اتوار , نومبر 28 2021

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک 
1998کو ماہانہ اجرک کی ٹیم نے عالمی روحانی شخصیت حضرت سےدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی سے ایک خصوصی انٹرویو کیا جو قارئین کی نظر کیا جارہاہے ۔
ہم اپنے رسالے کے لئے آپ کے ساتھ نشست کرنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ خدا کے فضل سے ایک روحانی تحریک کے رہنما ہیں ۔اسی وجہ سے آپ سے چند ایک سوالا ت کرنا چاہتے ہیں ۔میں پہلے تعارف کرا دوں ۔یہ ہمارے چیف آڈیٹر سید نعیم گیلانی صاحب ،یہ سٹی ایڈیٹر راحت علی راحت اور میں بیوروچیف شفقت حسین ۔
شفقت حسین :۔دراصل انسان کی جو تخلیق ہوئی جس کی سمجھ میں آجائے نہایت آسان ہے اور جس کی سمجھ میں نہ آئے ایک پیچیدہ سا مرکب ہے لیکن بنیادی طور پر ہر انسان رشد وہدایت کا پیاسا ہو تا ہے ۔متجسس ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب ،ہر فرقے میں انسان کو کہیں نہ کہیں جھکتے دیکھا جا سکتا ہے ۔کہیں وہ بھگوان کےلئے ،کہیں بتوں کےلئے اور کہیں اللہ کے لئے ،چند ایک معیارات جو ہم دنیاداروں نے مقرر کیے ہیں ،اُن کی روشنی میں آپ سے سوال کرناچاہوں گاکہ یہ نفس کیا ہے ؟
سیدنا گوھر شاھی :۔وضاحت سے بتا دوں قر آن میں ہے ۔آدم ؑ کو مٹی سے بنایا گیا جب شیطان نے دیکھا تو آدم ؑپر تھوک دیا۔ وہاں ایک گڑھا پڑگیا ۔اُس تھوک کے جراثیم آدم ؑ کے اندر چلے گئے وہ نفس کہلاےا اوراس کے جراثیم شیطانی جراثیم بن گئے ،تب حضور پاک ﷺنے فرمایا ۔جب انسان پیدا ہوتا ہے اُس کےساتھ ایک شیطان جن بھی پیدا ہوتا ہے ۔اصحاب ؓنے پوچھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ بھی پیدا ہوا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ضرورپیدا ہوا تھا لیکن میری صحبت سے مسلمان ہو گیا ۔وہ نفس جو شیطان کا جراثیم ہے ۔جسم بھی پاک ہے ،مٹی بھی پاک تھی اورباقی روحیں بھی پاک تھیں ۔اس نفس کی وجہ سے یہ جسم ناپاک ہو ا جس طرح جن ہیں ،ہوش و حواس رکھتے ہیں ،اِسی طرح نفس بھی حوش و حواس رکھتا ہے ۔خواب میں گھومتے ہو ،باہر جاتے ہو ،تم نہیں جاتے ۔تم بستر میں ہوتے ہو وہ تمہارا نفس جاتا ہے ۔وہ شیطانی محفلوں میں گھومتا پھرتا ہے کیونکہ اُس میں شیطانی طاقت ہے ۔وہ شیطانی طاقت کے ذریعے شیطانوں میں گھومتا پھرتا ہے ۔
شفقت حسین :۔لیکن اگر خواب میں ہم کسی بزرگ کا دیدار کریں ،کسی اچھی جگہ جائیں ؟
سیدناگوھر شاھی :۔وہ روحانی طاقتیں بھی تمہارے جسم میں موجو د ہیں او ر شیطانی بھی ہیں ۔حیوانی بھی ہیں جو تقویت پکڑتی ہیں ۔اُن کا رخ اُس طرف ہوتا ہے کیونکہ اِس نفس میں زیادہ طاقت ہے ۔روحانی طاقت سال میں ایک دو دفعہ ہی آتی ہو گی اور نفس تو روز ہی ہوتا ہے ۔اب جو ولی اللہ ہیں ۔اِس نفس کو کچلنے کےلئے جنگلوں میں چلے جاتے ہیں ۔کھانے اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں کیونکہ کھانے میں نفس کی غذاشامل ہے ۔یہ گندم ہے جو نفس کی غذاہے ۔آدم ؑ کو منع کیا تھا کہ نفس کی غذا نہ لو۔ تو ولی اللہ اس کو یا تو ختم کردیتے ہیں یا اس کو پاک کر لیتے ہیں ۔جب وہ پاک ہو جاتا ہے تو نفس مطمئنہ کہلاتا ہے ۔اگر یہ پاک نہیں تو نفس امارہ کہلاتا ہے لیکن اس میں ہوش و حواس ہے جس طرح جنوں میں ہوش وحواس ہے ۔
شفقت حسین :۔ تخلیق کائنات ،تخلیق انسان ایک ارتقائی عمل سے گزرے ہیں جس کا منشاءیا انتہاجو ہے وہ کمال ہے کہ انسان بھی کمال تک پہنچے ۔یہ کائنات پوری کی پوری جو ہمارے ہی فائدے کےلئے پیدا کی گئی ہے ۔اللہ نے پہلے کائنات بنائی پھر ہمہں بناہا تو اہک ارتقائی عمل سے گزر رہے ہہں ۔ساتھ جب ہمیں تخلیق کیا تو دو ڈیوٹیاں دے دیں ۔حقوق اللہ اورحقو ق العباد ،اَب آپ کا جو یہ راہ ِطریقت ہے بحیثیت انسان میرا اللہ سے قرب ہو لیکن میں ان عوامل سے بھی گزر رہاہوں جن سے نبی ،پیغمبر ،ولی اللہ گزرے تو ان عوامل کی مناسبت سے میری کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔کچھ ذمہ داریاں اللہ کے لئے اور کچھ بندوں کے لئے ہیں ؟
سیدناگوھر شاھی :۔میں آپ کی پوری بات سمجھ گیا ۔جتنے بھی لوگ یہاں بیٹھے ہیں ۔یہ لوگ اپنا کاروبار بھی کرتے ہیں ۔ان کو ہم نے روکا نہیں ۔ان کو کہا کہ دل اللہ کی طرف لگا لو اورہاتھ دنیا کے کاموں کی طرف لگالو ۔
شفقت حسین :۔اب ہر آدمی تو جنگل کا رخ نہیں کر سکتا ؟
سیدنا گوھر شاھی :۔ہم نے ان لوگوں کو کب کہا کہ جنگلوں میں جاﺅ؟
شفقت حسین :۔ٹھیک ہے اس کا مطلب ہے کہ ہم اس دنیا میں گھوم پھر کر بھی اللہ کو پا سکتے ہیں ؟
سیدنا گوھر شاھی :۔پا سکتے ہیں ۔
شفقت حسین :۔ان ڈیوٹیز میں رہتے ہو ئے بھی ؟
سیدناگوھر شاھی :۔اللہ تعالیٰ کسی ایک کو جنگل میں لے جاتا ہے پھر اُس کے ذریعے شہر والوں کو ہدایت دیتا ہے ۔پھر شہریوں کو جنگل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ اللہ والا اِن شہریوں کے دلوں کو اللہ اللہ میں لگا دیتا ہے ۔ان لوگوں کے دل اللہ اللہ کرتے ہیں اوران کے ہاتھ دنیاوی کا م ۔ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ۔ ان کے کاموں میں برکت ہو تی ہے ۔ساتھ اللہ اللہ ہوتی ہے ۔ان کے بچے بھی پید اہوتے ہیں ۔اللہ اللہ کرتا ہے پھر ان کے بچے نیک ہوتے ہیں کیونکہ اللہ اللہ ان کے خون میں جاتا ہے ۔ہمارا یہ مقصد ہے کہ دلوں میں اللہ اللہ کرو ۔دلوں کی صفائی ہواور باقی حقوق العباد بھی ہیں ،حقوق اللہ بھی ہیں ۔بعض دفعہ حقوق العباد پر ہم بھی کہتے ہیں ۔اس کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے ۔وہ کس بات پر ترجیح دی جاتی ہے ؟اگر تو صرف حقو ق العباد میں لگا ہوا ہے ،حقوق اللہ چھو ڑاہوا ہے ،بے کار ہے ۔ترجیح کس وقت ہے ؟تو نماز پڑھ رہا ہے اللہ کے حقوق میں لگا ہوا ہے ۔کوئی اندھا گرنے لگا ہے تو نماز کو چھوڑاُس کو بچا ۔تو نماز یا تلاوت کررہاہے ،تیری بیوی کے پیٹ میں درد پڑ گیا ۔اس تلاوت کو چھوڑدے اُس کو ہسپتال لے کے جا ۔اِس کو اللہ معاف کر دے گا ۔تونے تلاوت ،نماز چھوڑ دی ۔اب دردِزہ ظالم تھا اُس کو معاف نہیں کرے گا یعنی حقو ق العباد کو پورا کرنے کےلئے حقو ق اللہ کو موخر کیا ہے تو اس حقوق العباد کی معافی ہے۔ تم نے تو صرف حقوق العباد کو لیاہے ،حقوق اللہ کو چھوڑ ہی دیا ہے ۔اِسی وجہ سے اس طریقے سے ترجیح ہے حقوق العباد کی ۔
شفقت حسین :۔اچھا وہ ”اطیع اللہ و اطیع الرسول و اولی العمر“۔اطیع اللہ کی سمجھ لگ جاتی ہے اور اطیع الرسو ل کی سمجھ بھی لگ جاتی ہے ؟
سیدناگوھر شاھی :۔”اولی العمر“ وہ جوتمہارے مرشد ہوتے ہیں وہ اُس وقت امیر ہوتے تھے ، امیر المومنین، اب وہ آمر نہیں رہے ۔بادشاھی سلسلہ جمہوریت کا ہے ۔اُس وقت جو روحانی لوگ ہوتے تھے ۔نبی کے بعد پھر ولی ہوتے تھے ،وہ امر میں آتے تھے ۔”اطیع اولی العمر“
شفقت حسین:۔اولی العمرآج بھی موجود ہیں کیونکہ دنیا رشدو ہدایت کے بغیر نہیں ہے۔ہم اس کاکیا معیار قائم کریں؟
سیدنا گوھر شاھی:۔معیار یہ ہے کہ چور کو چور پہچانتا ہے،ولی کو ولی پہچانتا ہے۔ایک چورکو کمرے کے ایک کونے میں بٹھا دو۔دوسرے چورکو دوسرے کونے میں۔نظریں ٹکرائیں گی خود بخود سمجھ جائے گا یہ میرا پیٹی بھائی ہے۔ایک ولی اللہ کو ایک طرف بٹھاؤ،دوسرے کو دوسری طرف،اُن کے دل ٹکرائیں گے۔ایک کے دل میں بھی اللہ اور دوسرے کے دل میں بھی اللہ،رقت پیدا ہو جائے گی۔انکو پہچاننے کیلئے تمہارے دل میں اللہ اللہ ہو نی چاہیے۔جب تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہوجائے گی تو پھر تم ولی کو پہچان سکو گے ورنہ کبھی نہیں پہچان سکو گے۔بھئی تیرے دل میں بھی اللہ اُس کے دل میں بھی اللہ،دل تو ٹکرائیں گے اللہ اللہ تیز ہو جائے گی،ڈبل طاقت ہو جائے گی۔اللہ اللہ تیز ہو جائے تو سمجھ جانا روحانی بندہ ہے۔حدیث شریف ہے کہ ولی کی پہچان جس کی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے۔
شفقت حسین:۔جس کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے!
سیدنا گوھر شاھی:۔اللہ تو لولے لنگڑے کو دیکھ کر بھی یاد آجاتا ہے۔
شفقت حسین:۔یہی تو میں سوچ رہا تھا کوئی بھی چیز خلاف فطرت دیکھ لے اللہ یاد آجاتا ہے۔نارمل سے ابنارمل دیکھ لے تو اللہ یاد آجاتا ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔نہیں وہ نہیں جس کی صحبت میں بیٹھ کر تیرے اندر اللہ اللہ شروع ہو جائے وہ ولی اللہ ہے کیونکہ اللہ کا تعلق ولی سے ہے تو ولی کا تعلق اللہ کی کس چیز سے ہے؟دل سے ہے نا۔دل کو دل سے راہ ہے۔
شفقت حسین:۔اچھا یہ ”موتو قبل انت موتو“موت سے پہلے مر جاؤ۔یہ کیا فلسفہ ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔مسکراتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا ہے لیکن سمجھا دیں تو سمجھ میں آجائے گا۔
شفقت حسین:۔آپ ارشاد فرمائیں جس نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے وہ اتنی سمجھ بھی دے گا۔آپ سے ہمارا ملنا کوئی معمولی بات نہیں کڑیا ں تو اوپر سے ملتی ہیں۔
سیدناگوھر شاھی:۔یہ بھی آپ نے سنا ہو گا۔”علم الحجاب الاکبر“بہت بڑا پردہ ہے۔دولت بھی حجاب ہے۔یہ انسان کے دماغ پر ایک پردہ ہوتا ہے اس کو حجاب الاکبر بولتے ہیں۔انسان کو پتا بھی ہوتا ہے میں نے مرنا ہے اس دنیا میں نہیں رہنا۔اس لمحے کی میرے پاس کوئی اور گارنٹی نہیں۔اسکے باوجود بھی وہ سوچ نہیں سکتا اس پردے کی وجہ سے اس کی عقل پر پردہ ہے۔آپ کو کہا جائے کہ دوماہ کیلئے مری چلے جاؤ۔آپ پیسے بھی لیکر جائیں گے،کمبل بستر بھی لے کر جائیں گے۔صرف دو مہینے رہنے گئے تاکہ مجھے وہاں کوئی تکلیف نہ ہو لیکن جہاں ساری عمر کیلئے جائیں گے وہاں آپ کچھ سوچ نہیں سکتے۔کیوں نہیں سوچ سکتے؟کیونکہ وہ پردہ ہے۔وہ پردہ کب ہٹتا ہے جب آدمی مرنے لگتا ہے۔جب مرنے لگتا ہے تو شیطان اپنا پردہ ہٹاتا ہے۔اب کسی دوسرے کے اوپر ڈال دوں گا جیسے بچے دنیامیں اور بھی آرہے ہیں لیکن اُس وقت جب وہ پردہ ہٹتا ہے بجز افسوس کے اُس کو کچھ میسر نہیں ہو تا۔جب وہ پردہ ہٹتا ہے پھر وہ کہتا ہے کاش اب مجھے موقع ملے تو میں کرکے دکھاؤں۔پردہ ہٹتا ہی تب ہے جب کرنے کیلئے کچھ نہیں ہو تا۔جب تک پردہ ہوتا ہے کچھ سوچ نہیں سکتا۔ میں کچھ کر کے دکھاؤں یا وہ پردہ کب ہٹتا ہے ”مرنے سے پہلے مر جا“اب تو مرتے وقت ہٹانا۔حدیث میں لکھا ہے مرنے سے پہلے ہی مر جا یہ تیرا دل ہے جو مخلوق ہے ذکر کرتی ہے اس کو لگا،اس کو لگا،پھر اس کو لگا (انسانی لطائف روحانی مخلوقات کی طرف اشارہ کرکے بتایا)اس نفس کو ذکر میں لگا پھر یہ تیرے سر میں ایک مخلوق ہے جس کا نام ”انا“ ہے جسکے ذریعے تم سوچتے ہو۔وہ حیوانوں میں مخلوق نہیں ہوتی،وہ سوچ نہیں سکتے۔اگر اس میں وہ سوچنے والی مخلوق ہو تو پھر پانی اور گھاس جنگلوں میں ملتا ہے تو وہ پھر تمہاری غلامی کیوں کریں؟ ان جانوروں میں سوچ نہیں ہے جب یہ پردہ ”یاھو“کا ذکرکرتا ہے۔یہ مخلوق ”انا“(یاھو) کے ذکر سے پردہ ہٹ جاتا ہے۔اسکو مرنے سے پہلے ہو ش آگیا کہ میں دنیا میں کیوں آیا؟ پھر کچھ دنیا کے لئے کم اور آگے کے لئے زیادہ کرے گا۔ہاں ہاں مانا ہم دنیا کیلئے کرتے ہیں لیکن دنیا کے لئے تھوڑا سا کرتے ہیں۔بال بچوں کے لئے،باقی اللہ کے لئے۔تم بھی کھاتے پیتے ہو،ہم بھی کھاتے پیتے ہیں لیکن ہمارا وہ پردہ پھٹ چکا ہے۔ہم گھر سے پہلے جب اس لائن میں نہیں آئے تھے تو بیوی کو بولتے تھے۔دو دن بعد آجاؤں گا،ہفتے بعد آجاؤں گا۔اب جب گھر سے نکلتے ہیں۔کہتے ہیں پتہ نہیں کب اللہ جان لے لے۔وضو کرکے نکلتے ہیں۔پردہ ہٹ گیا ہے نا، سوچ آتی ہے نا۔پہلے سوچ نہیں آتی تھی۔(مرنے سے پہلے مر جا)یہی ہے کہ مرنے سے پہلے تو اس پردے کو ہٹا تو وہ دماغ کے ذکر سے ہی ہٹتا ہے اس لئے یہ ذکر سکھائے جاتے ہیں۔
شفقت حسین:۔ اس کا یہ بھی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ جو نفسانی خواہشات تیرے اندر پیدا ہوتی ہیں،ان کو کچل دو۔
سیدنا گوھر شاھی:۔لیکن وہ کچلی نہیں جاسکتیں نا۔ وہ انہیں چیزوں سے تو کچلی ہیں وہ نار ہے جب تک نور نہ ہو کیسے کچلی جائیں گی۔ہم اپنا تجربہ بتاتے ہیں۔ہمیں شیطانی خواہشات وسوسے سب کچھ سارادن رات سوتے تھے تو وہ آتاتھا نا بھئی وسوسوں اور شیطانی خیالوں میں لیکن جب یہ اللہ اللہ کا نسخہ پایا تو سب کافور ہو گیا نا۔اب اگر کبھی سوچ آتی بھی ہے تو کہتے ہیں جو اللہ کرے گا ہو جائے گا۔بس سوچنے کی کیا ضرورت ہے؟یہ اللہ اللہ ہتھیار ہے نہ اس چیز کا۔یہ وسوسوں کو بھی اور اُس پردے کوکاٹنے کا ہتھیار ہے۔اللہ اللہ ہے۔اللہ اللہ نہیں ہے تو وسوسے نہیں نکل سکتے۔وسوسوں کا تعلق شیطان سے ہے اور جو دلیل ہے نا منجانب اللہ۔اس کا تعلق جو ہے نا اللہ سے ہے۔وہ قلب میں اترتی ہے،وہ نفس میں اترتی ہے۔جب تیرا نفس پاک تے قلب بھی صاف تو کدھر سے وسوسے آئیں گے۔
شفقت حسین:۔اچھا ایک سوال پید اہوتا ہے۔آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔میں ایک گناہگار آدمی ہوں۔میرا جی چاہتا ہے یعنی آپ نے کہا کہ
سیدنا گوھر شاھی:۔جس کو وہ چاہتا ہے،جب وہ چاہتا ہے۔
شفقت حسین :۔میں بھی اللہ اللہ شروع کرتا ہوں لیکن جاری نہیں ہوتا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔اس کا مطلب ہے اللہ نہیں چاہتا۔اب رہا سوال اللہ تمہارے لئے کیوں نہیں چاہتا؟۔
شفقت حسین :۔اب میر ا قصور کیا ہے؟۔میرے بس میں تو یہ تھا نا کہ کوشش کروں، نیت کروں۔۔
سیدنا گوھر شاھی :۔نہیں تمہارا بڑا قصور ہے نا ۔اب تم بتاﺅ تم ہو اصل یا تمہارے اندر ہے وہ اصل ہے ؟

شفقت حسین :۔اندر والا اصلی ہے۔
سیدناگوھر شاھی:۔تم تو مٹی میں چلے جاؤ گے نا وہ تو مٹی میں مل جاؤ گے نا وہ تو مٹی میں نہیں ملے گا۔وہ پہلے بھی تھا آخر میں بھی رہے گا وہ جو وہاں رہ کر آیا ہے نا اوپر وہ اندر والا۔ا س کی تعمیل ہو رہی ہے نا۔نہیں سمجھتے جب اللہ تعالیٰ نے روحیں بنائی تھیں نا تو پوچھا تھا۔الست بربکم (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں)قالو بلی ٰ۔(سب نے اقرار کیا تھا تو ہی ہمارا رب ہے)۔پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لذات دکھائے۔بہت سی روحیں وہ دنیا کے لذات کی طرف لپکیں وہ ان کی قسمت بن گئی،لکھ لیا۔بہت سی روحیں اللہ کی طرف لپکیں وہ ان کی قسمت بن گئی۔بہت سی روحیں نیوٹرل۔نہ اِدھر نہ اُدھر۔ان کیلئے ولی آئے وہ جو نیوٹرل تھیں۔اب رہا سوال اگر اللہ چاہتا تو یہاں سے جس کو چاہتا ہے دوزخ،بہشت میں بھیجتا ہے تو وہیں سے بھیج دیتا نا۔یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔بھئی یہاں سے بھی روحیں جائیں گی نا۔ادھر جسم تو نہیں جائیں گے نا۔پھر ان جسموں میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی لیکن جس کو پھر وہ دوزخ میں بھیجتا تو وہ کہتا،اے اللہ!میں نے کیا کیا تھا؟ اللہ کہتا تو نے اقرار کیا تھا۔صرف اقرار کیا تھا نا عمل تو نہیں کیا تھا نا۔اس عمل کیلئے اللہ تعالیٰ روحوں کو نیچے لا یا پھر جب کیا،کیا تونے عمل بھی تو کیا تھا نا۔یہ جسم ان کے عمل کیلئے،حجت تمام کرنے کیلئے ورنہ و ہ روحیں نہ عورتیں ہیں نہ مرد ہیں۔نہ عورتیں نہ مرد ان سے حساب کتاب کیا۔یہ جسم ان کیلئے مثل بنایا گیا۔اس میں لذات ڈالے گئے اس میں نفس ڈالا گیا۔یہ پیچھے کا سودا ہے۔پھر جن کو جنہوں نے دنیا مانگی،شیطانی لذات میں۔جب وہ بچہ پیدا ہواتو دو شیطان لگا دئیے کہ اس کو نیکی کی طرف جانے ہی نہ دوں،ایسے لوگ ہیں نا۔اُس کا بھائی،اُس روح نے اللہ طلب کیا اسکے ساتھ دو فرشتے لگا دئیے کہ اس کو برائی کی طرف نہ جانے دوں۔کیا وجہ ہے ایک ہی باپ ہے۔یہ نیکی میں چلا گیا وہ برائی میں چلا گیا۔اس کے ساتھ فرشتے لگ گئے اُس اقرار کے مطابق اس کے ساتھ شیطان لگ گئے اس اقرار کے مطابق اوریہ تھا جس نے اقرار کیا ہی کوئی نہ،موقع نہ ملا۔پھر اس کے لئے ولی بنا کر بھیج دئیے۔بھئی وہ تو دوزخی اوپر سے ہی ہے نا،وہ بہشتی اوپر سے ہی ہے نا۔اب ان نیوٹرل والوں کیلئے۔پھر یہ جو ہے نا،کفر اور اسلام کے درمیان چلتا ہے۔حضور پاک ﷺ فرماتے ہیں۔صبح مسلمان توشام کو کافر۔جس سوسائٹی کے ہاتھوں آگیا،وہیں کا ہو گیا نا۔ہدایت تو پھر اس کوہے۔
شفقت حسین :۔شاہ صاحب!بشر اور خدا ایک عام سا تصورہے سب جانتے ہیں۔بشر جو ہے وہ افضل البشر کب ہوتا ہے؟
سیدناگوھر شاھی:۔انسان افضل ہی ہے اگر اس میں اللہ آجائے تو اگر اللہ نہیں ہے تو ارزل ہے۔اگر اس میں شیطان آجائے تو اگر اللہ نہیں ہے۔اگر اس میں شیطان آجائے تو ارزل ہے،اللہ آجائے تو افضل ہے۔رہا سوال حضور پاک ﷺ کو افضل البشربھی کہا گیا،معراج سے پہلے۔آپ کوافضل البشر بھی کہا گیا ہو۔معراج سے پہلے آپ ﷺکو افضل البشر کہا گیا ہے۔پھر جب آپ کامعراج ہو ا نا۔معراج سے پہلے آپ کا سایہ تھا۔جب آپ کامعراج ہو ا،لوہا آگ میں جاتا ہے تو وہ بھی آگ بن جاتا ہے۔جب آپ نور کے سامنے گئے نا،آپ ﷺ بھی نور ہو گئے۔معراج کے بعد آپ کا سایہ ہی کوئی نہیں تھا۔بھئی اگر پہلے سایہ نہ ہوتا تو بچپن میں پتہ چل جاتا نا۔مائی حلیمہ نہلاتی،دھلاتی پتہ چل جاتا نا۔لوگ پہلے پتہ چلا لیتے۔معراج کے بعد آپ کا سایہ نہ تھا،آپ نور ہوگئے تھے نا۔اس سے آپ کو افضل البشر کہہ سکتے ہیں۔اسکے بعد آپ کو نورہی کہنا پڑ ے گانا۔وہی جو لوہے میں طاقت آگئی آگ میں جاکر،وہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں طاقت آگئی نور میں جاکے۔
شفقت حسین:۔اچھا شاہ صاحب!اب میں آرہا ہوں خالصتاً آپ کا جو اہل تصوف ہے۔ذرااس طرف میں آرہا ہوں۔ہماری یہ گفتگو جو ہم یہ کر رہے ہیں کچھ گفتگو ہے On The Recordکے لیے اور کچھ گفتگو ہماری اپنی ذات کے لئے لہٰذا میں کوشش کروں گا کہ جو میرے ذہن میں وہ ادھیڑ پن ہے،وہ تھوڑی کلیئر ہو۔ایک عشق مجازی ہے،ایک عشق حقیقی۔آپ کا سفر عشق حقیقی کا ہے۔آپ سے پہلے جو ہستیاں ہو گزریں یا جن کے آپ پیروکار ہیں انہوں نے جو ہمیں درس دیا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔ عشق مجازی کا۔
شفقت حسین:۔عشق حقیقی کا،عشق مجازی تودنیا داری ہو ئی نا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔نہیں نا عشق مجازی کو تو تم سمجھتے بھی نہیں ہو نا۔یہ جو دنیاکا عشق ہے نا عشق ِنفسانی کہلاتا ہے نہیں سمجھتے۔تم نفس کی خاطر ایک دوسرے سے پیار کرو یا پیسہ ہو گا یا کوئی اور لالچ ہو گی۔اگرنہ پیسہ ہو گا اور نہ کوئی اور لالچ تو تمہیں اس سے کیا مطلب تم تو پیچھے ہٹ جاؤ گے نا،یہ عشق نفسانی کہلاتا ہے۔عشق مجازی جو ہے نا وہ ولایت کا حصہ ہے۔وہ لیلیٰ مجنوں کو تھا۔اکیلے رہ کر بھی بہن بھائیوں کی طرح رہے وہ ان کا عشق مجازی تھا۔جب مرزا صاحبہ آئے نا،ان سے شیطانی ہوئی نا۔اللہ نے عشق مجازی ختم کر دیا۔ اب عشق ِمجازی کوئی نہیں ہے۔
شفقت حسین:۔اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں گے تو مجاز کا مطلب اُلٹ اور اُلٹ ہمیشہ اس کا ہو گا جس کا کوئی اصل ہو گا۔
سیدناگوھر شاھی:۔اصل ولایت،ولایت کا اُلٹ عشق مجازی ہے،عشق ِحقیقی کا عشق ِمجازی۔اگر اس کا بندے سے عشق ہو گیا۔نفس کا تعلق نہیں ہے وہ عشق ِمجازی ہے۔اللہ سے ہو گیا عشق ِحقیقی ہے۔
شفقت حسین:۔عشق ِحقیقی اچھا میں بھی اُسی طرف آرہا ہوں۔عشق ِحقیقی کے اہل ِتصوف نے تین درجے بتائے ہیں۔عام طور پر جو ہمیں اسٹڈی میں ملتے ہیں۔فنافی الشیخ،فنافی الرسول،فنافی اللہ۔فنافی اللہ جو ہے ایک عام مسلمان کی سمجھ میں آجاتا ہے۔میری سمجھ میں بھی آجاتا ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔فنافی الشیخ نہیں آئے گا۔
شفقت حسین:۔فنافی الرسول بھی آجا تاہے کہ وہ سردار الانبیاء ہیں اور تمام کائنات جن و بشر جوکچھ ہے وہ سب اُن صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احترام و مقام کے معترف ہیں۔
سیدنا گوھر شاھی:۔ہاں صحیح ہے،ٹھیک ہے۔
شفقت حسین:۔ٹھیک ہے جی لہٰذا میں بھی ان کا حترام کرتا ہوں۔فنافی الرسول اگر ہوجاؤں تو میرے جیسے بخت کس کے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔فنافی الشیخ سمجھ میں نہیں آتا۔

شفقت حسین :۔اچھا فنافی الشیخ جب اسٹیج آتی ہے تو فناکے جو ظاہری معنی میرے سامنے آرہے ہیں ۔وہ یہ ہیں کہ میری ذات گم ہو جائے اسکی ذات حاوی ہو جائے ۔
سیدنا گوھر شاھی :۔نہیں اُس کا مقصد یہ نہیں جو آپ نے سوچا نا فنا ،وہ مقصد نہیں ،شیخ جو ہوتا ہے نا وہ اس کے اندر کچھ مخلوقیں ہوتی ہیں ۔تمہارے اندر بھی ہیں ۔ہاں سات مخلوقیں ہیں ،9جسے ہیں ،16مخلوقیں ہیں ۔وہ ان مخلوقوں کو تربیت دیتا ہے جس طرح خواب میں تمہاری اک مخلوق باہر نکل جاتی ہے ۔پھر اپنی سب مخلوقوں کو خواب کے ذریعے باہر نکالتا ہے ۔اس کا ایک عمل ہے وہ چلہ ہو تا ہے ،کاٹنے کے لئے ہوتا ہے ورنہ عبادت تو گھر میں بھی ہوجاتی ہے نا پھر گھرسے باہرنکلنے اور جنگلوں میں جانے کی پھر کیا ضرورت ہے وہ پاگل تو نہیں ہوتے نا ۔وہ صرف ان مخلوقوں کو باہر نکالنے کےلئے جنگلوں میں جاتے ہیں ۔کھانا پینا کم کردیتے ہیں ۔اللہ اللہ زیادہ کرتے ہیں کہ نوری طاقت آئے اس کے لئے مجدد صاحب کا بھی واقعہ ہے کہ کسی نے کہا میں نے فلاں دن آپ کو خانہ کعبہ میں ،کسی نے کہا آپ کو دیکھا۔آپ نے فرمایا میں نہیں گیا ۔دوسرے نے کہا اُسی دن حضور پاک ﷺکے روضے پر دیکھا ۔آپ نے فرمایا میں نہیں گیا ۔تیسرے نے کہا اُسی دن غوث پاک ؓ کے روضے پر دیکھا ۔آپ نے فرمایا میں نہیں گیا ۔لوگوں نے پوچھا کیا تھا فرمایا میرا اندر تھا ۔حدیث شریف میں بھی ہے کہ جب حضور پاک ﷺ معراج شریف پر گئے ۔موسیٰ ؑکی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اوپر گئے دیکھا موسیٰ ؑاوپر بھی موجود ہیں ۔یہ باطنی مخلوقیں ہیں ۔شیخ وہ ہوتا ہے جس کی یہ باطنی مخلوقیں ہوتی ہیں پھر جب تم شیخ کو پکارو گے تو جسم نہیں جائے گا۔اسکی ہو گی کوئی باطنی مخلوق جن فرشتے کی طرح شکل اختیار کرلیتی ہے وہی طاقت اختیار کر لیتی ہے وہ اسکی مدد کو پہنچے گی ۔پھر وہ مخلوق جب تمہارے جسم کے اندر داخل ہو جائے گی ۔سنا ہے جن داخل ہو جاتے ہیں ۔سنا ہے نا اسی طرح وہ مخلوق بھی داخل ہو جاتی ہے نا۔جب وہ شیخ کی مخلوق تیرے اندر داخل ہوجائے گی تو تیری شکل ،حلیہ وُلیہ ،بول چال سب شیخ کی طرح ہو جائے گا نا ۔اُس وقت کہتے ہیں نا فنافی الشیخ ،نہیں سمجھے اُس وقت کہتے ہیں فنافی الشیخ ۔

شفقت حسین:۔یعنی شیخ کی ذات سرائیت کر جاتی ہے۔
سیدنا گوھرشاھی:۔ذات وہ مخلوق۔
شفقت حسین:۔یعنی اس کی وہ صفات اس کا کریکٹراُس کی تربیت۔
سیدنا گوھر شاھی:۔تربیت بھی نہیں وہ مخلوق جس طرح وہ جن سمجھ،فرشتہ سمجھ بس وہ اسکے اندر چلا گیا اب وہ ہر وقت نہیں رہتا ہے۔ایک دن رہے،دو دن رہے،تین دن رہے ایک لمحہ رہے اس کی مرضی ہے۔اسی طرح حضور پاک ﷺکی بھی مخلوقیں ہیں نا۔جب کسی کے اندر داخل ہو جاتی ہیں نا،اس کو فنا فی الرسول کہتے ہیں۔یہ جو تمہارے نبی کا کہتے ہیں دعویٰ اُس نے (یوسف لاہوری نے)۔نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اُس میں یہ تھا کہ تسلسل ہے۔
شفقت حسین:۔یعنی فنافی الرسول کی اسٹیج پر ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔فنافی الرسول کی بات کری تھی۔اُس وقت جب وہ حضور پاک ﷺ کی کوئی چیز جسم میں داخل ہوتی ہے تو باطن فرشتوں کو وہ حضور پاک ﷺہی لگتے ہیں نانہیں سمجھے۔پھر اُسی طرح اللہ تعالیٰ کی کوئی چیز ہے۔اُس کا نام جسہئ توفیق الٰہی۔جب ولیوں،نبیوں میں اتنی طاقتیں ہیں تو اللہ میں طاقت نہیں ہو گی۔اس کی چیز ہے۔اُس کا نام ہے جسہئ توفیق الٰہی۔وہ تمہارے جسم میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر اُس وقت نکلتا ہے،منہ سے نکلتاہے،انااللہ ہوں۔اُس وقت اسکے منہ سے نکلتا ہے انا الحق۔بایزید بسطامی ؒ نے بھی کہا تھا اُس وقت کہا تھا نا۔جب بعد میں ہو ش آیا کہا اگر میں کہوں دوبارہ قتل کر دو تو لوگوں نے قتل کرنا چاہانا تو پوچھا قتل کیو ں نہیں کیاکہ تم قتل ہوئے نہیں پھر بایزید ہوگا نہیں وہی ہو گا۔جو بول رہاہوگا نا۔وہ فنافی اللہ کی اسٹیج ہے۔اب وہ فنافی اللہ بھی ہر وقت نہیں رہتا ہے وہ بھی ولیوں میں کبھی کبھی آتا ہے۔وہ چیز آتی ہے پھر اس میں ولیوں کو جو الہام ہوتے ہیں۔منہ سے باتیں نکلتی ہیں نا۔وہ اُسی اسٹیج میں نکلتی ہیں نا۔اُس وقت جو اُن کی نظروں میں آگیا۔اللہ کی نظروں میں آگیا۔اس وقت جب سلطان صاحب نکلتے تھے اپنے گھر سے باہر جب وہ اُن کی حالت ہوتی نا تو جو ہندو اُن کو دیکھتا نا غور سے دیکھتااُن کو،کلمہ پڑھناخود بخود شروع کر دیتا۔یہ سلطان صاحب کی کتابوں میں ہے۔
شفقت حسین:۔شاہ صاحب انسان کی ذات میرے نزدیک بڑی معتبر ہے۔ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا،علماء سے سنا،کتابوں میں پڑھا حتیٰ کہ قرآن میں پڑھاکہ رب کو پہچاننا چاہتا ہے تو اپنے آپ کو پہچان۔
سیدنا گوھر شاھی:۔اپنے آپ کو نہیں پہچان،رب کو پہچاننا ہے تواپنے نفس کو پہچان ہاں۔
شفقت حسین:۔ہاں۔(سوری)۔اپنے نفس کو پہچان اب جو میرا نفس ہے میں اور میرا نفس لازم و ملزوم ہیں۔جب تک میری سانسیں ہیں گویا میں کسی طرح سے اہم ہو گیا۔اب مجھے اسٹڈی کرنی ہے اپنی اپنے نفس کی،خدا کی ذات کی اسٹڈی کرنے کیلئے خدا کو پہچاننے کے لئے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔نہیں،نہیں پھر اس کا علم ہے نا وہ علم طریقت ہے نا۔
شفقت حسین:۔علم طریقت،میں یہ کہنا چاہ رہاہوں کہ نفس اُس کے ساتھ بھی ہے،ہندو کے ساتھ بھی،عیسائی کے پاس بھی ہے۔
سیدناگوھر شاھی:۔جس کا نفس ناپاک کتا ہے وہ ناپاک ہے بھلے وہ عیسائی یا بھلے مسلمان ہے۔صرف زبان پاک ہے اندر سے تو پاک نہیں ہے،طوطا ہے نا وہ صرف طوطا ہی نا،وہ طوطا ساری عمر اللہ اللہ بھی کرتا رہے طوطا ہی رہے گا مکروہ ہی ہے ناجب تک یہ دل تیرے اندر اللہ اللہ نہیں جائے گا نا،پکا مسلمان نہیں ہو سکتا نا۔اب وہ علم سیکھوجس سے تم نفس کو پہچانو۔جب تم نفس کے اوپر ضربیں لگاؤ گے نا۔اس کا مقام دیکھوکہ وہ کس جگہ ہے پھر جب اُسکی وہ دوائی دو گے ناوہ حرکت کرے گا نا پھر اُسکی شکلیں تمہیں دکھائی جائیں گی نا۔گھوم رہاہے۔کسی کو خواب میں دکھائی جاتی ہیں کسی کو آنکھیں بند کرکے کشف میں دکھائی جاتی ہیں۔پھر جب تم لگے رہو گے پھر تم کو دکھایا جائے گا،اب وہ کتا کمزور ہو گیا۔پھر دکھایا جائے گا۔اس کی شکل بیل کی طرح ہوگئی۔اس کی شکل بکرے کی طرح ہو گئی یہ ساتھ ساتھ دکھایا جاتا ہے۔یہ تمہارے مرشد کاکمال ہے جب تک مرشد نہیں پکڑوگے یہ بات تو نہیں ہوگی نا۔
شفقت حسین:۔اچھا میں چاہتا ہوں کہ یہ بچوں کو چھوڑنا،ماں باپ کو چھوڑنا،والدین کو چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے لیکن میں اللہ کو بھی چاہتا ہوں،ممکن ہے؟

سیدنا گوھرشاھی:۔ممکن ہے اس کا یہی ہے یہ تمہارے دل کی خالی دھڑکن جب تم بیوی بچوں میں رہتے ہو،یاسوتے ہو یا چلتے ہو،ٹک ٹک تو ہورہی ہے نا،بس وہ ٹک ٹک کو اللہ اللہ میں تبدیل کر لو۔کام وہی سارے کرو اس ٹک ٹک کو اللہ اللہ میں تبدیل کر لو بس اللہ مل جائے گا۔کیوں کہ اللہ کا تعلق اُن سے نہیں ہے اللہ کا تعلق دل سے ہے نا،وہ تسبیح ہے نا،تمہار ے اندر اُس تسبیح کواللہ میں،بلھے شاہؒ فرماتے ہیں نا”ساڈے دل دا منکا اللہ اللہ کردا“ اس کو اللہ اللہ میں لگا لو بس باقی وہی کام کرو پھر جوں جوں اللہ اللہ جاتی جائے گی نا پھر خود بخود تمہارا دل اورمحبت اللہ کی طرف ہوتی جائے گی نا۔ اب تونہیں ہو گی۔پھر یہ ہے کہ ہمارے بھی بچے ہیں،بیوی بچوں کاخیال بھی کرتے ہیں لوگوں کا بھی خیال کرتے ہیں اس کا بھی (دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)۔خیا ل کرتے ہیں کہ یہ بھی بند نہ ہو۔یہاں بھی اللہ اللہ ہوتی رہے تو پھر وہ اسٹیج آگئی،گاڑی چلاتے رہیں،سوتے رہتے ہیں،اللہ اللہ ہوتی رہتی ہے۔اسٹیج آجاتا ہے نا۔پھر اللہ اللہ کے ساتھ اب کہتے ہیں بسم اللہ کرو کام کرنے سے پہلے بھی اللہ اللہ،کام کرتے بھی اللہ اللہ،پھر برکت ہی برکت ہے نا جی۔ایسا ہو تا ہے نا۔ہوسکے اس کے لئے آپ کو کوئی ٹائم دینا پڑ ے گاہم دو چار دن تم کورکھیں گے یابتائیں گے۔ایسا طریقہ کرو ہم بھی توجہ ڈالیں گے۔ایساہوتا ہے تو تب آج لاکھوں لوگ لگے ہوئے نا ہمارا کون ساکمال ہے۔پیروں سے داڑھی بھی چھوٹی ہے ہماری،جبہ بھی نہیں،دستار بھی کوئی نہیں کیوں جی۔
شفقت حسین:۔جو کچھ آپ کے بار ے میں سنا تھا اُس سے بالکل ہٹ کر پایا آپ کو،کوئی ایسی روایتی بات نہیں ہے کوئی مطلب فارمولاباتیں نہیں ہیں۔
سیدنا گوھر شاھی:۔بس یہ بات ہے کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ اللہ میں لگا دیتے ہیں۔یہ بات ضرور ہے اس کے لئے کوئی بھی آئے۔تجربہ کر لے اگر اللہ نے نہ بھی چاہا تو تجرباتی طورپر اللہ اللہ میں چلا دیں گے۔دو چار دن کے لئے تاکہ اُس کی تسلی تو ہو جائے نا۔وہ سلطان صاحب نے جب عبدالرحمان صاحب سے یہ علم سیکھا نا تو کہنے لگے کہ مجھے کیا پتہ کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ اللہ ڈالو۔ان کے اندر تو کتے ہیں سارے یہ کتے کیسے اللہ اللہ کریں گے؟ایک کتا سامنے آیا اُس پر نظر ڈالی تو وہ اللہ اللہ کرنی شروع کردی تو فوراًیہ خبر حضور پاک ﷺتک پہنچ گئی تو بلا یا گیا یہ کیا کیا تونے،کہ میں تجربہ کررہاتھا اگر یہاں کامیاب ہو گیا اس پر کامیاب ہو گیا تو وہاں بھی کامیاب ہو جاؤں گا۔ایسے تجربے ہم بہت کرچکے ہیں اور کررہے ہیں۔
شفقت حسین:۔ایک چھوٹاساسوال کہ ایک تعظیم ہوتی ہے ایک عبادت ہوتی ہے تعظیم اور عبادت میں کتنا فرق ہے؟
سیدناگوھر شاھی:۔بے ادب بے مراد،باادب بامراد،اگر عبادت کے ساتھ ادب بھی رہے تو بامراد ہے۔اگر عبادت کے ساتھ ادب بھی ہے تو بامراد ہے۔اگر عبادت کے ساتھ ادب نہیں ہے۔خانہ کعبہ جاتے دیکھے ہیں نا۔لیٹے ہوئے ہیں تو کتاب کی طرح قرآن مجید پڑھ رہے ہیں۔نیچے رکھ کر سورہے ہیں یہ بے ادب ہے مراد خانہ کعبہ میں ہو کر بے ادب بے مراد۔محمود غزنوی ایک گاؤں میں گیا،لڑائی ہو رہی تھی ایک اُسکو کمرہ ملا جی رات رُکنے کیلئے سویا،تھکاہوا تھا اوپر دیکھا قرآن پڑاہوا ہے۔اُس نے کہا یہ قرآن مجید میں نیچے سوجاؤں۔وہ ساری رات کھڑارہااللہ نے اُس کو ولایت میں رنگ دیا۔باادب بامراد۔وہ خانہ کعبہ میں جا کر بے ادب بے مراد۔بات سمجھ میں آگئی نا جی۔
شفقت حسین :۔یہ ہم جو گھومتے رہتے ہیں سارادن آپ کے ساتھ بیٹھے اُس کے ساتھ بیٹھے،اُس کے ساتھ بیٹھے کہیں سے کوئی ایجوکیشن لی کہیں سے کوئی نظریہ ملاکہیں سے پلس ملا،کہیں سے مائنس ملا تو ملے جلے خیالات،رجحانات،نظریات پیداہو جاتے ہیں۔خیر میں اُس ملی جلی کیفیت میں،میں چلا گیا،دھمال ہو رہی تھی اور اس دوران ایک آدمی تھا،بڑا جذباتی ہو کے کہہ رہا تھا روضے کی طرف دیکھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا بھر دے بھر دے تو میرا دھیان اُسکی طرف بھی جارہاتھا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔رہا سوال آگے درباروں پہ جانا۔
شفقت حسین:۔اور اُن سے مانگنا کس حد تک ٹھیک ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔میں آپ کو بتاتاہوں آپ کے پاس یہ کاغذ ہے،ڈائری ہے جس نے آپ کو دی،میں اُس سے بھی کہہ سکتاہوں مجھے دلوا دو،میں آپ کو کہہ سکتا ہوں مجھے دے دو کیوں جی؟(مسکراتے ہوئے)۔
شفقت حسین:۔واہ سبحان اللہ!صحیح بات ہے۔
سیدناگو ھر شاھی:۔اور آپ کامطلب ہے دینا۔آپ مجھ سے پوچھتے ہو یا،یاویسے ہی دے دو،یہ تمہارااور اُس کا عمل ہے میرا تمہارے ساتھ عمل ہے۔
شفقت حسین:۔شاہ صاحب جس کی تصدیق میں وہ بات بھی تو جاتی ہے کہ حضرت علی ؑہجرت کی رات بستر پر سوئے ہوئے تھے حضور ﷺ کے،تو قرآن پاک میں اس کااسطرح ذکر کیا گیا ہے کہ اس شخص نے خداکی رضائیں خرید لیں تو اس کا یہ مطلب ہوت اہے کہ یہ جو رضائیں ہیں اللہ کی،ان کا سوداہو جاتا ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔ایک مقام ہو تا ہے ولی کا،ہر ولی کا نہیں ہو سکتا ہے۔تم کو اب جو یہ چیز،مالک تم کو وہ چیزدینی ہومجھ سے پوچھ کر دے،ایسے لوگ بھی ہیں نا ایسے بھی لوگ ہیں مالک کہتا ہے جو تیرے سمجھ میں آئے دیدے۔یہ ایک ولی کا مقام ہو تا ہے۔راضیہ مرضیہ کا مقام ہو تا ہے۔یہ قرآن میں ہے۔پھر رب اُس سے راضی ہو تا ہے۔یہ قرآن میں ہے پھر رب اُس سے راضی وہ رب سے راضی وہ جو راضیہ مرضیہ والے جو پہنچ جاتے ہیں نا اُن کو اللہ تعالیٰ اختیار دے دیتا ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔عوام کی معلومات کے لئے اور اپنی معلومات کے اضافے کے لئے آپ کی خدمت میں میرا یہ سوال ہے کہ آپ نے اپنا زانوئے ادب،زانوئے تکمیل کس بزرگ کے آگے تک فرمائیں؟
سیدنا گوھر شاھی:۔میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہرکیلئے ظاہر کا رستہ ملتا رہا،باقی یہی رستہ ملا نا یہ دربار والوں سے ملا۔زیادہ میری تکمیل جوہے نا،ابھی بھی چلہ ہے جہاں میں نے چلہ کیا نا کچھ پہاڑی پہ کیا وہاں بھی چلہ گاہ لکھا ہوا ہے لال باغ میں۔دوسال ہم پہاڑوں میں رہے۔ایک سال ہم لال باغ میں رہے۔پھر ہم کو حضور ﷺجوہیں نامیرے سامنے آئے اور یہ بہت کچھ ہمیں بتایا۔جو کچھ ہم نے سیکھا۔اچھا اب لوگ کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ تو ختم ہو گئے (معاذاللہ)کچھ لوگ اس چیز کے قائل ہیں کہ وہ مکھی بھی نہیں ہلا سکتے۔(معاذاللہ)اور کچھ اس چیز کے قائل ہیں کہ وہ حیات النبی ﷺہیں نہیں سمجھے؟ہم حیات النبی ﷺکے قائل ہیں کیونکہ ہم کو ان سے سبق حاصل ہوا ہے۔ہم نے اُن کو دیکھا ہے،ہزاروں بار دیکھا ہے جو بھی ہم کو معلومات کرنی ہوتی ہے ہم انہی سے پوچھتے ہیں جاکے،اس لئے ہم کیسے کہیں وہ نہیں ہیں۔ہمارے لئے تو وہ ہیں باقی جس نے نہیں دیکھا اُس کے لئے نہیں ہوں گے۔
سید نعیم گیلانی:۔اچھا حضوروالا!مختلف مکاتب فکر کی جانب سے آپ کی تنظیم پر مذموم اور آپ کی ذات گرامی پر بہت سے الزامات کی بوچھاڑ ہے۔آپ کا جو سلسلہ چل رہا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ جو لوگ آپ سے نہ ملیں،آپ کی اُن سے ملاقات بھی نہ ہو اور آپ کے بارے میں باتیں کریں۔
سیدناگوھر شاھی:۔اُن کا اپنا ایمان ہے کچھ بھی لکھ دیں۔

سید نعیم گیلانی:۔ہماری تو ملاقات ہو گئی ہے۔ہم پر کچھ فرض عائد ہو گیا ہے کہ جوکچھ ہم نے آنکھوں سے دیکھا اور جو کچھ ہمارے قلب نے محسوس کیا ہم تو ایمانداری سے لکھیں گے یہ صحافیوں پر فرض بھی ہو تا ہے۔لیکن پھر بھی آپ کی اجازت درکار ہے کہ آپ ہمیں اس بات کی اجازت دیں گے کہ جو کچھ ہم نے آپ سے ملاقات کے دوران قلبی طورپر محسوس کیا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔آپ کو اختیار جیسا جی چاہے لکھو اور کچھ کیا جیسا جی چاہے لکھو،یہاں آئے ہو۔
سیدنعیم گیلانی:۔جو کچھ ہم نے محفل میں دیکھا آپ کے عقیدت مندوں کا رویہ ان کی نشستوں پر خاص۔
سیدنا گوھر شاھی:۔آپ سب کچھ لکھیں بھلے جیسا چاہیں۔
سید نعیم گیلانی:۔آپ کی اجازت ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔نہ تعریف میں لکھیں اور نہ مخالفت میں،جو حق چیز آپ نے دیکھی،لکھیں۔
سید نعیم گیلانی:۔اس کی اجازت ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔ہاں!رہا سوال مخالفت کا وہ تکبیر کا آپ نے پڑھا ہو گا،وہ سب خواب کی باتیں ہیں اور وہ بھی دوسرے سے بات ہو رہی ہے۔ہمارے پہ الزام لگا دیا اب صحافی کو کہیں گے نا اُس نے غلط کیا۔آپ اُس کتاب (روحانی سفر) کا مطالعہ کریں نا۔
سید نعیم گیلانی:۔اصل میں مسئلہ یہاں پہ سرکار آجاتا ہے کہ صحافت جو ہے نا وہ بھی فرقہ واریت میں چلی گئی ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔اعتماد ٹوٹ گیا نا۔
سید نعیم گیلانی:۔میں صحافی ہوں۔مجھے چاہیے کہ اگر میں کسی یہودی کابھی انٹرویولے رہاہوں تو ایمانداری سے صحیح بات لکھ دوں گر وہ حق بات کررہا ہے تو کیونکہ اُس نے یہ بات صحیح کہی اور یہودی جو ہے وہ یہ بات صحیح کہہ رہاہے۔یاسر عرفات غلط کہہ رہاہے لیکن میں کروں گا یہ کہ اُس کی بات غلط لکھ دوں۔یاسر عرفات صاحب کی غلط بات کو صحیح ثابت کردوں گا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔زیادہ عرصہ ہو گیا ہے،فرقہ واریت آگئی ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ سے ملا یا ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔صحافت میں زیادہ فرقہ واریت آگئی ہے۔
شفقت حسین:۔میں تو آج کے اس دور کی صحافت جو ہے اس کو گالی سمجھتاہوں۔
سید نعیم گیلانی:۔تھوڑاسا طریقت کے بارے میں ہمارے چھوٹے بھائی نے بہت سارے سوالات کر لئے۔میں آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ آپ کاتو یہ عوامی درس ہے۔اس لیے میں نے محسوس کیا کہ آپ آسان ترین طریقے سے جس طرح لوگوں کے قلب جاری فرماتے ہیں۔
سیدنا گوھر شاھی :۔سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں،صحیح ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔آپ سمجھا دیتے ہیں تاکہ وہ آسان زبان میں سمجھ جائیں لیکن اہل ِتصوف کا جو علم کتابوں کے ذریعے عام ہے یا لائبریریوں میں موجود ہے۔نقشبندی سلسلہ میں چشتی سلسلہ میں ذکر خفی،ذکر جلی وغیرہ کتابوں میں بھی موجود ہے۔اس میں جو سلسلہ ہمیں حضور اعلیٰ دائرہ عمل،دائرہ آمد،دائرہ خلق اس میں باقائدہ انہوں نے بتایاکہ یہاں جو ذکر ہو گا فلاں نبی کا فیض آئے گا۔تمام انبیاء اکرام کے فیوض اور ان کے نور کا رنگ وغیرہ بھی لکھا ہوا ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔ہم نے پورا نقشہ دیا ہے اپنی کتاب (مینار ہئ نور)میں لکھا ہوا ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔آپ کے یہاں یہی سلسلہ ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔ہاں یہ سلسلہ ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔یہ عام آدمی کے لئے آپ درس دیتے ہیں لیکن جو خاص آپ کے حلقے میں داخل ہو تے ہیں۔
سیدنا گوھر شاھی:۔ان میں سے جن کے ذکر چل پڑتے ہیں نا پھر آگے کیلئے وہ آتے ہیں۔
سید نعیم گیلانی:۔اُن کے لئے کلا سز بڑھتی ہیں؟
سیدنا گوھر شاھی:۔کتاب (مینارہ ئ نور)اُ س میں ہم نے پورالکھا ہوا ہے وہاں تک لکھا ہوا ہے دیدار تک۔
سید نعیم گیلانی:۔اچھا۔آپ نے ابھی فرمایا۔اپنی کتاب میں کہ آپ بیعت نہیں فرماتے،اُس کی کیا وجہ ہے؟
سیدناگوھر شاھی:۔اسکی وجہ ہے نا۔بہت سے لوگ ہیں جو بیعت ہونا پسند نہیں کرتے،ویسے ہی فیض چاہتے ہیں، بہت سے لوگ ہیں جوکہیں سے بیعت ہیں اپنے پیر کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔
سید نعیم گیلانی:۔اور یہ قلب بھی جاری کرنا چاہتے ہیں؟۔
سیدنا گوھر شاھی:۔قلب بھی جاری کرنا چاہتے ہیں اس وجہ سے ورنہ اگر ہم قادری ہیں نا۔تو پھر کہیں گے یہ قادری ہے ہم کو بھی قادری ہونا پڑے گا۔پھر اس وجہ سے ادھر آئیں گے نہیں نا۔ہمارامطلب ہے جو بھی آئے فیض حاصل کرے۔

سید نعیم گیلانی:۔اچھا چھوٹا ساسوال وہ بھی عوام کیلئے۔آپ کا نام ریاض احمد گوھرشاھی ہے تو اس میں تخلص کہاں سے شروع ہوا تھا؟
سیدنا گوھر شاھی:۔گوھر شاھی کا؟
سید نعیم گیلانی:۔ریاض احمد تو اک نام ہو گیا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔گوھرعلی شاہ تو ہمارے پڑنانا جو تھے،اُن کا نام تھا،گوہر علی شاہ۔
سید نعیم گیلانی:۔عوام کے فائدے کی بات ہے،اُن کو معلوم ہونا چاہیے!
سیدنا گوھر شاھی:۔نہیں نہیں۔اُن کانام تھا گوھر علی شاہ۔اب جس گاؤں میں رہتے ہیں نا۔اس گاؤں کانام بھی ڈھوک گوہر شاہ۔
سید نعیم گیلانی:۔یہ راولپنڈی کا علاقہ ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔جی ہاں گوجر خان،ڈھوک گوھر شاہ سے پھر گوھر شاھی۔اُس ڈھوک کارہنے والابھی سمجھ لیں اُن کی اولاد میں سے بھی سمجھ لیں۔
سید نعیم گیلانی:۔اچھااس سلسلہ کو دراز کرنے کیلئے دنیا میں آئے ہیں تو جانا بھی پڑے گا۔
سیدنا گوھر شاھی:۔صحیح ہے!
سید نعیم گیلانی:۔اس سلسلے میں آپ نے کیا تیاری فرمائی ہے اپنے عقیدت مندوں کے لئے؟آپ خلیفوں کاطریقہ اپناتے ہیں،خلیفہ مقر رکرتے ہیں۔
سیدناگوھر شاھی:۔نہیں نام نہیں لیتے خلیفہ کا،ہوتا خلیفہ ہی ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔اچھا اُن کو امیر وغیرہ کچھ اور؟
سیدنا گوھر شاھی:۔امیر وغیر ہ بنا دیتے ہیں۔
سید نعیم گیلانی:۔علاقے کا یونٹ انچارج وغیرہ؟
سیدنا گوھر شاھی:۔جس طرح فرض کیا یہ ہے نا۔اس نے سارا علم سیکھ لیا نا اسکو کہیں گے تو فلاں علاقے جا۔لوگوں کو ذکر کا بتا۔ ان کو ذکر دے۔بس کام ہی شروع کرنا ہے بھلے خلیفہ کہو۔بھلے امیر کہو مطلب کام سے ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔ایک عام پاکستانی کیلئے گفتگو تو سب فرماتے ہیں۔آپ کیاپیغام دیں گے ہمارے رسالے کے ذریعے آپ کیاپیغام دیں گے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔پیغام اُن کے لئے یہی ہے کہ یہ وہ علم سیکھو جس سے اللہ کا عشق آتا ہے۔ہمارا یہ پیغام ہے۔روحانیت سیکھوخواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔
سید نعیم گیلانی :۔یہ بڑامتنازعہ سوال ہے؟
سیدنا گوھر شاھی:۔اب میں بتادیتا ہوں اگر کسی کافر کواللہ اللہ میں لگاؤ،مسلمان ہو جائے گا۔مسلما ن کو اللہ اللہ میں لگاؤ مومن ہو جائے گا۔مومن کو اللہ اللہ میں لگاؤ ولی بن جائے گا۔
سید نعیم گیلانی:۔یہ لکھیں،یہ لکھیں،لکھیں،اصل چیز تو یہ ہے جو گونج رہی ہے نا،کہ تجربہ میں گونج رہی ہے وہ یہ کہ آیا ریاض احمد گوھر شاھی صاحب یہ کہاں سے فلسفہ لائے ہیں کہ میرے پاس سب آئیں۔قائد اعظم ؒکے مزار کے سامنے ایک بورڈ ہے۔اس میں لکھا ہوا ہے کہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو!
سیدنا گوھر شاھی:۔جب حضور ﷺآئے تھے تو حضور ﷺکامذہب،تعلق بھی کسی فرقے سے نہیں تھا۔آپ ﷺ کے پاس بھی ہر مذہب والے آتے تھے نا۔بھئی اس وقت مسلمان کہاں تھا؟مسلمان کہاں سے آتے تھے سارے ہنود ہی آتے تھے نا۔تو پھر انہوں نے ان کے سینوں میں نور پہنچایا۔بعد میں مسلمان ہوتے نا۔میری نیت یہ ہے کہ کافر کو اللہ اللہ میں لگالو،مسلمان ہو جائے گا۔مومن کو لگاؤ تو ولی بن جائے گا۔میری نیت تو یہ ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔یہ بہت وضاحت ہو گئی۔
سید نا گوھر شاھی:۔میں نے سکھوں کے گردوارے میں خطاب کیا اس کی ویڈیو موجود ہے۔
شفقت حسین:۔بڑی کلیئر سی بات ہے آنحضرت ﷺجب تشریف لائے تھے تو اپنا پرچار کیا تو۔
سید نا گوھر شاھی:۔ مسلمان تو تھا کوئی نہیں۔
شفقت حسین:۔تو مسلمان تو تھا کوئی نہیں۔عیسائی،ہنود تھے اور دوسری،تیسری کمیونیٹیز تھیں تو جوجو اُن سے متاثر ہو تا گیا حلقہ ئ بگوش اسلام ہو تا گیا تو جس سٹائل میں اس دور میں اسلا م کی تبلیغ تھی،اِسی سٹائل میں آج بھی ہے۔
سیدنا گوھر شاھی:۔صحیح ہے۔
سید نعیم گیلانی:۔اچھا!آپ یہ اس سلسلہ کو تحریر کے ذریعے،کتابوں کے ذریعے!
سیدنا گوھر شاھی:۔آڈیو،ویڈیو،کتابیں،انگلش ترجمے بھی ہیں کتابوں کے۔
سید نعیم گیلانی:۔باقائدہ سلسلہ جاری ہے؟
سیدنا گوھرشاھی:۔ہاں باقائدہ سلسلہ جاری ہے۔

سید نعیم گیلانی :۔اس کے لئے کچھ مرکز ہیں کہ لوگ رابطہ کر سکیں ؟
سیدنا گوھر شاھی :۔بے شمار ،پاکستان میں سینکڑوں ہیں ،بیرون ممالک میں بھی بے شمار ہیں امریکہ تک ،کینیڈا تک ،برطانیہ تک ۔

Check Also

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

جواب دیں