منگل , جولائی 27 2021

m1

آل فیتھ سپریچوئیل آرگنائزیشن (رجسٹرڈ) پاکستان

روحانیت کی تعلیمات پرعمل پیرا ہے اور اسی کی تلقین کر رہی ہے

اللہ کی پہچان اور رسائی کے لیے روحانیت سیکھو خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقہ سے ہو

چونکہ یہ علم ناپیدہوگیا تھا اسی لیے لوگ اس کی تلاش اور اس پر عمل سے محروم ہوگئے اور خدا سے دور ہوگئے۔ہماری کوشش ہے کہ لوگوں میں اِس علم کی پہچان پیدا ہو اور اُن میں روحانیت کی موجودگی کا احساس اجاگر ہوتا کہ طالبین جو اپنے باطن کی صفائی اور روشنی چاہتے ہیں اِن تعلیمات پر عمل کر کے اللہ کا قرب اور محبت حاصل کر سکیں۔ہم کسی مذہب کا پرچار نہیں کررہے بلکہ لوگوں کو علم روحانیت سیکھنے کی تلقین کررہے ہیں۔اِس پر عمل کرنے سے انہیں اللہ کی محبت اور اُس کا نور حاصل ہو جائے گا جس سے وہ مذہب کی پہچان کر سکیں گے اور اُن کا باطن صاف اور روشن ہوگا جو خدا کی محبت اور قرب کا سبب بنے گا۔ہمارا مقصد لوگوں کو اپنی طرف راغب کر نا نہیں ،بلکہ انہیں علم روحانیت کے بارے میں بتانا ہے کہ اِس علم روحانیت کو حاصل کریں اور کسی نہ کسی طریقے سے اِس پر عمل کریں۔لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں خدا کے مختلف نام رکھے ہوئے ہیں،آپ اُسے گاڈ، اللہ، رب،اوم اور اوتار کہیں لیکن اُس کا ذاتی نام اللہ ہے جو کہ سریانی زبان میں ہے اور یہ وہ زبان ہے جس میں اللہ عرشیوں سے بات کرتا ہے۔
نام ’’اللہ‘‘ اسلام سے بھی پہلے کا ہے اور صرف مسلمانوں یا قرآن تک محدود نہیں ہے۔ یہ نام حضرت محمد ﷺ کی آمد سے بھی پہلے کا ہے ۔آپؐ کے والد کا نام عبداللہ تھا۔اللہ اس کا ذاتی نام ہے اور اُن الہامی کتابوں میں بھی ملتا ہے جو حضرت داؤدؑ ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ پر نازل ہوئیں۔ہمیں اِس سے سروکارنہیں کہ آپ کا مذہب کیا ہے ،ہمارا اُن لوگوں سے واسطہ ہے جو اللہ کی محبت اور ذات کے متلاشی ہیں اور اُن کے پاس اُس کا راستہ اور طریقہ موجود نہیں ۔روحانیت کی تعلیم ہر فرقے اور ہر مذہب کے لیے ہے اُس پر عمل کرنے سے آپ کا اندر صاف اور منور ہوگا اور قلب اللہ کی محبت کے قابل ہوگا۔بہتر تو یہ ہے کہ انسان مذہب میں ہواور اللہ کی محبت بھی رکھتا ہو، اگرآپ کسی مذہب میں نہیں لیکن اللہ کی محبت ہے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انسان کے پاس مذہب توہو لیکن اللہ کی محبت نہ ہو۔صرف زبانی اقرار سے میں اللہ سے محبت کرتا ہو ں، آپ اللہ سے محبت نہیں کر سکتے ۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ دل ایسا کہے۔اسکے حصول کے لیے پہلے اپنے دل کو جگانا پڑتا ہے ۔اللہ کی محبت دل سے پیدا ہوتی ہے ، دل سے حاصل ہوتی ہے اور دل میں قائم رہتی ہے ۔ بیداری قلب کے لیے اور اسے اس قابل بنانے کے لیے کہ وہ اللہ سے محبت کرے ،ایک روحانی طریقہ اور تعلیم ہے ۔
انسانی دل ایک گھنٹہ میں 6000 مرتبہ دھڑکتا ہے اور چوبیس گھنٹے میں 125000سوالاکھ سے زیادہ۔خواہ آپ سو رہے ہوں یا جاگ رہے ہوں۔اگرآپ آگے بیان کئے گئے روحانی طریقے پر عمل کریں ۔اللہ نے چاہا تو آپ کے دل کی دھڑکنیں اللہ کے نام سے گونج اٹھیں گی،جب یہ چیز حاصل ہو جائے تو آپ 24گھنٹے اپنے دل میں اللہ اللہ کی گونج سنیں گے۔

-1سفید کاغذ پر ’’اللہ ‘‘کالی روشنائی سے چھیاسٹھ مرتبہ اس طرح لکھیں() اور اسکو زیادہ سے زیادہ دیکھیں۔

-2یا زیرو کے بلب پر لفظ اللہ پیلے رنگ کے ساتھ لکھیں اور ہر رات سونے سے پہلے اسے تھوڑی دیر کے لیے دیکھیں۔اس طرح چند دنوں کی پریکٹس کے بعد جب نا م اللہ آنکھوں میں تیرنے لگ جائے تو دیکھنا چھوڑ دیں۔اب توجہ کے ساتھ اسکو دل میں اتارنے کی کو شش کریں۔جب آپ کو یہ نام دل پر لکھا نظر آئے گا تو آپ محسوس کریں گے کہ دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی ہیں۔اب دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ اندر ہی اندر توجہ سے اللہ اللہ کہیں۔اس پریکٹس کے بعد آپ محسو س کریں گے کہ آپ کا دل صرف دھڑک نہیں رہا بلکہ اللہ اللہ کر رہاہے۔
-3سونے سے پہلے اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلی سے دل پر اللہ لکھیں اور تصور کریں کہ آپ کے مذہب کا روحانی پیشوا یا جس کسی کے آپ پیروکار ہیں آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کے دل پر اللہ لکھ رہا ہے ۔پھر جس کسی کو بھی آپ اپنے سامنے دیکھیں،سمجھیں کہ خدا کی طرف سے وہ آپ کا رہبر ہے ۔پھر مزید روحانی ترقی کے لیے آپ کا فرض ہے کہ آپ اس رہبر کو تلاش کریں جو کہ آپ کے سامنے ظاہر ہو۔
کبھی کبھار اپنا ہاتھ دل یا نبض پر رکھ کر دھڑکن محسوس کرنے کی کوشش کریں اور ہر دھڑکن کے ساتھ دل ہی دل میں اللہ اللہ ملائیں۔آخر کار کسی قسم کی جسمانی ورزش کریں تاکہ دل کی دھڑکن تیز ہوجائے، جب ایسا ہوجائے تو رک جائیں اور ہر دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ کریں۔
کچھ لوگ اللہ اللہ کے زبانی ورد کے ساتھ رقص کرتے ہیں۔ ناچنے کا مقصد دل کی دھڑکن کو تیز کرنا ہوتا ۔یاد رکھنے والی اہم بات یہ ہے کہ لفظ اللہ کو اندرلے جانا ہے تاکہ یہ اندر خون کے ساتھ شامل ہوجائے اور پھر کوشش کریں کہ دل کی دھڑکن اسکے ساتھ مل جائے۔افریقہ میں چند لوگ ہیں اللہ کہہ کر پانی پر پھونک مارتے ہیں اور پھر اسے پی لیتے ہیں جو یہ نام لیے ان کے معدے میں چلا جاتا ہے اسی طرح کچھ لوگ سانس کے ساتھ اللہ اللہ کرتے ہیں جو پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے لیکن خون میں نہیں ۔کچھ لوگ زبان سے اللہ اللہ کہتے ہیں اور کچھ تسبیح پر، یہی وہ لوگ ہیں جو شکایت کرتے ہیں کہ وہ اتنے عرصہ تک نام خدا لیتے رہے لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔نام اللہ کو خون میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ذکرِ قلب کیا جائے۔ایسا کرنے سے اسم اللہ خون میں شامل ہو جاتا ہے اور بالاخر روح اور دیگر روحانی مخلوقات تک پہنچ جاتا ہے اور یہ بھی جاگ کر اللہ اللہ کرنے لگ جاتی ہیں۔پتھرپتھر سے ٹکراتا ہے، چنگاری پیدا ہوتی ہے اسی طرح پانی پانی سے ٹکراتا ہے توبھی بجلی پیدا ہوتی ہے اور جب اللہ اللہ کی تکرار کی جاتی ہے تو نور بنتا ہے اور نور سے محبت جنم لیتی ہے ۔یہ نور ہاتھوں، چہروں اور تمام عبادت گاہوں میں پایا جاتا ہے سوائے اس جگہ کے جہاں پر اسے ہونا چاہیے یعنی تمہارا دل۔جب آپ کا دل اللہ اللہ سے گویا ہو جائے تو وہ روشنی نہ صرف ہاتھوں، چہروں میں بلکہ دل میں بھی پیدا ہوجائے گی۔ دل اسے خون کے ذریعے تمام جسم میں پہنچائے گا اور آخر یہ نور ان روحانی مخلوقات اور روح تک پہنچ جائے گا جو تمہارے اند رہیں تب وہ جاگ جائیں گی اور اللہ اللہ کرنے لگ جائیں گی اور پھر ان کی پرورش شروع ہو جائے گی۔
ہر انسان کے اند ر اللہ نے سات روحانی مخلوقات رکھیں ہین اور ان کے ساتھ نو(9)نائب ہیںیعنی ان کی کل تعداد 16 ہے۔ اس نور سے یہ پرورش پاتی اور پروان چڑھتی ہیں اور پھر اس قابل ہو جاتی ہیں کہ اس کو باطنی طور پر چھوڑ سکیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ بزرگوں کو کئی جگہ پر بیک وقت دیکھتے ہیں۔
یہ تعلیمات ہر اس شخص کے لیے ہیں جو یہ عمل کرنے چاہے یا آپ ہم سے ملنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں کرپاتے تو چاند کی طرف دیکھیں جب وہ مشرق سے نمودار ہو۔اس پر ایک شبیہ ہے اور اگرآپ اسے دیکھ سکیں تو تین دفعہ اللہ اللہ کہیں آپ کو ان روحانی تعلیمات پر عمل کرنے کی اجازت ہو جائے گی۔جب آپ ان پر عمل کرنا چاہیں گے تو آپ رہبر کو باطنی طور پر اپنے پاس اپنی مدد کرتا ہو اپائیں گے اسکے بعد اگر آپ کچھ مشاہدہ کریں تو ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

برائے رابطہ
3-Gبری پلازہ،13فین روڈ لاہور
شبیراحمد الحسینی 03006638567مس خالدہ ملک  03004963353 رضوان ملک4805513  0302
فیصل آباد
P-32/Aریلوئے ہاوسنگ کالونی فیصل آباد۔
03016023792سلیم طاہر: