جمعرات , اگست 5 2021

(نماز حقیقت اور نماز صورت میں فرق) فرمانِ حضرت سیّد نا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی

نماز صورت کا تعلق زبان سے ہے۔بہتر72فرقے والے یہی نماز پڑھتے ہیں۔خوارج بھی،منافق بھی اور جن پرعلمائے اسلام نے کفر کا فتویٰ دیا،وہ قادیانی بھی یہی نماز پڑھتے ہیں۔حتیٰ کہ کافر جاسوس بھی ایسی نماز پڑھ پڑھا کر چلے گئے۔حضور پاک ﷺکے زمانے میں ایک پری نے شیطان کو بھی نماز پڑھتے دیکھا تھا۔اگر ایسی نماز جنت کی کنجی ہے تو پھر سارے ہی جنتی ہوئے۔جبکہ حدیث شریف میں ہے کہ ”ایک فرقہ صحیح اور جنتی ہو گا۔“
نماز حقیقت کیا ہے؟۔اس کا ملنا بہت مشکل ہے اور اس کو صرف اہل دل پا سکتے ہیں۔نماز حقیقت کیلئے تین(3) شرطیں ہیں۔ایک کی بھی کمی سے نماز نا مکمل ہے۔
اوّل:۔ زبان اقرار کرے زبان سے ادائیگی ہو کیونکہ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی۔
دوئم:۔ قلب تصدیق کرے یعنی زبا ن کے ساتھ ساتھ قلب بھی نماز پڑھے یا صرف دوران نماز قلب اللہ اللہ کرتا رہے کیونکہ منافقوں کے قلب تصدیق نہیں کرتے۔دوران نماز قلب اللہ اللہ تب کرے گا جب دل کی ہر دھڑکن کو اللہ اللہ میں تبدیل کر لیا جائے جسے ذاکر قلبی کہتے ہیں۔
سوئم:۔جسم بھی عمل کرے یعنی نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ رکوع و سجود کرے کیونکہ فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے۔نما ز میں ایک اور کڑی شرط ہے کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہوں یا اَللہ ہم کو دیکھ رہا ہو۔ظاہر ہے ہم اللہ کو نہیں دیکھ رہے اور اللہ بھی ہمیں نہیں دیکھتا کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ
ان اللہ لا ینظر الی صور کم ولا ینظر الی اعمالکم ولکن ینظر الی قلوبکم و نیا تکم(بحوالہ نور الہدیٰ صفحہ 60)
ترجمہ:”اللہ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اورنہ تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے وہ تو تمہارے قلبوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے۔“ بے شک ہمارے اعمال صالح ہیں۔ لیکن جس قلب پر اللہ کی نظر پڑتی ہے، وہ تو سیاہ ہے۔لوگوں نے دیکھا نمازی ہے لیکن اللہ نے قلب سیاہ کی وجہ سے نہیں دیکھا تو یہ نماز دکھاوا بن گئی جس کیلئے حکم الٰہی ہے کہ ترجمہ:۔ ان نمازیوں کیلئے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں اور ان کی نماز دکھاوا ہے (سورۃ الماعون آیت6,5,4)
زبان کا تصرف عالم نا سوت میں ہے۔بی بی سی لندن سے آواز پاکستان بلکہ اس سے بھی دور پہنچتی ہے۔زیادہ زبانی عبادت سے زبان میں شیرینی اور اثر آجاتا ہے۔ ا س کی تقریروں اور وعظوں پر دنیا عش عش کرتی ہے۔بہت زیادہ عبادت اور وِرد و وظائف سے ایک قسم کی ولایت مل جاتی ہے جس کا تعلق مخلوق اور اس کے درمیان ہوتا ہے۔لیکن مرنے کے بعد یہ ولا یت مخلوق میں ہی رہ جاتی ہے اور وہ خالی ہاتھ جاتا ہے۔قلب کا تعلق عرش معلی سے ہے۔جب یہ یہاں گو نجتا ہے تو اس کی آواز عرش معلی میں پہنچتی ہے۔قلب کی زیادہ عبادت سے قلب میں نرمی اور شیرینی پیدا ہو جاتی ہے۔جس پر اللہ تعالیٰ عش عش کرتا ہے۔ قلب کی دائمی عبادت سے دوسری قسم کی ولایت بھی مل جاتی ہے جس کا تعلق خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے اور مرنے کے بعد یہ ولایت ساتھ جاتی ہے اور وہی قلب اس نماز کو عرش تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔اور وہی نماز پھر مومن کی معراج ہے۔ایسی نماز اگر پورے دن میں دو رکعت بھی میسر آجائے تو پھر بھی بخشش کی امید ہے۔ نماز صورت دن رات پڑھتا رہے تب بھی رب سے دُور ہی ہے۔
مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں (نماز حقیقت خاصان خدا کیلئے ہے۔عام کو بھی اس کے حصول کی کو شش کرنا چاہیے کیوں نہ چین تک جانا پڑے)۔تبھی تو حدیث میں ہے کہ”دل کی حضوری کے بغیر نماز (قابل قبول) نہیں۔“
تشریح:۔لطیفہ قلب بذات خود عرش معلی پر حا ضر ہو تا ہے یا لطیفہ قلب کی آواز عرش معلی پر حا ضر ہو تی ہے ا ورنمازی زمین پر رکو ع و سجود میں!جیسا کہ معراج میں جب حضور پاک ﷺ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرے تو موسیٰ علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اورآپ علیہ السلام جب فوراً عرش پر پہنچے تو دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام وہاں بھی نماز پڑھ رہے ہیں۔

Check Also

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

جواب دیں