جمعرات , اگست 5 2021

علمِ طریقت سے روحانی مخلوقات بیدار ہوتی ہیں

امریکہ (نمائندہ خصوصی )عصر حاضر کی کامل ذات روحانی حضرت سیّد نا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جشنِ ولادت کے موقع پر خصوصی بیان میں فرمایا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ طریقت کے امام اور حضور پاک ﷺ کے باطنی علم کے وارث ہیں ۔ حضرت سیّد نا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی نے فرمایا کہ علمِ طریقت سے انسان کے اندر کی روحانی مخلوقات بیدار ہوتی ہیں ۔علمِ شریعت کے ذریعے انسان کے ظاہری اعمال کی اصلاح ہوتی ہے اور علم طریقت کے ذریعے انسان کے اندر کی روحانی مخلوقات قلب ،روح ،نفس کا تصفیہ،تجلیہ اور تزکیہ ہو تا ہے ۔حضرت نے فرمایا کہ علمِ شریعت کے حصول کے لئے بہت سے مراکز اور استاد میسر آجاتے ہیں لیکن علمِ طریقت کے لئے ولی کامل کو تلاش کرکے ان سے اکتساب کیا جاتاہے ۔علمِ طریقت کی ابتداء اسلام کے پہلے رکن کلمہ طیبہ سے ہوتی ہے ۔عام آدمی صرف ایک دفعہ کلمہ پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے جبکہ طریقت میں اس کلمہ طیبہ کی کثرت کرائی جاتی ہے اور اسم ذات اللہ کااتنا ذکر کرایا جاتاہے کہ کلمہ طیبہ قلب و روح میں پیوست ہو جائے جب اللہ کا اسم پاک دلوں میں نقش ہو جاتا ہے تو انسان دنیاکی کسی طاقت سے نہیں ڈرتا۔وہ اللہ کی رضا کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے ۔حضرت نے فرمایا کہ اہلِ اسلام کی اصل طاقت روحانیت میں پوشیدہ ہے ۔تاریخ اسلام گواہ ہے کہ روحانی قوت کے ذریعے ہی بڑے بڑے معرکے سر کئے گئے ۔صرف ایک مثال غزوہ خیبر کی کافی ہے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے روحانی طاقت کے ذریعے خیبر کے بہت ہی وزنی دروازے کو اُکھاڑ کر پھینک دیا تھا ۔حضرت نے فرمایا کہ ہماراپیغام قلوب میں اسم اللہ اللہ جاری کرنا ہے جس دل میں اللہ کا اسم نقش ہو جائے وہ فلاح یافتہ ہے ۔عبادت کا حقیقی مقصد رسمی طریقے سے نہیں بلکہ تصفیہ قلب ،تجلیہ روح اور تز کیہ نفس میں ہے جو طریقت کے ذریعے ممکن ہے ۔

حق کی آواز 21تا 30نومبر 1999 ؁ء

Check Also

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

جواب دیں