منگل , جولائی 27 2021

وٹامن اے کی کمی بینائی سے محروم کر سکتی ہے

جب بھوک لگتی ہے۔ پیٹ میں آگ سے لگ جاتی ہے۔ اعصاب جواب دینے لگتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پرغصہ آنے لگتا ہے۔ اور کبھی کبھی تو میں چیخنے چلانے لگ جاتا ہوں۔ تب میں یہ نہیں سوچتا کہ اس ملک میں ہزار بار لو ایسے ہیں جنہیں پیٹ بھر دو روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ جنہوں نے کبھی پر تکلف ذائقہ دار کھانے کا لطف تک نہیں اٹھایا جو روکھی سوکھی کھا کر پانی سے اپنا جہنم بھر لیتے ہیں۔ اور کسی سے کوئی شکوہ نہیں کرتے میں جو ہر طرح کے مرغن کھانے کھاتا رہتا ہوں۔ اور جوآدھا پیٹ کھانے کھاتے ہیں اورخدا کے صبر و شاکر بندے ہیں ہم دونوں میں کو تو کیا فرق ہے؟ یہی کہ ایک وقت آئے گا۔ جب خدا کے ان صابر وشاکر بندوں کو انواع و اقسام ذائقہ دار پھل ملیں گے۔ اور وہ جنت میں سبز غالیچوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ اور تب مجھے زقوم ملے گا۔ وہ بد ذائقہ اور بدبو دار کھانے والی چیز، جس کا کھانا محال ہوگا۔اس وقت میرے پیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اور اس آگ کو بجھانے کے لئے پانی کا گھونٹ بھی میسر نہیں ہو گا جب میں اپنے اس انجام پر غور کرتا ہوں تو مجھے روزوں کی مصلحت سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ خدا نے غالبات روزے اسلئے بھی فرض کئے ہیں۔ تاکہ ہمیں ان غریب اور نادار انسانوں کے دل اور اذیت کا احساس ہو۔ جو آج بھی کھانے کے لئے کوڑے کے ڈھیرسے پھینکی ہوئی سوکھی روٹیاں چنتے رہتے ہیں۔ جو بڑی لجاجت سے ہمارے سامنے آ کھڑے ہو جاتے ہیں اورکہتے ہیں ۔’’دو روز کا بھوکا ہوں، کہیں سے مجھے کھانا دلا دو، اور ہم سخت دلی سے سوچتے ہیں کہ یہ پیشہ ور مانگنے والوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ان مانگنے والوں میں وہ غریب بچے بھی ہوتے ہیں جن کے ننگے پاؤں برسوں کی مٹی اور گندگی سے اٹے ہوتے ہیں اور جن کے غلیظ لباسوں سے بدبو بھی اٹھ رہی ہوتی ۔ ہم لمحے بھر کو نہیں سوچتے کہ کیا خبر سیہ سچ ہی کہہ رہے ہوں۔ واقعی یہ بھوکے ہوں، انہیں مزدوری نہ ملی ہو اور ان کا سوچال سچا ہو یہ تو وہ گداگر ہیں جو بے فکری سے کبھی اپنے پیشے کے تقاضوں کے ہاتھوں اور کبھی سچ مچ اپنی بھوک سے بے حال ہو کر ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ لیکن اس ملک میں لکھو کھانا دار لوگ ایسے بھی تو ہیں جو شرم سے دامن گیر سے اپنی ضرورت بیان بھی نہیں کر پاتے مانگنے والوں کو تو پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے جو نہیں مانتے انہیں کون پوچھتا ہے۔ اس کی فکر زمین پر کس کو ہوتی ہے۔ یہ تین چار ہزار کما کر پورے کنبے کی کفالت کرنے والوں کی گزر اوقات کیسے ہتی ہے۔ ان کے بارے میں ہم مشکل ہی سے سوچتے ہیں۔ہاں کبھی سبزی اور گوشت خریدتے ہوئے جب ہوش ربا گرانی ہیں ہراساں کر دیتی ہے۔ تو بھولے بھٹکے خیال آ جاتا ہے۔ کہ غریب غرباء کا گزارہ اس مہنگائی میں کیسے ہو رہا ہو گا۔لیکن ہم بے بس اس حد تک سوچ کر رہ جاتے ہیں ہم ارد گرد ایسے نادار مگر سفید پوشوں کو تلاش نہںی کرتے جن کی حتی المقدور مدد کی جا سکے یہ پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کہ نبوت کے بعد رسول اکرم ﷺ پر وکئی دن ایسا نہیں گزار جب انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو اکثر ثن ایسے گزرتے تھے۔ جب بھوک سے آپ ﷺ کروٹوں پر کروٹیں بدلتے تھے آپ ﷺ چاہتے تو خاکی جانب سے دنیا کی ہر بڑی سے بڑی نعمت آپ ﷺ کے دستر خوان پہ سج جاتی ہے۔ لیکن آپ ﷺ کا یہ افلاس اختیاری تھا آپ ﷺ نے اپنی امت کے غریبوں، مفلسوں ، یتیموں، مسکینوں اور ناداروں کا معیار زندگی اپنی مرضی سے اختیار کیا تھا۔ یہ آپ ﷺ کی وہ شفقت و محنت تھی جو آپ ﷺ نے ساری زندگی کسی سوال کرنے والے کے سوال کو رد نہیں کیا میرے رسول ﷺ کی اس فیاضی اور فراخدلی کی ایک ہلکی سی چھینٹ بھی ہم پر پڑ جاتی تو آج اس ملک میں کوئی بھوکا نہ ہوتا کسی کی انتڑھیاں خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے سوکھی نہ ہوتی اور کوئی لجاجت اسے ایک وقت کی روٹی کے لئے ہمارے سامنے سراپا سوال بن کر کھڑا نہ ہوتا۔
میں سوچتا ہوں کہ قرآن حکیم کے واضح احکامات اوررسول اکرم ﷺ کی عملی تعلیمات کے باوجود غریبوں اور ناداروں کی طرف سے ہم اتنے بے پرواہ کیوں ہیں؟ قرآنی آیات اوراحادیث میں کتنے تواتر سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زکوۃ صدقات ہدئیے اور خیرات سے بندے کے مال میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ بلکہ ایک تو مال و دولت پاک ہوتے ہیں ،دوسرے ان میں افزائش ہوتی ہے۔ یہ شیطان ہے جو دوسروں پہ مال خرچ کرنے سے ڈراتا ہے۔ اور بخل کی ترغیب دیتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل کی امید دلاتا ہے۔ اور اسے اللہ کو قرض دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ قرآن حکیم کی ابتدائی آیات میں متقیوں میں ایک صفت بیان کی گئی ہے۔ کہ جو رزق ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ، گویا جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ بھی عطائے خدا وندی ہے۔ وہ اسے جب چاہے واپس بھی لے سکتا ہے۔ وہ چاہتا تو دیئے ہوئے رزق میں ہم سے ہمارے نہ چاہنے کے باوجود خرچ کرا سکتا تھا۔ لیکن یہ اختیار اس نے ہمیں دیدیا ہے۔ کہ ہم اپنی مرضی سے چاہیں تو خرچ کریں اور چاہیں تو خرچ نہ کریں۔ گویا ہمارا رزق بھی ہمارے ایمان کی آزمائش ہے۔آج کروڑوں لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں مفلسی اور ناداری ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ بیروزگاری سے تنگ
آئے ہوئے لوگ مایوس ہو کر خود کشیاں کر رہے ہیں بنکوں سے کاٹی ہوئی زکوۃ خدا معلوم کن’’مفلسوں‘‘ تک پہنچائی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں رمضان المبارک کی آمد اپنے اندر یہ سبق رکھتا ہے۔ جب روزوں میں ہم پہ نقاہت طاری ہو تو ہم خدا کے ان بندوں کے لئے بھی سوچیں جن کے لئے سارا سال ہی رمضان المبارک کا مہینہ رہتا ہے۔ جن کے سروں پر ان کی چھت نہیں ہے اور جو اپنے بچوں کو کبھی ڈھنگ کا کھانا کھلانے سے عاجز نظر آتے ہیں۔ بے شک محبتوں میں سب سے مکروہ محبت مال کی ہے۔ جس دل میں مال کی محبت ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ دل نہیں ہو سکتا۔ دل سے مال کی محنت نکالنے کا یہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے مال میں مستحقوں کو حصہ دار بنائیں اس سے مال بھی پاک ہو گا اور دل کو بھی وہ روحانی سکون میسر آئے گا جو سکون مال و دولت جمع کرنے کی تگ و دو میں چھن جاتا ہے۔

Check Also

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک  1998کو ماہانہ اجرک کی ٹیم نے عالمی روحانی شخصیت حضرت سےدنا ریاض احمد …

جواب دیں