑا،ماں باپ ،بیوی بچوں کی محبت کوٹھکرایا،آج میں ا س سے بدگمان ہوچکاتھا۔اگروہ سایہ رحمانی ہوتاتوناپاک جگہ کیوں نظرآتا۔یہی خیال اوریقین تھاکہ یہ کوئی شیطانی روح ہے جوتیرے ساتھ لگ گئی اورتجھے بالکل بربادکرکے اپنااصل دکھایا۔اسم اللہ بھی رگ رگ میں بس چکاتھا اور اس کو بھی چھوڑنے کو دل نہیں چاہ رہاتھا۔جب د ل کی طرف دیکھاتوسوچتااسی سائے کی وجہ اورمددسے میں اس قابل ہوالیکن پھروہ بات سامنے آجاتی ،سمجھ میں نہ آتاکیاکروں ۔آخراپنی سابقہ زندگی کا بغورمطالعہ کیا۔معلوم ہواکہ اس سایہ کے لگنے سے پہلے تیراہر قدم گناہوں میں تھا۔رب کو بھولاہواتھارب اور اس کے حبیب ﷺ سے تجھے کوئی محبت نہ تھی اب اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے عشق میں روتاہوں گناہوں سے نفرت ہے ،نمازتلاوت اور ذکر و فکرمیں دل جمعی ہے گویاسایہ شیطانی ہی سہی لیکن اس کی وجہ سے تجھے ہدایت ہوئی اب اس سایہ سے کوئی مطلب نہ رکھ بلکہ ہدایت سے مقصدہے ۔عبادت کے لئے نمازروزہ نوافل تلاوت اوراذکارکافی ہیں ہدایت کے لئے نورالہدیٰ کافی ہے ۔یہ خیال آنے کے بعدمیں دوبارہ مضبوط ہوگیا اسکے بعد وہ سایہ چلہ گاہ میں نظرآیالیکن میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اورپھروہ بھی نظرآنابندہوگیااب یہی خواہش ہے کہ کسی طرح سے حضورپاک ﷺ کادیدارہوجائے،رات کا پہلاہی حصہ تھادیکھاکہ ایک سانولے رنگ کا آدمی سرسے ننگامیرے سامنے موجودہے گلے میں ایک تختی پربغیر زیروزبر کے محمدلکھاہواہے آوازآئی یہی رسول اللہ ہیں ۔سجدہ تعظیمی کرلو۔میرے ذہن میں سوال ابھرارسول اللہ ﷺ تونوری ہیں ،یہ سانولے کیوں ہیں جواب آیاتیرادل ابھی سیاہ ہے۔سیاہ آئینے میں سفید بھی سیاہ ہی نظرآتاہے بات سمجھ میں آئی اُٹھناچاہالیکن معلوم ہواکہ جسم پرسخت گرفت ہے اور وہی سایہ سرپرمسلط ہے ۔قدم بوسی کالمحہ گزرگیادل میں سخت ملال ہے اور اس سایہ پربڑاغصہ آرہاہے ۔جی چاہتاہے کہ سایہ کو خوب گالیاں بکوں لیکن یہ بھی خیال آتاہے کہ اس سے ہدایت بھی ہوئی اورخون جگر پی کررہ جاتا ہوں وقت گزرتاگیااسم ذات کے ذکر قلبی روحی سری وغیرہ ہوتے رہے ۔ایک دن ذکرجہر کی ضربیں لگارہاتھادیکھاکہ ایک سیاہ رنگ کا موٹاتازہ کُتاسانس کے ذریعے باہر نکلااوربڑی تیزی سے بھاگ کر دورپہاڑی پربیٹھ کرمجھے گھورنے لگااور جب ذکر کی مشق بندکی تو دوبارہ جسم میں داخل ہوگیا۔اب دوران ذکر گاہے بگاہے میں اس کُتے کو دیکھتا۔کچھ عرصہ کے بعدمیں نے دیکھا کہ وہ کافی کمزورہوچکاتھا۔ایک دن ایسابھی آیاکہ وہ جسم سے نکلتالیکن کمزورہونے کی وجہ سے بھاگ نہ سکتا۔اللہ ھُو کی ضربوں سے اس طرح چیختاچلاتاجیسے اسے کوئی ڈنڈوں سے ماررہاہو۔اب کئی دنوں سے اس کا جسم سے نکلنابند ہوگیاتھالیکن دورانِ ذکر ناف کی جگہ بچے کی طرح رونے کی آوازآتی کہ ہائے میں مرگیاہوئے میں جل گیا۔تقریباًتین سال بعد جہاں سے رونے کی آوازآتی اب کلمہ کی آوازآناشروع ہوگئی اور دن بدن یہ آوازبڑھتی گئی ناف کی جگہ ہروقت دھڑکن رہتی جیساحاملہ کے پیٹ میں بچہ ہو ۔ایک دن ذکر میں مشغو ل تھاجسم سے پھر کوئی چیز باہرنکلی دیکھاتوایک بکرامیرے سامنے ذکرسے جھول رہاتھاکبھی وہ بکرامیرے جسم میں داخل ہوجاتااورکبھی میرے ساتھ ساتھ رہتا۔
کچھ ماہ بعد اس بکرے کی شکل بدلناشروع ہوگئی کبھی تووہ مجھے بکرادکھائی دیتااورکبھی میری شکل بن جاتا۔اب وہ میری شکل بن چکاتھا۔فرق صرف آنکھوں میں تھا اس کی آنکھیں گول اور بڑی تھیں میرے ساتھ ذکر میں بیٹھتامیرے ساتھ نمازپڑھتااورکبھی کبھی مجھ سے باتیں بھی کرتااورایک دن اس نے اپنا سرقدموں میں رکھ دیا اور کہااے باہمت شخص ،جانتاہے میں کون ہوں میں نے کہا خبرنہیں کہنے لگامیں تیرا نفس ہوں میں اور میرے مرشدنے تجھے دھوکہ دینے کی بہت کوشش کی لیکن تیرامرشدکامل تھاجس نے تجھے بچالیا۔میں نے کہامیرامرشدکون ۔اس نے کہاجس سایہ سے تجھے ہدایت ہوئی وہ تیرامرشدتھااورجس کی وجہ سے تجھے بدگمانی ہوئی وہ میرامرشدابلیس تھاجو تیرے مرشد کے روپ میں پیشاب میں نظرآیاجو مصنوعی ۔۔۔رسول ۔۔۔۔بن کرآیاتھاوہ بھی میرامرشدہی تھااوراس وقت جس نے تجھے سجدہ ابلیس سے بچالیاوہی تیرامرشدتھا ۔
آج آدھی رات ہوچکی ہے میں حسبِ معمول ذکرانفاس میں مشغول ہوں چلہ گاہ کے باہر گھنٹیوں کی آوازیں آناشروع ہوگئیں اور آہستہ آہستہ میوزک کی طرح بلندہونے لگیں ۔میں نے چلہ گاہ سے اُٹھ کردیکھاپندرہ بیس لڑکیاں گول دائرے کی شکل میں رقص کررہی تھیں جسم پتلے اور قد درمیانہ تھے پشت پرپرندوں کی طرح پر لگے ہوئے تھے جن کے اوپربال تھے رقص بھی انوکھا اور مخلوق بھی عجیب تھی۔ سماں بھی دن کی طرح ہوگیاتھامیں نے سمجھا پریاں ہیں اور ان کا رقص دیکھنے میں محوہوگیا۔ آوازآئی انہیں چھوڑ اور ذکرکر ۔میں نے کہا ذکرتوروزہی کرتے ہیں اور روز ہی کریں گے لیکن یہ رقص توکبھی نہیں دیکھااور شاید آئندہ بھی نہ دیکھ پائیں۔میں چاہتاتھاکہ ان کی شکل بھی صاف صاف نظر آئے میں دو قدم آگے بڑھتاان کا دائرہ بھی دوقدم پیچھے ہٹ جاتااور اسی طرح بڑھتے ہٹتے ہوئے اور ان کے چہرے کا تجسس لئے ہوئے میں باغ سے باہر نکل گیااور پھر وہ مخلوق نظروں سے غائب ہوگئی۔ بڑے بڑے قد کے کالے آدمی میرے اوپر جھپٹے خوب مارااتناماراکہ میں بے ہوش ہوگیاجب سورج کی روشنی منہ پڑی تو ہوش آیا جسم سخت دکھ رہاتھا ہر ہڈی درد ظاہر کررہی تھی سوچااگر مرجاتاتوکیاہوتا،وہ سائے جو اردگرد منڈلاتے رہتے تھے آج وہ بھی کام نہ آئے ان پر توقع بیکارہے میں اپنے آپ کو ایک ولی سمجھناشروع ہوگیاتھالیکن آج پتہ چلاکہ میں کچھ بھی نہیں خواہ مخواہ اتناعرصہ ضائع کیاپھر وہی خیالات شروع ہوگئے دھوبی کا کُتاگھرکا نہ گھاٹ کا۔اگرتیرامرشد کامل ہوتاتوضرورمدد کو پہنچتااور اس بزرگ کی بات بھی یادآئی کہ ہرشخص قلندرنہیں بن سکتا،اب ماں ،باپ اور بچے یاد آناشروع ہوگئے۔سوچا کہ کسی سے کچھ رقم مانگ کر نواب شاہ چلاجاؤں گا ۔وہاں رشتہ دارہیں ان سے کرایہ لے کر پنجاب چلاجاؤں گا ،چلہ گاہ میں ایک خادم بنام صالح محمد تھا وہ مجھ سے بہت عقید ت رکھتااورڈیوٹی والافقیر سمجھتا۔میری نظر اس پر تھی آج وہ چلہ گاہ میں نہ آیا۔درد اور بدگمانی کی وجہ سے آج مجھ سے کوئی نماز اد انہ ہوئی ساراد ن مستانی کی جھونپڑی میں پڑارہاحتیٰ کہ مغرب کی نماز کا وقت ختم ہو گیا اورپھر فاتحہ کا وقت بھی ختم ہونے لگا۔آسمان پر اندھیرا چھا چکا تھا اچانک میری نظر شمال کی طرف آسمان پر پڑی توکچھ عربی الفاظ نظرآئے ۔غورسے دیکھاتو الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنونلکھاہواتھا۔میرے دل میں خیال آیا،یہ جو آیت آسمان پردکھائی گئی اللہ کے حکم سے ہوگی یعنی اللہ کی رضاہے جب اللہ کی رضاہے توپھرڈرکس کاہمت کی اور چلہ گاہ میں پہنچ گیا۔اب میراتوکل بجائے بزرگوں کے اللہ پرقائم ہوچکا تھا۔ایک دن باغ میں لیٹ کر مراقبے کی کوشش کررہاتھا،ششکار کی آوازسنائی دی آنکھیں کھول کردیکھاتقریباًایک گز کا سانپ مجھے گھور رہاتھااب وہ میری طرف بڑھامجھے وہ آیت یا د آئی سوچااس کی حقیقت کا تجربہ کیا جائے وہ بالکل میرے منہ کے قریب پہنچ گیا جونہی وہ ماتھے کو کاٹنے کے لئے لپکامیں نے آنکھیں بند کرلیں،ماتھے پر زبان لگائی اور پیچھے ہٹ گیااور اس طرح تین دفعہ اس نے کاٹنے کی کوشش کی آخرچلاگیا اس واقعہ کے بعد میرایقین بہت ہی پختہ ہوگیاتھا۔
رات کے تقریباًتین بجے ہوں گے ذکر کی مشق کے بعد کھڑے ہوکر درود شریف کا ورد کررہاتھا۔فجر کا سماں ہوگیاچشموں کی طرف سے بے شمار مرد اوربے شمارعورتیں قطار درقطارکھڑی ہیں ،سوچتاہوں کہ شاید آج کوئی مرتبہ ملنے والاہے یہ لوگ مجھے دیکھنے کے لئے آئے ہیں لیکن خیال آتاہے کہ ان کی پشت میری طرف ہے یہ کسی اور کا انتظارکررہے ہیں مغرب کی طرف سے ایک سبزرنگ کا روضہ اُڑتاآرہاہے اورجہاں وہ لوگ جمع ہیں وہیں اترگیا۔روضے میں سے ایک نورانی صورت نمودارہوئی عورتوں نے دیکھ کرجھومناشروع کردیا ان کی زبان پریہ الفاظ تھے ۔یانبیؐ سلام علیک یارسول ؐ سلام علیک مرد بھی جھو م رہے تھے اور الصلٰوۃ والسلام علیک یارسول اللہ پڑھ رہے تھے اب وہ بزرگ مجمع سے گزرکر میری طرف بڑھے جوں جوں قریب آرہے تھے خوشی سے آنسو جاری ہوگئے دیکھنے کی خواہش ہے لیکن نظراوپرکو نہیں اُٹھتی نورہے جسے آنکھوں کو دیکھنے کی تاب نہیں ۔نہ دیکھوں توارمان رہے اور دیکھو ں توجان جائے۔
جب تقریباًدس بارہ فٹ کے فاصلے پرپہنچے توجسم جھومتے جھومتے بے قابو ہوگیااورزمین سے تین چارفٹ اُٹھ گیا،یعنی ہوامیں جھوم جھوم کر درود شریف پڑھاجارہاتھا۔مستی کا عالم بڑھا بے ہوشی طاری ہونے لگی اورپھر جسم کے زمین پرگرنے کی آوازسنائی دی جب ہوش آیا تووہ پوراعلاقہ کستوری جیسی خوشبو سے مہک رہاتھا۔دوسری شب روضہ مبارک کی حاضری ہوئی جب دروازے سے اندرداخل ہواتودیواروں سے اتنانوربرس رہاتھاکہ آنکھیں اوپر اٹھائی نہ جاسکتی تھیں کچھ قدم آگے بڑھا لیکن تاب نہ لا سکنے کی وجہ سے واپس آناپڑا۔تین دن بعد پھر روضہ مبارک کا دیدارہوا۔اب بھی دیواروں کی وہی حالت تھی لیکن آنکھوں میں کچھ تاب آگئی تھی اس وجہ سے نظر حضورپاک ﷺ کے قدموں تک پہنچ گئی لیکن چہر ہ مبارک کونہ دیکھا جاسکااورپھر کئی دنوں کے بعد آخر نظرچہرہ مبارک پر ٹک ہی گی پھرایسی ٹکی کہ ہٹنے کانام ہی نہ لیتی۔مجبوراًواپسی ہوتی اوریہ شعر دل میں گونجتارہتا۔
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
قلب حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
اس وقت چلہ گاہ پر کوئی چھت نہیں تھی رات کوبارش ہوتی رہی اورمیں بھیگتارہا۔صبح مطلع صاف ہوگیا دل چاہتاہے کہ کوئی اللہ کا بندہ ایک کپ چائے ہی پلادے۔سامنے رمضان کا ہوٹل ہے چائے بن رہی ہے ۔لوگ پی رہے ہیں اورمیں خیالات میں غرق ہوں کہ تیرے ماں باپ ،بہن ،بھائی،اولاد کاروبار سب کچھ ہے لیکن آج تیرے پاس ایک اٹھنّی بھی نہیں کہ چائے کی پیالی پی سکے ۔مجھے اپنی بے بسی پرخیال آیا اورساتھ دوچارآنسوبہہ گئے ۔اتنے میں ایک شخص آیا اورزبان پر ہاتھ رکھ کر دعاکے لئے اشارہ کیا رمضان بھی پہنچ گیا۔اس نے بتایاکہ ایک سال سے اس کی زبان بندہے ہرعلاج کیاہردربارپرگئے مگرزبان نہ کھل سکی میں نے ویسے ہی کاغذپنسل منگواکر آیت الکرسی لکھ دی کہ اسے پلادو۔وہ شخص پانی پیتے ہی بولناشروع ہوگیا۔اسی وقت لال باغ میں نعرے لگے اورچائے بسکٹوں کاڈھیر لگ گیااورمیرے آنسو پھرجاری ہوگئے کہ اے مالک تیراشکر ہے کہ ایک ناچیز بندہ کو اس قابل بنادیااس واقعہ کے بعد لوگ میری بہت عزت کرتے اورضرورت کی ہرچیز بغیر طلب کے ملناشروع ہوگئی چار سال پھٹاپراناجوڑااترااورنیاکرتااورپاجامہ زیب تن ہوا۔ہر ہوٹل والے کی خواہش ہوتی کہ چائے اورکھانایہیں سے کھائے لوگ بھی دوردور سے دیکھنے کے لئے آتے۔گھر کادیسی گھی مکھن اورمٹھائی وغیرہ لے آتے ۔
ایک رات چشموں کی طرف سے اللہ ھُو کی آواز آنے لگی سمجھاکوئی طالب اللہ ہوگا جاکردیکھتے ہیں چاندنی رات تھی ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اِدھراُدھر سے بے خبرذکر میں مشغو ل تھا،جب اللہ کہتاتوآسمان کی طرف ہاتھ پھیلاتا۔جب ھُوکرتاتودونوں ہاتھوں کو اپنے منہ کی طرف لے آتاجیسے منہ میں کوئی چیز ڈال رہاہو۔میں کافی دیر تک اس انوکھے طریقے کو دیکھتارہااورپھرواپس چلہ گاہ میں آگیاتھوڑی دیرمیں قریبی مسجدسے فجر کی اذا ن بلندہوئی مسجد میں گیاوہی رات والا ذاکرنمازپڑھ رہاتھامیں نے بھی جلدی جلدی نماز پڑھی تاکہ اس سے کچھ رازمعلوم کرسکوں اس سے پوچھاآپ رات کو ذکرکررہے تھے اس نے کہاجی ہاں میں نے کہا یہ ذکرکتنے عرصے سے کررہے ہیں ۔کہنے لگابارہ تیرہ سال ہوچکے ہیں پوچھا یہ طریقہ کونساہے کہنے لگاجب ہاتھ اوپراٹھایا توتصور یہ ہوتاہے کہ اللہ کو پکڑرہاہوں جب ہاتھ منہ کی طرف لایاتوتصور یہ ہوتاکہ اللہ میرے منہ میں چلاگیاہے ۔پوچھایہ طریقہ کس نے سکھایااس نے کہاایک ملنگ ملاتھااس نے اس طرح بتایاپوچھاکوئی کامیابی ہوئی کہنے لگادل تک توابھی ذکرنہیں پہنچا لیکن اتناضرور ہواکہ جب خانہ کعبہ میں اذان ہوتی ہے تومجھے یہاں سنائی دیتی اس نے بتایاکہ مچھیراہوں۔ماچھی گوٹھ کے سامنے میری جھونپڑی ہے جس میں میرے بیوی بچے موجودہیں میں دن کو مچھلیاں پکڑتاہوں اور رات کااکثرحصہ اسی طرح ذکرمیں گزارتاہوں تین ماہ کی بات ہے میری کشتی میں ایک خوبصورت عورت اکیلے میں بیٹھ گئی میں نے بے خودی سے اس کی انگلی پکڑلی اس واقعہ کے بعد وہ اذان کی آوازختم ہوگئی میں تویہی سمجھاکہ بارہ سال کی محنت ایک پل میں ضائع ہوگئی اس کی آنکھوں میں آنسو آئے اور ایک طرف چل دیا۔
لال باغ میں دن کو زائرین آتے اوررات کو طالب اپنی قسمت آزماتے ۔ایک رات جب کہ میں اپنے ذکر میں مشغول تھا چلہ گاہ سے باہر حق اللہ کی صدابلندہوئی تھوڑی دیرتک حق اللہ ہوتارہاپھرایسے لگاجیسے کوئی کسی کو ڈنڈے ماررہاہواورپھرگالیاں بکنے کی آوازآنے لگی ساری رات بے لطفی میں گزری ۔صبح جب چلہ گاہ سے باہر نکلادیکھاکافی ضعیف آدمی لیٹاہواتھا۔مجھے دیکھ کربیٹھ گیااور اپنی طرف بلالیااورکہنے لگا توساری رات ذکر کرتاہے کیاتجھے رکاوٹ نہیں ہوتی میں نے کہاپہلے توکبھی نہیں ہوئی لیکن آج آپ کے آنے سے ہوئی ،کیونکہ تم کبھی زمین پرڈنڈے مارتے اورکبھی گالیاں دیتے تھے کہنے لگابخدامیں تمہیں گالیاں نہیں دے رہاتھابلکہ جب میں ذکرکرتاکچھ آدمی ڈنڈے لے کرآتے اورمجھے مارتے اورپھر میں ان کو اپنے ڈنڈے سے مارتاپھر وہ مجھے گالیاں بکتے اورمیں ان کو بکتا ۔۔۔۔۔عرصہ چھ سال سے یہی حال ہے سوچاکہ چلہ گاہ پر قسمت آزماؤں لیکن کم بخت یہاں بھی پہنچ گئے ۔میں نے کہاکوئی مرشد پکڑوجو ان سے نمٹے کہنے لگاظاہرمیں توکوئی ایسانظرنہیں آتاجو اس راستے پرچلاسکے ۔ایک دن میں مرید ہونے کے لئے غارکے پاس والے مزارپرگیا۔راستے میں آوازآئی میں ہی تمہارا لئے کافی ہوں ۔میں نے سمجھااللہ تعالیٰ کی آوازہے اورپھرمیں نے کبھی بھی مرشد کے بارے میں نہ سوچا۔تقریباًایک ماہ تک بڑے میاں اسی طرح شور شراباکرتے رہے ایک صبح دیکھاکہ بڑے میاں آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے ہیں ظہر تک اسی حال میں رہے لوگوں کاخیال تھاکہ دیدارِالٰہی میں پہنچ گئے ہیں عصر کے وقت کچھ سائے نظرآئے جو بڑے میاں کو باندھ کر دریاکی طرف لے جارہے تھے اوربڑے میاں کو دریامیں گرادیا۔
لوگوں نے ان کو دریاسے نکالاا ن کی زبان پریہ الفاظ تھے ۔مجھے فوراًدربار شریف لے چلو ۔یہاں شیطانوں نے پریشان کردیاہے لوگ انہیں ٹانگے میں ڈال کرسہون شریف لے گئے اوربڑے دروازے کے نزدیک ہی ان کو لٹادیاوہاں ان کی حالت کچھ سنبھلی لیکن شناخت کا مادہ ختم ہوگیااورکچھ دنوں کے بعدان کا انتقال ہوگیا۔
ایک دن باغ میں ایک لمباتڑنگا عمررسیدہ شخص آیااورمجھے گھورنے لگااورپھر چشموں کی طرف چلاگیا۔تقریباًتین بجے شب وہ دوبارہ آیا۔اندھیرے میں اس کی آنکھیں آگ کے انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں جوں جوں قریب آتاجسم میں سنسنی پھیل جاتی ۔حتیٰ کہ بالکل ہی دوتین فٹ کے فاصلے پرآگیامیں نے دیکھاکہ میرے سینے کے ذکربہت ہی تیزہوگئے اورسینے سے ایک سفید رنگ کا شعلہ نکلاجو اس کے جسم پرپڑااوروہ اس شعلے کی تکلیف سے چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔اب اس نے پتھر اٹھاکرمجھے مارنے شروع کردیئے ۔اب میری شکل کا ایک اورآدمی اس کے سامنے آگیااورمیں اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔وہ میراکوئی جُسّہ تھاوہ آدمی کچھ پڑھ کرجُسّے پرپھونکتاتوآگ کے شعلے نکلتے اورجُسّے کو تکلیف ہوتی اورجُسّہ کچھ پڑھ کراس پرپھونکتاتواس کو تکلیف ہوتی ۔تقریباًآدھ گھنٹہ ایساہوتارہااورپھر اس کے منہ سے لگاتار آگ نکلناشروع ہوگئی اورجُسّہ فوراًکھجورکے درخت پرپرندے کی طرح اڑکربیٹھ گیااس کے منہ کی آگ وہاں تک نہ پہنچ سکتی تھی اس لئے اس نے درخت پرپتھر برساناشروع کردیئے اورکوئی بھی پتھر جُسّے کو نہ لگا۔حتیٰ کہ غصے میں آکر اس نے درخت پرچڑھناشروع کیااورجب وہ جُسّے کے قریب پہنچا توجُسّہ شاہین کی طرح آسمان کی طرف پروازکرگیااوروہ دیکھتاہی رہ گیا۔وہ یہی سمجھ رہاتھاکہ ساراکمال میرے ظاہری جسم کا ہے اورپھر حیرانی وپریشانی کی حالت میں وہ باغ سے باہر چلاگیا۔اس واقعہ کے بعدمیرا جُسّہ کئی لوگوں کو ظاہرمیں ملناشروع ہوگیا۔لوگ مجھے سہون دیکھتے جب لال باغ آتے تویہاں بھی موجودپاتے اورپھرمیری شکل کے نو( ۹) انسان ظاہر ہوئے جب ذکرکرتاحلقہ بناکربیٹھ جاتے اورجب نمازپڑھتاتومقتدی بن جاتے ۔جب میں سوتامیری حفاظت کرتے اورنماز کے لئے جگادیتے اوربعد میں ان ہی جُسّوں نے خدمت خلق کاکام انجام دیا،یعنی جنات کے مریضو ں کے جنات پکڑتے ۔کشف والوں کی رہبر ی کر تے اورمیرے عقیدت مندوں کو خواب یا ظاہر میں میراکوئی پیغام پہنچاتے۔جن لوگوں کا اسم ذات کاذکردیاجاتاان کے دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملانے کی کوشش کرتے ۔اس طرح ہزاروں کے قلب اسم ذات سے منورہوئے۔
ایک دوپہر کو میں چشموں کی طرف چلاگیاراستے میں ایک نوجوان عورت لیٹی ہوئی تھی۔اس نے مجھے بڑی عاجزی سے پکاراکہ سائیں باباادھر آؤ۔میں اس کے قریب چلاگیااورپوچھاکہ تم اس ویرانے میں اکیلی کیوں اورکیسے آئی ہو۔وہ رونے لگی اورکہامیری کوئی اولادنہیں ہے دعاکرواللہ تعالیٰ مجھے ایک فرزند دے دے میں نے کہامیں ابھی دعاؤں کے قابل کہاں ہوا۔پھرکہنے لگی اچھاہاتھ لگاکردیکھوکہ پیٹ میں بچہ ہے یانہیں۔میں نے کہاکسی عورت کودکھاناکہنے لگی اس وقت تم ہی سب کچھ ہواورپھربانہوں سے لپٹ گئی اس کی آنکھیں بلور کی طرح چمک رہی تھیں اورمیں بانہوں سے چھڑانے کی کوشش کرتارہالیکن اس کی گرفت سخت تھی ۔آخرمیں نے عاجزی سے کہااے محترمہ مجھے چھوڑدے ۔میں اس وقت چلہ میں ہوں اورجلالی اورجمالی پرہیز کی وجہ سے دنیاکو چھوڑے ہوئے ہوں۔کہنے لگی مجھے اس سے کیااورپھرگریبان بھی پکڑلیا۔اتنے میں تین چارآدمی چشموں کی طرف سے آتے ہوئے دکھائی دیئے اوراس نے مجھے چھوڑدیااورمیں باغ میں واپس پہنچ گیا۔اب اس عورت نے بھی باغ میں ڈیرا لگالیادن کو میرے آگے پیچھے گھومتی رہتی لیکن رات کو کہیں نظرنہ آتی ایک ہفتہ اسی طرح گزرگیاایک رات وہ چلہ گاہ میں پہنچ گئی اورمجھے چھیڑنے لگی ۔پاس ہی قرآن مجید پڑا ہوا تھا۔اسے اٹھا کر پھینکنے لگی میں نے جلدی سے قرآن مجید اس کے ہاتھوں سے چھینا۔اب وہ مجھ سے لپٹنے کی کوشش کررہی تھی اورمیں اسے دھکے دے کر باہرنکالنے کی کوشش کررہاتھا۔اچانک اس کی صورت بدلناشروع ہوگئی غور سے دیکھابجائے ایک گوری نوجوان حسینہ کے کالی کلوٹی لاغرسی بڑھیانظرآرہی تھی جس کا چہرہ پچکاہوااورلمبے لمبے دانت باہر کونکلے ہوئے تھے میں گھبرایاسردی کے موسم میں پسینہ چھوٹاخیریت اس میں سمجھی کہ چلہ گاہ سے بھاگ جاؤں ۔بھاگااورمستانی کی جھونپڑی میں چلاگیا۔مستانی ایک بڑی سی ریلی اوڑھے سورہی تھی میں اس کی ریلی ہٹا کراسکے قدموں کی طرف لیٹ گیا وہ عورت شیرنی کی طرح میرے پیچھے بھاگی۔جھونپڑی کیطرف بھی آئی مجھے کہیں نہ پاکرواپس چلی گئی اور اس واقعہ کے بعد دوبارہ کبھی بھی نظرنہ آئی۔
تقریباًآدھ گھنٹہ بعد مستانی نے کروٹ بدلی اس کے پاؤں میرے سر کولگے اوراٹھ کربیٹھ گئی۔میں نے کہاڈرو نہیں میں خودہی ہوں ۔کہنے لگی آج رات کیسے آگئے میں نے کہاویسے ہی۔پھرپوچھاشاید سردی لگی ۔میں نے کہاپتہ نہیں اس نے سمجھاشاید آج کی اداؤں سے مجھ پر قربان ہوگیاہے اورمیرے قریب ہوکرلیٹ گئی اورپھرسینے سے چمٹ گئی ۔ایک آفت سے بچادوسر ی آفت میں خودپھنسا۔میں نے ہٹنے کی کوشش کی ایسالگاجسم میں جان ہی نہیں چپ چاپ لیٹاسوچتارہافقرکے لئے دنیاچھوڑی۔لذات دنیا دچھوڑے اپنی خوبروبیوی چھوڑی ،جنگل میں ڈیرالگایالیکن شیطان یہاں بھی پہنچ گیا۔اب اللہ تعالیٰ ہی حامی و ناصرہے کچھ دیر بعد صبح کی اذان ہوئی،جسم کو زبردست جھٹکالگاجیسے کسی نے بٹھادیاہواس کرنٹ کو مستانی نے بھی محسوس کیااوراس جھٹکے کے ساتھ مستانی کے ہاتھ بھی سینے سے ہٹ گئے اورمیں چلہ گاہ میں چلاگیا۔
اب تھوڑاسامستانی کاواقعہ بھی پیش کیاجارہاہے۔
پہلے دن جب لال باغ پہنچاتوکوئی خاص ریل پیل نہ تھی ،چلہ گاہ پرمحکمہ اوقاف کا ایک خاد م موجود تھا ۔مغرب کے وقت سب لوگ چلہ گاہ چھوڑ کر چلے گئے ۔جب میں مغرب کی نماز اورفاتحہ سے فارغ ہواتووہی مستانی میرے پاس آئی اوربڑے اخلاق اورپیارسے کہابھائی اگرکسی چیز کی ضرورت ہوتوبتاؤہم حاضرہیں اورمجھے اپنی جھونپڑی میں لے گئی اوراُبلے ہوئے نمکین چاول کھانے کو دیئے اورپھرایک بھنگ کاگلاس پیش کیا۔جسے میں نے قبول نہ کیا۔کہنے لگی تُوزیارتی ہے یافقر کے لئے آیاہے میں نے کہافقرکے لئے آیاہوں ۔کہنے لگی فقیر لوگ بھنگ چرس پیتے ہیں ۔میں نے کہایہ نشہ ہے جو شریعت میں حرام ہے کہنے لگی کیاتونے حضرت خضرؑ اورموسیٰ ؑ کا واقعہ نہیں سنا۔موسیٰؑ شریعت کے عالم تھے اورخضرؑ طریقت کے فقیر تھے جوموسیٰؑ کے نزدیک گناہ تھاوہ خضرؑ کے نزدیک کارِ ثواب تھا۔سن ہم فقیر اسے کیوں پیتے ہیں جب دنیا کا خیال اورعزیزوں کی یاد ستاتی ہے توہم بھنگ یا چرس پی لیتے ہیں ،ان کے پینے سے سب خیالات کافورہوجاتے ہیں اوربس اللہ ہی یاد رہتاہے دوسری بات لوگ ہمیں فقیر سمجھ کر ہمارے پیچھے لگ جاتے ہیں اورہمارے اس فعل سے وہ متنفر ہوجاتے ہیں اورہمیں بھی ملامت ملتی ہے جوہمارے لئے سلامتی ہے قلندر پاکؒ نے میری ڈیوٹی لگارکھی ہے کہ تم جیسے طالبوں کی خدمت او ررہبری کروں۔تیری ایک بیوی ہے جس کا رنگ سفیدہے اورجسم ذراموٹااورقددرمیانہ ہے تیرے تین بچے ہیں جن میں سے ایک کا تیرے آنے کے بعد انتقال ہوچکاہے جس کی تجھے خبرنہیں۔تیرے مکان کے تین کمرے ہیں اور صحن میں شہتوت کا درخت ہے جو کمرہ مشرقی ہے اس میں بغیر داڑھی کے تیر افوٹو لگا ہواہے۔کیااب بھی تجھے مجھ پر یقین نہیں ،کیاکچھ اورکہوں ۔میں نے کہابس اورسوچتاہواچلہ گاہ کی طرف چلاگیاکہ یہ عورت تنہابے خوف اس جھونپڑی میں رہتی ہے جبکہ چاروں طرف ویرانی اورسناٹاہے اورجوکچھ اس نے بتایاہے وہ بھی صحیح ہے ۔صرف بچے کے انتقال کے بارے میں مجھے شک ہے یہ عورت چلہ گاہ کی خدمت بھی کرتی ہے ۔یہاں استدراج کاکیاکام ضرورکوئی اللہ والی ہوگی۔میں دن کو کبھی کبھی اس عورت کے پاس چلاجاتاوہ بھی عجیب وغریب فقرکے قصے سناتی اورکبھی قہوہ اورکبھی کھانابھی کھلادیتی۔باغ میں آنے کے بعد اڑھائی سال بعد میر ی ملاقات سہون شریف میں ایک رشتہ دار سے ہوئی ۔مختصر سی ملاقات میں انہوں نے بتایاتویہاں فقیری ڈھونڈ رہاہے گھرمیں تیراماتم ہوچکاہے۔تیر ی خالہ زاد بہن اورچھوٹابچہ بھی اللہ کوپیارے ہوگئے ہیں ۔تیرے ماں باپ ،بہن بھائی سخت پریشان ہیں ہوسکتاہے اسی ماہ تیری بیوی کانکاح تیرے چھوٹے بھائی سے کردیاجائے تُوگھرمیں جایا اپنی خیریت کی خبردے۔کچھ گھر کی یاد دوبارہ آنے لگی اورمستانی پربھی میراپختہ یقین ہوگیاکہ اس نے بچے کے بارے میں جوکچھ کہاتھاصحیح نکلا۔سہون شریف سے سیدھامستانی کی جھونپڑی میں پہنچااورلیٹ گیا۔اتنے میں مستانی باادب کھڑی ہوگئی اورمجھے بھی کھڑے ہونے کااشارہ کیا۔میں بھی مستانی کی طرح باادب کھڑاہوگیامستانی نے کہاکہ قلندرپاکؒ اوربھٹ شاہؒ والے آئے ہیں اورکہتے ہیں کہ ریاض کو گھرکی یادستارہی ہے ۔کافی کوشش کرتاہے کہ بھول جاؤں مگربھول نہیں پاتا۔اس کو ایک گلاس بھنگ کا پلادوتاکہ ذہن سے سب خیال نکل جائیں اس کے بعد مستانی نے جھک کرسلام کیااوربیٹھ کر بھنگ کوٹنے لگی ۔اس کا خیال تھایہ اب ضروربھنگ پیئے گا لیکن وہ بھنگ کوٹتی رہی اورمیں چلہ گاہ کی طرف چل دیا۔آج چلہ گاہ میں جب ذکر سے فارغ ہواتواونگھ آگئی ۔کیادیکھتاہوں ایک بزرگ سفید ریش چھوٹاقد میرے سامنے موجود ہے اوربڑے غصے سے کہہ رہاہے کہ تُونے بھنگ کیوں نہیں پی۔میں نے کہاشریعت میں حرام ہے ۔اس نے کہاشرع اورعشق میں فرق ہے کوئی بھی نشہ جس سے فسق وفجورپیداہوبہن بیٹی کی تمیز نہ رہے خلق خداکوبھی آزارہوواقعی وہ حرام ہے اورجونشہ اللہ کے عشق میں اضافہ کرے ،یکسوئی قائم رہے خلق خداکوبھی تکلیف نہ ہووہ مباح بلکہ جائزہے ۔پھراس نے کہاقرآن مجید میں صرف شراب کے نشے کی ممانعت ہے ۔جو اس وقت عام تھی بھنگ چرس کا کہیں بھی ذکرنہیں ملتاصرف علماء نے ا س کے نشے کو حرام کہاہے اگربات صرف نشے کی ہے توپان میں بھی نشہ ہے تمباکومیں بھی نشہ ہے اناج میں بھی نشہ ہے عورت میں بھی نشہ ہے دولت میں بھی نشہ ہے توپھر سب نشے ترک کردو۔اب وہ بزرگ بھنگ کا گلاس پیش کرتے ہیں اورمیں پی جاتاہوں اوراسکو بے حد لذیذ پایا۔
سوچتاہوں بھنگ کتناذائقہ دارشربت ہے ۔خواہ مخواہ ہمارے عالموں نے اسے حرام کہہ دیاجب آنکھ کھلی توسورج چڑھ چکاتھا،اب میرے پاؤ ں خودبخودمستانی کی جھونپڑی کی طرف جانے لگے ۔مستانی نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیااورکہارات کو بھٹ شاہ ؒ والے آئے تھے اور تمہیں بھنگ پلاکرچلے گئے ۔تم نے ذائقہ توچکھ لیاہوگایہی ہے شرابِ طہورا۔مستانی نے کہابھٹ شاہ ؒ والے حکم دے گئے ہیں اس کو روزانہ ایک گلاس الائچی ڈال کرپلایاکرو۔میں سوچ رہاتھاپیوں یا نہ پیوں کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھاکیونکہ کچھ بزرگوں کے حالات کتابوں میں پڑھے تھے کہ ان کی ولایت مسلّم تھی لیکن ان سے بظاہر کئی خلاف شریعت کام سر زدہوئے جیساکہ سمن سرکار کابھنگ پینا،لال شاہ ؒ کانسوار اورچرس پینا،سداسہاگنؒ کاعورتوں سالباس پہننااورنمازنہ پڑھناامیرکلال کا کبڈی کھیلنا،سعید خزاری کا کُتوں کے ساتھ شکارکرنا،خضرعلیہ السلام کا بچے کو قتل کرنا،قلندرپاک ؒ کانمازنہ پڑھنا۔داڑھی چھوٹی اورمونچھیں بڑی رکھنا۔حتیٰ کہ رقص کرنا رابعہ بصری کا طوائفہ بن کر بیٹھ جانا۔شاہ عبدالعزیز ؒ کے زمانے میں ایک ولیہ کا ننگے تن گھومنا لیکن سخی سلطان باھُوؒ نے فرمایاتھاکہ بامرتبہ تصدیق اورنقالیہ زندیق ہیں ۔مجھے بھی ماسوائے باطن کے ظاہرمیں کچھ بھی تصدیق کا ثبوت نہ تھاخیال آتاکہ کہیں پی کرزندیق نہ ہوجاؤں۔پھرخیال آتاکہ اگربامرتبہ ہواتواس لذیزنعمت سے محروم رہوں گا۔آخریہی فیصلہ کیا،تھوڑاساچکھ لیتے ہیں اگررات کی طرح لذیز ہواتوواقعی ہی شراباًطہوراہی ہوگا۔
آج مستانی میرے اقرار پر بہت خوش ہے اس نے بھنگ میں پستہ بادام اور الائچی بھی ڈالی ہے۔گلاس میں برف بھی پڑی ہوئی ہے گلاس ہاتھوں میں لیتا ہوں ہاتھ کانپتے ہیں اور اوپر کو نہیں اٹھتے ہمت کر کے منہ تک لے آتا ہوں ۔دیکھتا ہوں چھپکلی نما کیڑے شربت میں نیچے اوپر ہو رہے ہیں میں نے گھبرا کر گلاس رکھ دیا اور اٹھ کر چپ چاپ چلا گیا ۔ مستانی میری اس حرکت سے سخت ناراض ہے کئی دن تک مجھ سے بات نہیں کری اور میں نے بھی جھونپڑی میں جانا چھوڑ دیامحرم کی نو تاریخ ہے۔مستانی نے مجھے بلایا اور حضرت امام حسینؓ کی یاد میں گلے سے لگا کر رونا شروع کردیا۔اتنا روتی ہے جیسے اس جیسا غم خوار دنیا میں کوئی نہ ہوگا اور ان کی یاد میں میرے بھی آنسو بہنا شروع ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد میں اورمستانی پہلے سے بھی زیادہ قریب ہو گئے۔ وہ ہربات پر بھائی بھائی کہہ کر پکارتی اور کبھی سرکو دبا بھی دیتی ۔اب وہ بالکل بھنگ کے لئے مجبور نہیں کرتی بلکہ میری موجودگی میں خود بھی بھنگ نہیں پیتی ۔کبھی کبھی اس کی آنکھوں میں عجیب سی مستی چھا جاتی ۔ پھر مختلف اداؤں سے باتیں کرتی ،سیاہ چہرے کو آٹے سے سفید کرتی ۔ لڑکیوں کی طرح اتراتی جبکہ اس کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی ،کبھی میرے ہاتھ کو پکڑکر سینے سے لگاتی اور کبھی ناچنا شروع ہو جاتی اور میں اس کی عادت سمجھ کر نظر انداز کر دیتا۔
میں ساری رات چلہ گاہ میں ذکر و فکر میں گزارتا اور ایک کپ قہوے کے لالچ میں مستانی کی جھونپڑی میں چلا آتا ۔ایک دن میں نے محسوس کیا کہ قہوہ کاذائقہ بدلا ہوا ہے مستانی سے پوچھا کیا وجہ ہے کہنے لگی چائے کی پتی صحیح نہیں ہے ۔دوسرے گھونٹ پر عجیب سی بو محسوس ہوئی اور میں نے قہوہ چھوڑ دیا۔کیونکہ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ قہوہ سے بھنگ کی بو آرہی ہے ۔اس بوکو میں کئی دفعہ مستانی کی جھونپڑی میں محسوس کر چکا تھا اور اب قہوہ بھی پینا پلانا بند ہو گیا ۔دوسرے تیسرے دن جھونپڑی میں جاتا اگر میرے سامنے قہوہ بنتا تو پی لیتا۔مجھے اور مستانی کو ایک جگہ رہتے تین سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ہم دونوں ایک دوسرے سے مانوس ہو گئے تھے اور ایک دوسرے کی غلطیوں کونظر انداز کر دیتے تھے۔اگر میں جھونپڑی میں نہ جاتا تو زبردستی ساتھ لے جاتی اور کھانے کی چیز مجھے دیتی اور میں بڑی احتیاط اوردیکھ بھال سے کھا لیتا ۔گونگے کے واقعہ کے بعد گردونواح کے لوگ کافی تعداد میں میرے پاس آنا شروع ہو گئے کسی کو پانی دم کر کے دیتا کسی کو آیت الکرسی لکھ دیتا اب میں نے سوچا کہ رجوعات خلق میں پھنس گیا ۔بہتر ہے کہ خلق سے نکلوں اور ایسی جگہ جاؤں جہاں کوئی بھی نہ ہو ۔صرف پانی ہو اور کچھ درخت ہوں جن کے پتوں سے پیٹ کو بہلا سکوں اور میں نے بلوچستان میں شاہ نورانی ؒ کے مزار پر جانے کا ارادہ کر لیا ۔مستانی کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا ۔دوسرے دن مستانی نے کہا مجھے بھی حکم ہوا ہے کہ بھٹ شاہ چلی جا ۔مستانی نے گلے میں تسبیحاں لٹکائیں۔ ہاتھوں میں کشکول لیا کا ندھوں پر ریلی اور کمر میں گودڑی سجائی اور پیدل سفر کو تیار ہو گئی جاتے وقت مجھے مصافہ کیا پھر گلے سے لگایا رو رو کر کہنے لگی ہم لوگ بد نصیب ہیں ۔ہم بھی امت رسول ہیں لیکن شیطان کے قبضہ میں ہیں اور شیطان کی طرف سے تم جیسے لوگوں کوبہکانے کے لئے ہماری ڈیوٹیاں لگتی ہیں۔ مجھے کشف بھی شیطان ہی کی طرف سے ہے اور میں تمہارے جیسے کئی طالبوں کو مختلف طریقوں سے گمرا ہ کر چکی ہوں ۔ تم پہلے شخص ہو جو میرے مکر سے بچ گئے ۔میرے لئے دعا کرنا کہ اﷲ تعالیٰ نیک راہ پر چلنے کی توفیق دے کیونکہ عنقریب تمہاری ڈیوٹی دنیا میں لگنے والی ہے ۔ بس اس ٹوٹی پھوٹی اور تجربہ کار محرم کی ایک نصیحت یاد رکھنا ،عورت خواہ بیوی ہی ہو اس کو راز مت دینا۔ مولوی خواہ بیٹاہی ہو اس سے ہوشیار رہنا اور پولیس والا خواہ گہرا دوست ہی ہو اس پر اعتبار مت کرنا اور کبھی کبھی خاص حالتوں میں ہمیں بھی یاد رکھنا۔ میں نے پوچھاتیرا گھر بار،ماں باپ یا رشتہ دار کہاں رہتے ہیں ۔کہنے لگی مجھے خبر نہیں ۔اتنا یاد ہے کہ لاہور شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ کسی جگہ رہتی تھی ۔ماں کا پیار بھی تھوڑا تھوڑا یاد ہے چھوٹی ہی عمر میں کوئی شخص مجھے اٹھاکر لے آیا اور شکار پور میں ایک طوائف کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔اس طوائف نے مجھے ماں کا پیار دیا اور مکمل نگرانی میں رکھا ۔اس نے مجھے شراب بھنگ چرس سکھائی اور جب ذرا میں جوان ہوئی تو میں بھی طوائف بن گئی ۔جوانی انہیں گناہوں میں گزاری ۔صدر ایوب نے کوٹھے بند کر دیئے چونکہ میں عمر رسیدہ بھی ہو گئی تھی کوئی پُرسانِ حال بھی نہ رہا گزارہ کے لئے بھیک مانگنا شروع کر دی لیکن وہ نشے جو منہ لگ چکے تھے میسر نہ آئے درباروں میں ان نشوں کی کھلی چھٹی ہے ۔ محکمہ پولیس بھی فقیر سمجھ کر پوچھ گچھ نہیں کرتی۔بس پھرفقر کا لباس پہنا ۔تسبیحاں گلے میں لٹکائیں کشکول ہاتھوں میں لیا اور یاعلیؑ کے نعرے مارنے شروع کر دیئے۔ شاہ لطیفؒ کے دربار پر جھاڑو دینا شروع کر دیا ،میرے پیشے کے کئی اور عورتیں مرد بھی وہاں موجود تھے جو کچھ زائرین سے نذرانہ ملتا کافیوں میں جاتے اور خوب آزادی سے بھنگ چرس پیتے ۔ ایک دن بزرگ خواب میں آئے۔پھروہ حالت بیداری میں ملنا شروع ہو گئے جس کے متعلق وہ بات کہتے پوری ہو جاتی ۔ کبھی کبھی مجھے روپے پیسے کی امداد بھی کرتے اور ان ہی کے حکم کے مطابق میں لال باغ میں تمہیں بہکانے آئی تھی اتنا سمجھتی ہو ں کہ وہ بزرگ نہیں ہیں بلکہ بزرگوں کے مخالف کوئی جنس ہے ۔میں نے کہا اس سے چھٹکارا کیوں نہیں حاصل کرلیتی اس نے کہا میں نے اس کا مال کھایا ہے ۔باطن میں میری شادی اسی سے ہو چکی ہے ۔مستانی خدا حافظ کہہ کر چلی گئی اور میں بھی ایک ہفتہ بعد سہون سے حیدر آباد اور پھر کراچی کے لئے روانہ ہو ا ۔ شاہ نورانی کی بس کا پتہ کیا ۔معلوم ہو ادودن کے بعد جائے گی ۔ اسی اثنا میں روحانی حکم ہو ا کہ حیدرآباد واپس چلے جاؤاور خلق خداکو فیض پہنچاؤمیں نے کہا اگر دنیامیں واپس کرنا ہے تو راولپنڈی بھیج دو ۔ وہاں بھی خلق خدا ہے اور جب دنیا میں رہنا ہے تو پھر بال بچوں سے دوری کیا ۔ حکم ہو ابال بچے یہیں منگوالینا۔ جواب میں کہا ان کی معاش کے لئے نوکری کرنی پڑے گی۔جب کہ میں دنیاوی دھندوں سے الگ تھلگ رہنا چاہتا ہو ں۔جواب آیا جو اﷲ کے دین کی خدمت کرتے ہیں اﷲ ان کی مدد کرتا ہے اور اﷲ انہیں وہاں سے رزق پہنچاتا ہے جس کا انہیں گمان بھی نہیں ہوتا۔
جام شورو میں ٹیکسٹ بک بورڈکے عقب میں جھو نپڑی ڈال کر بیٹھ گئے اور ذکر قلبی اور آسیب وغیرہ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔وہ لوگ جو سہون سے واقفیت رکھتے تھے آناجاناشروع ہو گئے اور میری ضروریات کا وسیلہ بن گئے ۔ اب یہاں بھی لوگو ں کا تانتا بندھا رہتا سیکور ٹی پولیس پیچھے لگ گئی اور چھپ چھپ کرحرکات کا جائزہ لیتی حتیٰ کہ ایک کیمرہ بھی قریبی درخت پر فٹ ہو گیا ۔یونیورسٹی اور میڈیکل کے طلباآتے ۔ ذکروفکر کی باتیں سنتے ۔ ان کو بھی ذکر کا شوق پیدا ہواپرنسپل کو پتہ چلا جو دوسرے عقائد کا تھا ان کو سختی سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور ایک دن پرنسپل نے چوکیدار وں کو حکم دیا یا جھونپڑی اکھاڑدو یااستعفٰی دے دو۔صبح کے وقت کچھ چوکیدارمیرے پاس آئے اورکہا ہمیں جھونپڑی اکھاڑنے کا حکم ملا ہے ۔ہم نے کوئی مداخلت نہ کری اور جھونپڑی اکھاڑ کرسامان دور پھینک دیا ۔
اب حیدرآباد سرے گھاٹ میں رہنے لگا۔ یہاں بھی لوگ آنا شروع ہو گئے ۔لوگ بڑی عقیدت سے ملتے ۔ سوچا کیوں نہ اس سے دین کا کام لیا جائے ۔سب سے پہلے عمر رسیدہ بزرگوں سے ذکر قلب کی باتیں کریں۔انہوں نے تسلیم کیا اور خوب تعریف بھی کری لیکن عمل کے لئے کوئی بھی تیار نہ ہوا۔پھر سوچا علمائے دین سے مدد لی جائے کئی عالموں سے ملا۔ یہ لوگ ظاہرہی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ولایت بھی علم ظاہر ہی میں تھی بلکہ اکثر عالم عامل قسم کے مولوی پیر فقیر بنے بیٹھے تھے ۔بہت کم عالموں نے علم باطن پر صرف گردن ہلائی اکثرمخالفت پر اترآئے ۔پھر ان عابدوں زاہدوں سے بیزارہو کرنوجوانوں کی طرف رخ کیا چونکہ ان کے قلب ابھی محفوظ تھے دلوں نے دل کی بات تسلیم کی اور انہوں نے عملاً لبیک کہا اور پھر وہ نسخہ روحانیت بازاروں میں بکنا شروع ہو گیا پھر وہ نکتہ اسم ذات گلیوں محلوں اور مسجدوں میں گونجا پھر لوگوں کے قلبوں میں گونجا ۔جب اس کے خریدار زیادہ ہو گئے تو نظام سنبھالنے کے لئے انجمن سرفروشان اسلام پاکستان کی بنیاد رکھی گئی اور پھر اس انجمن نے تھوڑے ہی عرصہ میں ہزاروں قلبوں کولرزا،ہزاروں کو گرما اور ہزاروں کو چمکادیا۔
اﷲ تعالیٰ اس انجمن کو مزید ترقی دے اور اس کے کارکنوں کو اس کا دگناصلہ دے۔(آمین)
لطیف آباد میں ایک دن ایک مریض کو لایا گیا جس کو دورے پڑتے تھے اور جس کے متعلق مشہور تھا کہ غوث پاک کی روح مبارک اس کے جسم میں داخل ہوتی ہے لوگ اس سے کافی عقیدت رکھتے ہیں جب میں نے آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی تو اس کا چہرہ سرخ اورآنکھیں بڑی بڑی ہو گئیں ۔کہنے لگا پہچانو میں کون ہوں۔میں نے کہا خود ہی بتا دو۔کہنے لگا میں غوث پاک ہوں ۔کشف کے ذریعہ پتہ چلا کہ یہ ایک شیطان جن ہے جو غوث پاک بن کر سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیتا رہتا ہے ۔اس قسم کے کئی مریض آئے ۔جن میں بہتات عورتوں کی تھی ۔لطیف آباد نمبر 11سے ایک بیس بائیس سالہ نوجوان لایا گیا،اس کی زبان میں یہی الفاظ تھے کہ میں محمد رسول اﷲ ہوں ۔گناہ گاروآؤاپنے گناہ بخشوالو۔وہ لڑکا کسی وظیفہ سے رجعت میں آگیا تھا ۔ایسے واقعات تو بہت ہیں لیکن ان کے بتانے کا مقصد یہی ہے کہ ہزاروں لوگ اس قسم کے دھوکوں میں مبتلا ہیں۔ان دھوکوں سے بچنے کا واحد ذریعہ ذکر اسم ذات ہے ۔
یونیورسٹی سے ایک مریضہ کو لایا گیا ۔بیماری کی وجہ سے زندگی سے بیزار ہو چکی تھی ہر قسم کے علاج سے کوئی افاقہ نہ ہو رہا تھاکشف کے ذریعہ پتہ چلا کہ جنات نے اس کو مریضہ بنا رکھا ہے اس کے باورچی کھانے میں ایک اُلوّ بیٹھا نظر آیا ہم نے اُلوّ کو پکڑا اور ختم کر دیا ۔شام کوبے شمار جنات حملہ آور ہو ئے اور اُلوّ کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے ۔ہمارے ساتھ بھی کافی سارے جنات اور موئکلات تھے ۔مقابلہ شروع ہو گیا۔کچھ ہمارا نقصان اور کچھ ان کا نقصان ہو ا۔وہ جاتے وقت کہہ گئے ہم پھر آئیں گئے ۔صبح لاکھوں کی تعداد میں جنات بدارواح اور خبیث قسم کی چیزیں حملہ آور ہوئیں ۔خوب مقابلہ ہوا دونوں طرف سے بھاری نقصان ہوا اور پھر وہ شام چھ بجے حملہ کرنے کو کہہ گئے۔شام کو ان کے ساتھ ایک بھاری فوج تھی پتہ چلا کہ یہ فوج ابلیس ہے ۔اب بڑے زورو شور سے مقابلہ ہوا۔دیکھا آسمان پر عجیب قسم کے جہاز ہماری فوج پر بمباری کر رہے تھے ہماری فوج بھی مورچوں سے ان پر بمباری کر رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ جنات کے پاس جہاز کہاں سے آگئے اور یہ آناً فاناً مورچے کیسے کھد گئے اور یہ مشین گنیں وغیرہ کہاں سے آگئیں۔ سمجھا شاید اسی دوران ہندوستان پاکستان کی یا عالمی جنگ چھڑگئی ہے پھر سمجھا کہ شاید نظر کو دھوکہ ہو گیا ہے ۔اتنے میں ایک گولہ میری ٹانگ پر لگازخم وغیرہ تو نہ ہوا البتہ ٹانگ میں شدید درد شروع ہوگیا۔ اب وہ گولے موکلات کی مخلوق پر لگتے وہ زخمی ہو جاتے۔ زخمیوں کو کچھ موکلات اٹھا کر برزخ کی طرف لے جاتے اور پھر وہ تھوڑی دیر کے بعد تندرست ہو کر آجاتے ، میں نے دیکھا میرے جُسّے بھی زخمی ہوئے اور انہیں اٹھا کر ایک زمین دوز کمرے میں لے جاتے وہاں باقاعدہ عربی لباس پہنے نرسیں اور ڈاکٹر موجود ہوتے جو ان کی مرہم پٹی کرتے اور جنّات کو گولہ لگتا تو وہ موقع پر ہی مر جاتے۔ دوبارہ زندہ نہ ہو سکتے تین دن یہ لڑائی جاری رہی اور آخر بغیر جیت ہار کے ختم ہو گئی ۔ لڑائی کے بعد پتہ چلا کہ یہ لڑائی ابلیس کا اور تمہارا مقابلہ ہے جتنا جلد ہو سکے عمل تکسیر پڑھ لو اور آج رات ہی عمل تکسیر پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔ رات کو جنگل میں گیا قبر مبارک کا نقشہ بنایا اور اپنے چاروں طرف حصار کر لیااور حصار سے لے کر حدِ نظر تک جنّات اور مؤکلات پھیل گئے اور میرے سر پر بھی نگرانی کرنے لگے اذان کے بعد جب سورہ مزمّل پڑھنے لگاتو ایک اونٹ حصار کے اندر سے ہی زمین سے نکلااس کی گردن بہت لمبی اور منہ بہت چوڑا تھاآہستہ آہستہ میرے سر کی طرف لپکا اور میرا سر گردن تک اس کے منہ میں آ گیا ۔ باقاعدہ اس کے دانت مجھے اپنے گلے میں چبھے ہوئے محسوس ہوئے اور میں موت سے بے نیاز سور ۃ مز مّل پڑھتا رہا ۔ وہ دانت دبانے کی کوشش کرتا لیکن دانتوں کی صرف رگڑ ہی گردن پر محسوس ہوتی ۔ جب سورۃ مزمّل ختم ہوئی تو ایسے لگا جیسے کسی نے اسے کوڑا مارا ہو اور وہ چیختا ہو ا بھاگا۔ اس کی چیخ سے جنّات اور موئکلات ہوشیارہوئے لیکن وہ کسی کو بھی نظر نہ آیا پتہ چلا کہ ابلیس اس عمل کی رکاوٹ کے لئے آیا تھا جو کامیاب نہ ہو سکااب میری ہمت بڑھی اور باطنی طور پر جنّات اور موئکلات کو ساتھ لیا اور اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ پہاڑوں میں بڑے بڑے محل اور قلعے نظر آئے ۔ وہاں کے پہرہ داروں سے مقابلہ ہوتا اکثر بھاگ جاتے لیکن ابلیس کہیں نہ ملتا ۔ ایک دفعہ اس تک ایک قلعے میں پہنچ گئے لیکن وہ طوطا بن کر اڑ گیا ۔ ہم نے بھی اس کا تعاقب نہ چھوڑا ۔ تین دن سے بھوکے پیاسے تھے یہی دھن تھی کہ ابلیس کو پکڑ کر مار اجائے تاکہ ہر کسی کا چھٹکارا ہو جائے صحرا میں بیٹھا کوئی تدبیر سوچ رہا تھا ۔ دیکھا کچھ بزرگ گھوڑوں پر سوار میری طرف آئے ۔ کہنے لگے ادھر کیا ڈھونڈتا ہے ۔ میں نے کہا ابلیس کو پکڑ کر ختم کرنے کا ارادہ ہے وہ بہت ہنسے اور کہنے لگے ارے نادان تو کس چکر میں لگ گیا اگر اس کا مرنا ہوتا تو کیاہم چھوڑ دیتے ۔ بات میری سمجھ میں بھی آئی ۔ ان کا شکریہ ادا کیا اور واپس چھونپڑی میں پہنچ گیا۔ میں نے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لئے جُسّوں کے ذریعے عمل تکسیر پڑھنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی رسالہ روحی شریف اور دُعا ئے سیفی کا وظیفہ شروع کر دیا عمل تکسیر کا فائدہ یہ دیکھا کہ ہر دربار والے بزرگ نے ہماری مناسب امداد کری بلکہ ہمارا کوئی بھی شخص کسی دربار پر جاتا اہل قبر اس کی مدد کرتے اور اس عمل کی وجہ سے کشف القبور کا سلسلہ پھیلا۔
رسالہ روحی شریف کا یہ فائدہ دیکھا کہ مصیبت کے وقت ہفت سلطانوں کی ارواح مدد کو پہنچتیں۔ دوسرا فائدہ یہ دیکھا کہ اگر کوئی آسیب دم وغیرہ سے نہ بھاگتا اگر اس پر رسالہ روحی پڑھا جاتا تو ضرورہی ہٹ جاتا ۔ تیسر ا فائدہ رسالہ روحی کے پڑھنے والوں کو رجعت کا خطرہ نہیں ہے ۔ ایک رات لیٹا ہوا تھا ان چناؤ والے تیرہ آدمیوں میں سے ایک آدمی میرے سامنے آگیا ۔ اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا ایسا لگا کہ میرے اندر سے کوئی چیز کھینچ رہا ہے ۔ میں نے چھوڑانے کی کوشش کی لیکن اپنے آپ کو بے بس پایا اتنے میں ایک تلوار اس کے ہاتھ کی طرف بڑھی اور اس نے فوراً ہاتھ ہٹالیا اور کمرے سے نکل گیا۔ یہ تلوار دُعائے سیفی کا عمل تھاجو میری مدد کو پہنچا۔ میں نے ان تینوں عملوں پر کئی بار مختلف طریقوں سے تجربہ کیا جو کامیاب ہوا اور پھر ان تین عملوں کی اجازت اپنے ذاکروں کودی تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔
لطیف آباد میں رہتے ہوئے تین سال ہو گئے ۔ ایک دفعہ بیوی نے کچھ زیادہ ہی ستایا اور میں نے پھر جنگل کی راہ لی ۔ لال باغ پہنچا تو دیکھا کہ باغ کے باہر بہت بڑی دیوار بن گئی ہے ۔ سامنے بڑا گیٹ ہے۔ جو مقفّل ہے۔ میں کوشش کے باوجود باغ میں داخل نہ ہو سکا ۔واپس ہوا اور سڑک والے ہوٹل کے ملازمین سے پوچھا کہ یہ دیوار کب سے بنی ہے ۔ انہوں نے کہا کوئی دیوار وغیرہ نہیں ہے ۔ ایک نے کہا میں ابھی ابھی باغ سے ہو کر آیاہوں ۔ میں سمجھ گیا داخلے کی اجازت نہیں ہے ہوٹل والے واقف تھے انہوں نے ہوٹل میں ہی بسترا لگا دیا اور میں سو گیا خواب میں دیکھا ہر قسم کے کھانے اور ہر قسم کے پھل ایک جگہ ڈھیرلگے ہوئے ہیں کوئی صدادے رہا ہے۔
تیرا جنگل کا چلہ شہر داری میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور یہ نعمتیں تیرے نصیبے میں لکھی جا چکی ہیں اب تیرا عروج عبادت سے نہیں بلکہ خدمت خلق سے ہے اب دنیا میں رہ کر اسم ذات کو پھیلانا ہے ۔ بیوی سے گزارکر کہ یہ بھی صبر کا اعلٰی مقام ہے اگر تاب نہیں تو بیشک طلاق دے ۔
اس دن کے بعد میری بیوی کے مزاج میں تبدیلی ہو گئی اور اس قسم کے پھل اور کھانے لوگ پکا پکاکر کھلانے میں مصروف ہو گئے اور آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔
آج لطیف آباد میں پھر مستانی کا خیال آیا ، اور چاہا کہ اس کو اپنے پاس رکھ لوں تاکہ اسے بھی راہِ ر است مل جائے ۔ پھر خیال ہوا ۔ ایسا نہ ہو میری بیوی کو بھی موالن بن دے اور خیال ترک کر دیا لیکن تھوڑے دنوں کے بعد پھر اس کی یاد ستائی کہ اس نے بھی کچھ دن خدمت کی ہے اسے بھی کچھ نہ کچھ صلہ ملنا چاہیے سہون شریف ، بھٹ شاہ ؒ ، جئے شاہ نورانی ؒ سب جگہ اس کا پتہ کیا مگر اس کا کہیں بھی سراغ نہ ملاکیونکہ میں حلیہ سے اس کا پتہ کرتا کچھ اسے مستانی اور کچھ لاہوتن کے نام سے پکارتے تھے ۔
ایک دن لال باغ سے سہون کو جا رہا تھا خلیفہ کے گھر کے سامنے چبوترے پر ایک چھوٹا سا مزار ہے۔ جب وہا ں سے گزرا تو صاحب مزار نظر آئے اور اپنی طرف بلایا۔ میں ان کی قبر کے پاس پہنچا اور فاتحہ پڑھی ۔سامنے ایک شخص جھاڑو دے رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ چرس کے کش لگا رہا تھا اب وہ میرے بالکل قریب آگیا اور میں دھوئیں میں گھر گیا ۔ صاحب مزار سے پوچھا ایسے لوگوں کو بھگاتے کیوں نہیں ۔ کہنے لگے یہ موالی اور فاسق لوگ ہیں۔ ہم خود ان سے بیزار ہیں لیکن یہ صرف اس وجہ سے برداشت کئے ہوئے ہیں کہ اگر ہم نے انہیں دھتکار دیا تو یہ لوگ شہروں میں جا بسیں گے اور مخلوق خدا کو نقصان پہنچائیں گے اب میں ان کا راز لینے کے لئے ان کے قریب ہو گیا جہاں دو چار ملنگ بیٹھے نظر آتے بیٹھ جاتا وہ مجھے بھی اپنا ہی سمجھتے اور نشے میں ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتاتے معلوم ہوا کہ کوئی مفرور چور کوئی مفرور ڈاکو اور زیادہ تر سابقہ طوائفوں کے دلا ل تھے ۔
ایک دفعہ ذکر سے مستی کا عالم بڑھا اور پھر وہ سکر و جذب میں تبدیل ہونا شروع ہوگیا ۔ ہر وقت اللہ ھُو کے ذکر اور تصور میں ڈوبا رہتا سخت دھوپ میں پہاڑوں پر اِدھر اُدھر دوڑتا رہتا۔ نمازوں میں کوتاہی ہونا شروع ہو گئی داڑھی مونچھ سر اور بغلوں کے بال وغیرہ بہت بڑھ گئے ۔ حتٰی کہ وہ روز کا نہانا بھی جاتا رہا۔ جسم سے بدبو محسوس ہونے لگی ۔ بغیر وضو کے منہ دھونا بھی مصیبت بن گیا۔ وضو بھی دن میں ایک ہی دفعہ ہوتامنہ اور داڑھی پر خاک جمی رہتی اسی حالت میں چشموں پہ بیٹھا خلا ء کوگھور رہا تھا کہ چند بزرگ تشریف لائے میں تعظیماً اٹھا ایک بزرگ نے بتایا کہ یہ پیران پیر ہیں اور میں ان کے قدموں میں لپٹ گیا انہوں نے شفقت سے کمر پر ہاتھ پھیرا اور کہا اس وقت جنّات اور تجھ میں کچھ فرق نہیں کیا تو نے نہیں سناکہ صفائی نصف ایمان ہے۔ اب تیرا جسم مکروہ ہو چکا ہے یاد رکھ
ناپاک جسم سے نماز پڑھنا گناہ ہے
مکروہ جسم سے نماز پڑھنا تباہی ہے
صاف ستھرے جسم سے نماز پڑھنا نصف ایمان ہے اور جب باطن صاف ہو جائے تو نماز پڑھنا پورا ایمان ہے یعنی وہ حقیقت نماز مل جاتی ہے جو مومن کی معراج ہے اب درود شریف کثرت سے پڑھ ۔ اس وقت تک پڑھ جب تک حالتِ جذب ختم نہ ہو اور پھر میں نے درود شریف کے وسیلے سے سکر پے آغاز سے ہی قابو پا لیا ۔
ایک دفعہ جئے شاہ نورانی ؒ جانے کا اتفاق ہوا لاہوت کی پہاڑیوں میں ایک غار ہے جہاں پتھر کی اونٹنی کے نشان بنے ہوئے ہیں غار کے ارد گرد میلوں تک کوئی آبادی نہیں ہے بڑی بڑی خوف ناک پہاڑیاں ہیں جہاں شیر اور چیتے گھومتے دیکھے گئے ۔ ایک جواں سال شخص غار کے پاس تنہائی میں رہتا ہے اس نے غا ر کا راستہ دکھایا اور مغرب کا کھانا بھی کھلایا یعنی تقریباً ڈیڑھ انچ موٹی روٹی کے ٹکڑے پیش کئے ۔ مغرب اور عشاء کی نماز ساتھ پڑھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی کوئی تارکِ دنیا ہے۔
اتنے میں اس نے سگریٹ سلگایا اور چرس کی بو اطراف میں پھیل گئی اور مجھے اس سے نفرت ہونے لگی رات کو الہامی صورت پیدا ہوئی
یہ شخص ان ہزاروں عابدوں ، زاہدوں ، اور عالموں سے بہتر ہے جو ہر نشے سے پرہیز کر کے عبادت میں ہوشیار ہیں لیکن بخل ، حسد اور تکبر ان کا شعار ہے۔
یہ شخص جس سے تو نے نفرت کری ۔ اللہ کے دوستوں سے ہے عشق اس کا شعار ہے اور یہ نشہ اس کی عادت ہے جبکہ
عشق بدعت کو جلاتا ہے ۔
نظرِ رحمت گناہوں کوجلاتی ہے۔
اور تکبر و بخل عبادت کو جلاتا ہے۔
بس پھر یہی سمجھا کہ
خدا ہے عقل و فہم سے دور
سمجھ جائے جس کو بندہ وہ خدا کیا
ایک دن میں نے اپنی آپ بیتی کا بغو ر مطالعہ کیا اور پھر شریعت کی رو سے دیکھا ۔ ایک واقع ہے کہ غوث پاکؓ کے زمانے میں ایک شخص بہت عبادت کرتا لوگ آپؓ سے پوچھتے کہ اسے کچھ مل گیا ہو گا ۔ آپؓ فرماتے کچھ بھی نہیں ۔ آخر ایک شخص کو تشویش ہوئی اور اس نے چوری چھپے اس عابد کی نگرانی شروع کر دی وہ عابد اپنی جگہ سے اٹھا ایک جھاڑی کے پیچھے گیا۔ جہاں افیون رکھی ہوئی تھی اس نے اس میں سے کچھ کھائی یعنی نشہ کیا اس شخص نے سارا واقعہ غوث پاکؓ کو سنایا آپ نے فرمایا کہ نشہ کرنے والے کی عبادت قبول نہیں ہوتی ۔
دوسرا واقعہ اس کے برعکس ہے کہ حضور پاک ﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان شراب نوشی کے الزام میں پکڑا گیا ۔ کوڑے لگائے گئے دوبارہ پھر اسی الزام میں کوڑے لگائے گئے ۔ سہ بار جب اسی جرم میں لایا گیا تو صحابہؓ نے کہا کہ اس آدمی پر لعنت ہو ۔جو بار بار اسی جرم میں آتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس پر لعنت مت کرو کیونکہ یہ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ سے محبت رکھتا ہے اور محبت رکھنے والا کبھی دوزخ میں نہیں جائے گا پہلا شخص بھی نشہ باز تھا جس کی عبادت رائیگاں گئی ۔ دوسرا شخص بھی نشہ باز تھا جو جنت کا حقدار ہوا ۔ پہلے شخص میں ابھی محبت پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن دوسرے شخص کے دل میں محبت تھی کیونکہ وہ دیدارِ رسول ﷺ میں تھا معلوم ہوا اگر کوئی محبت و عشق کی منزل پا لے تو اس کی بدعتوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے اور یہ منزل بغیر نظر اور قلب کے حاصل نہیں ہوتی ۔
بہت سے اولیاء بھی مرتبہ کے بعد خلافِ شرع کاموں کا شکار ہوئے جیسے مظفر آباد میں سہیلی سرکار ؒ ۔ نہ نماز پڑھتے ، نہ داڑھی رکھتے وفات کے بعد مولویوں نے کہا کہ یہ بے دین تھا اس وجہ سے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھائیں گے لیکن جب منہ سے کپڑااٹھایا تو ریش موجود تھی مری میں لال شاہ ؒ ننگے بیٹھے رہتے ۔ نسوار کانشہ کرتے رہتے اور نماز بھی نہ پڑھتے ۔ لیکن جو کلام منہ سے نکالتے پورا ہو جاتا ۔ سداسہاگن بھی عورتوں جیسا سرخ لباس اور چوڑیاں پہنتے ۔ سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں کہ جب کوئی جسم عشق الٰہی سے نور ہو جاتا ہے ، اگر حرام کا لقمہ بھی کھا لے تو نور کی گرمی اس نجاست کو حلال بنا دیتی ہے ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تو ایسے نہیں کیا نبی حالت صحو میں رہتے ہیں کیونکہ ان سے دین کی تکمیل ہوتی ہے ۔ ولی سکر اور جذب میں بھی آتے ہیں اگر ان میں کوئی خلافِ شریعت بات پیدا ہو جائے تو دین کا نہ کچھ بدلتا ہے اور نہ کچھ بگڑتا ہے لیکن نبی ﷺ میں کوئی خلافِ شرع بات پیدا ہو جاتی تو وہ سنت بن جاتی اور دین میں خرابی کا باعث بنتی۔ امیر کلال ؒ بچپن سے ہی کبڈی کھیلا کرتے تھے ولایت کے بعد بھی آپ کبڈی کا شوق فرماتے لیکن ان کے وصال کے ان کے خلیفوں نے ایسا نہیں کیا ۔
اگر حضور پاکﷺ کبڈی کھیلتے ۔ آج امت اس کو بھی سنت بنالیتی یہی وجہ ہے کہ نبوت سکرو جذب اور گناہ وبدعت سے مبرّا اور معصوم ہے لیکن ولایت مبرّا نہیں۔ اگر کو ئی ولی ظاہرو باطن میں مقام بکمالیت تک پہنچ جائے تو وہ بھی مبرّا ہو جاتا ہے اور اسی کے لئے حدیث ہے ۔
’’ میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہوں گے ‘‘

روحانی سفر کے معترضین کے سوالوں کے جوابات
نوٹ:مینارہ نور ، تریاق قلب کے علاوہ روحانی سفر کی بھی کچھ انتشار پسند اور حاسد قسم کے علماء نے بیجا مخالفت کی صحیح الفاظ کے غلط معنی نکال کر اشتہاری پروپیگنڈہ کے ذریعے مشن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ا س لئے عوام کی تسلی کے لئے ان کے اعتراضات کے جواب دیئے جا رہے ہیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کتاب ’’ روحانی سفر‘‘ میں زیادہ تر خواب مکاشفات اور الہامات ہیں۔جو ابتداء میں دوران سلوک وارد ہوئے کسی بھی مکاشفے یا الہام کو حق الیقین نہیں کہا گیا بلکہ مصنف سمیت ہر شخص کی اپنی رائے ہے کہ کون سا درست ہے اور کون سا استدراج ہو گا ۔خواب، مکاشفے الہامات اگر غیر اخلاقی بھی ہوں تو وہ شریعت کی زد میں نہیں آتے۔
روحانی سفر صفحہ نمبر 33پراعتراض ہوا یہ کہ اس شخص نے حضرت رابعہ بصریؓ کو طوائفہ کہا ہے۔
جواب : حضرت رابعہ بصریؓ کا واقعہ کتابوں میں اس طرح ملتا ہے کہ آپ کے والدین نے ایک قافلے والوں کو حضرت رابعہ بصریؓ کو فروخت کر دیا اور اس قافلہ والوں نے آپ کو ایک طوائفہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔طوائفہ نے آپ کو ایک کوٹھے میں بٹھا دیا ایک دن طوائفہ نے یہ محسوس کیا کہ جو شخص ایک مرتبہ انکے پاس آتا ہے دوبارہ ان کے پاس کیوں نہیں آتا۔جب ایک شخص کمرے میں گیا کمرہ بند ہواتو طوائفہ نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا کہ وہ شخص جب حضرت رابعہ بصریؓ کے سامنے گیا نظروں سے نظریں ملیں اس پر ہیبت طاری ہو گئی اور بے اختیار اللہ اللہ زبان سے شروع ہو گیا۔آپؓ نے اسے فرمایا جا تجھے اللہ سے واصل کر دیا ہے اب اس کے عشق میں تڑپتے رہنا اور آئندہ کبھی بھی ادھر کا خیال نہ کرنا۔جب یہ ماجرا طوائفہ نے دیکھا تو اس دل بھی لرزنے لگا اور وہ آپ کے قدموں میں گر گئی اور معافی کی درخواستگار ہوئی کہ مجھے تیری عظمت کا پتہ نہ تھا ۔آج سے تم آزاد ہو۔ حضرت رابعہ بصریؓ نے کہا کاش تو میرا راز نہ جانتی یہاں جو بھی آتا فقیر بن کے جاتا اب تک میں چار سو فقیر بنا چکی ہوں۔
مجدد الف ثانی ؒ نے صاحب فتوحات مکیہ کے حوالے سے اپنے مکتوبات شریف (حصہ پنجم ص730،731 ) میں لکھا ہے ۔کہ شیطان لعین آنحضرت ﷺ کی اس صورت خاصہ کے ساتھ جو مدینہ منورہ میں مدفون ہے ممل نہیں ہو سکتا ۔اس خاص صورت کے سوا اور جس صورت میں حضور ﷺ کو دیکھیں ممل ہو سکتا ہے۔
مجدد صاحب فرماتے ہیں ! میں کہتا ہوں کہ اس صورت سے احکام کا اخذ کرنا اور مرضی کا معلوم کرنا مشکل ہے ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دشمن لعین درمیان آگیا ہو اور خلاف واقع کو واقع کی صورت میں ظاہر کیا ہو اور دیکھنے والے کو شک و شبہ میں ڈال دیا ہو اور اپنی عبارات و اشارات کو اس صورت علی صاجہا الصلوۃ والسلام کی عبارات واشارات کر دکھایا ہو۔
(از ’’ مکتوبات شریف ‘‘ شائع شدہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)
نوٹ:
’’ روحانی سفر ‘‘ میں مستانی والا واقعہ قابل اعتراض ہے بے شک ہم سے آغاز میں اتفاقاً اور نا سمجھی میں شریعت کے خلاف کئی غلطیاں سرزد ہوئیں ۔وہ صرف اتفاق ہی تھا نہ کہ ہمارا معمول اور عقیدہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کچھ توفیق اور سمجھ دی تھی ہم نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کی تھی ،توبہ کی تھی ،اور بخشش کی دعائیں مانگی تھیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج مورخہ26اکتوبر 1991 ؁ شب 11بجیگاڑی کھاتہ حیدر آباد میں علماء اہلسنّت حضرت مولانا مفتی احمد میاں برکاتی، حضرت مولانا قاری عبدالرشید نوری،اور انجمن سرفروشان اسلام کے مرکزی صدر جناب محمد عارف میمن صاحب ، جناب وصی محمد قریشی مرکزی ناظم اعلیٰ کے مابین مولانا محمد سعید احمد اسعد صاحب ، مرکزی کنویئنر’’ پاکستان سنی اتحاد ‘‘ کی موجودگی میں ’’روحانی سفر ‘‘مینارہ نور اور’’ روشناس ‘‘ کی بعض عبارات پر گفتگو ہوئی باہمی مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ مندرجہ ذیل عبارات کو بایں تفصیل تبدیل کر دیا جائیگا۔
نمبر 1۔’’وہ ولایت کے باوجود کئی بدعتوں میں مبتلا تھے ‘‘ روحانی سفر ص 36اس عبارت کو یوں لکھا جائے گا۔۔۔۔
’’ انکی ولایت مسلم تھی ، لیکن ان سے بظاہر کئی خلاف شریعت کام نظر آتے ہیں ‘‘
نمبر2۔کچھ مسلمان شیخ صنعان اور کچھ مرزا غلام احمد کو ’’ نبی ‘‘ مانتے ہیں ۔روشناس ص 10اس عبارت یوں لکھا جائے گا۔
کچھ انسان شیخ صنعان اور کچھ مرزا غلام احمد کو ’’ نبی‘‘ مانتے ہیں۔
نمبر 3۔یا اس کلمہ میں ردوبدل کیا ، وہ سخت گمراہی میں پڑ گئے روشناس ص10اس عبارت کو یوں لکھا جائے گا۔۔۔۔
’’ یا اس کلمہ میں ردوبدل کی وہ کافر ہو گئے‘‘
نمبر4۔مرزائیت اور کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا۔روشناس ص6اس عبارت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا جائے گا۔ ۔۔۔
’’مرزائیت اور کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا تھا الحمد للہ یہ اثرات زائل ہو چکے ہیں‘‘۔
نمبر5نفس نے اکسایا ۔۔۔چونکہ اب نفس کی شرارت ختم ہو چکی تھی اس لئے آپ کے منہ سے نکلا شکر ہے کہ میری اولاد میں سے کوئی توہو گا جو اس مرتبہ پر فائز ہو گا۔‘‘ روشناس ص 9
اس ساری عبادت کو حذف کر دیا جائے گا۔۔۔
نمبر 6 ۔’’اور تھوک سے ۔۔۔آپ کے نفس کو تقویت پہنچانا شروع کی۔‘‘ روشناس ص 8
اس عبادت کو حذف کر دیا جائے گا۔۔۔
نمبر 7 ۔’’ جس طرح وضو کے بغیر ۔۔۔ خواہ سجدوں سے کمر کیوں نہ ٹیڑھی کر لیں۔‘‘ روشناس ص 6
اس عبارت کو عبادت کو حذف کر کے مندرجہ ذیل الفاظ تحریر کیے جائیں گے۔’’ اس طرح نماز کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے‘‘
نمبر8 ۔’’ ایک دن جب آدم علیہ السلام ۔۔۔ابلیس نے کہاکہ اب یہیں رہ میرا یہی مطلب تھا۔‘‘ مینارہ نور ص 8-7
اس ساری عبادت کو حذف کر دیا جائے گا۔۔۔
یہ بھی طے پایا کہ:
1۔ اگر کسی صاحب کو مزید کسی عبارت میں شبہ پیدا ہو تو وہ مولانا سعید احمد اسعد صاحب فیصل آبادی سے رابطہ کریں انشاء اللہ العزیز کتاب و سنت کی روشنی میں ہی اسے حل کر دیا جائے گا۔
2۔آئندہ سے علماء اہلسنّت اور انجمن سرفروشانِ اسلام باہمی پیار و محبت سے رہیں گے اور مسلک اہلسنّت و جماعت کامل کر دفاع کریں گے

تصانیف سرکار سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی

Scroll to Top