اتوار , نومبر 28 2021

ولائیت کا سربستہ راز

قیامت کے بعد ان روحوں کو ایساجسم ملے گا کہ جلایاجائے گا،تکلیف توپائے گا لیکن مرے گا نہیں ۔یہی ایک راز ہے جس کوبہت کم لوگ جانتے ہیں۔اگرزیادہ لوگ جانتے تو بہتر فرقے نہ بنتے اب یہی ہے کہ کیاخبر کون اہل کان ہے،کون اہل زبان ہے یا اہل دل یا اہل نظرہے۔کوشش کرے قسمت کو آزمائے کیاخبر وہ اہل نظرہی ہو۔
کتاب غوثیہ میں مذکورہے کہ جب حضرت غوث الثقلین سیّد محی الدین ابو محمد عبدالقادر جیلانیؓ اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف تشریف لے گئے ۔اسوقت کے اولیاء میں سے ایک ولی اللہ صاحب مقامات و درجات نے عالم خواب میں شیخ عبدالقادرجیلانیؓ کی زیارت کی اور دریافت کیایاسیّد عالی نسب اورشیخ والا حسب یہ فرمائیے کہ منکر نکیر کے سوالوں سے آپ نے کیونکرفرصت فرمائی ۔ آپؓ نے فرمایایوں پوچھو کہ انہوں نے میرے سوالوں سے کس طرح رہائی پائی ۔پھرفرمایاسن اے اہل اللہ!جس وقت دونوں فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا من ربک یعنی تیرارب کون ہے ،میں نے کہاکہ اسلا م کا یہ طریقہ ہے کہ پہلے سلام اور مصافحہ کرتے ہیں بعد میں کلام ومکالمہ کرتے ہیں ۔بغیر سلام و مصافحہ کے باتیں کرنے کی کہاں رسم ہے ۔پھر وہ دونوں فرشتے نادم ہوئے پھرسلام وعلیک کرکے مصافحہ کو اپنے ہاتھ بڑھائے میں نے دونوں ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیئے او ر کہاکہ پہلے میرایک سوال تم سے ہے ۔جب اس کا جواب دے دوگےتب میں تمہارے سوال کا جواب دوں گا ۔فرشتوں نے کہافرمائیے آپ کا کیاسوال ہے۔ میں نے کہا کہ جب خداوندتعالیٰ نے چاہا آدم کو پیداکرکے زمین پراس کو اپناخلیفہ مقرر کرے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔انی جاعل فی الارض خلیفہ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 29)یعنی میں پیدا کرتاہوں زمین میں خلیفہ اپنا،اللہ تعالیٰ کا یہ کلام سنکرتمام فرشتے بلا تامل بول اُٹھے ۔اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک(سورۃ البقرہ آیت نمبر 29 )یعنی پیداکرتاہے اس شخص کو
جوفساد کرے گا زمین پر اور خونریزی کرے گا اورہم لوگ تیری تسبیح کرتے ہیں ساتھ حمد اور پاکی تیری کے۔پس تمہارے اس قول پر کئی اعتراض لازم آتے ہیںایک تویہ کہ تم نے خداتعالیٰ کو اپنے سے مشورت طلب ٹھہرایا حالانکہ وہ بے نیاز اور منزہ ہے اس سے کہ کسی سے صلاح اور مشورہ چاہے۔دوسرے یہ کہ تمام بنیآدم کی طرف نسبت فساد اور خونریزی کی اور یہ نہ جانا کہ اس میں کتنے بندۂ خداایسے ہونگے کہ جو تم فرشتوں سے بھی افضل واعلیٰ ہوں گے ۔تیسرے یہ کہ تمایک بڑی گستاخی کربیٹھے کہ اپنے علم کو اس عالم الغیب کے علم سے زیادہ سمجھے۔جب حق تعالیٰ سبحانہ نے انی اعلم مالاتعلمون (سورۃالبقرہ آیت نمبر 29)کا تازیانہ تم کوماراجب تم ٹھیک ہوئے یعنی اس نے فرمایا کہ تحقیق میں جانتاہوں وہ باتیں جو تم نہیں جانتے ہو۔اب میرے اعتراض کا جواب دے دو جب میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں گاجب تک تم میری مکمل باتوں کا جواب نہ دو گے تب تک میں نہیں چھوڑوںگا۔اب راوی کہتاہے حضرت غوث الثقلین کے یہ اعتراض سن کر منکر نکیر کے چھکے چھوٹ گئے اور ہکابکا سے کھڑے ہوئے آپس میں ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے
ہرچند کہ غورو تامل کیا بہت کچھ سمجھامگر جواب نہ بن پڑا توچاہا کہ بقوت طاقت ملکوتی کے اپنے ہاتھوں کو چھڑا کرغائب ہوجائیں تاکہ حضرت محبوب سبحانیؓ کےاعتراض کی جواب دہی سے بچ جائیں۔مگراس دلاور یکتائے میدان جبروت اور غواص بحرلاہوت کے سامنے قوت ملکوتی ان کے کیا کام آسکتی تھی۔بغیر جواب دیئےرہائی ممکن نہ تھی ۔ آخرمجبور ہوکرکہنے لگے کہ ہم دونوں ہی نے یہ بات نہیں کہی تھی بلکہ کل فرشتے اس قول کے شرکاء تھے اس لئے آپ کے اعتراض کا جوابسب ہی کی طرف سے ہوناچاہیے۔آپ ہمیں چھوڑدیں توہم آپ کا جواب فرشتوں سے پوچھ کر آئیں ۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم نہ آئے تومیں کیا کروں گا ۔لہٰذا تممیں سے ایک کو چھوڑ دیتاہوں کہ وہ جاکراب میرے سوالوں کے جواب فرشتوں کے گروہ سے پوچھ آئے اور دوسرا یہاں جواب کے آنے تک حاضر رہے چنانچہایک کو چھوڑ دیا۔اس نے جاکرفرشتوں سے یہ حال بیان کیا مگرسب فرشتے حضور غوث پاکؓ کے سوال کے جواب سے عاجز رہ گئے ۔اس وقت باری تعالیٰ کی طرفسے فرشتوں کو حکم پہنچا کہ تم نے جو آدم پر اعتراض کیاتھا وہ سب آدم کے فرزندوں پر عائد ہوتاہے بس تم کو چاہیے کہ تم میرے محبوب کی خدمت میں حاضرہوکراپنی خطاء معاف کراؤ ۔جب تک وہ معاف نہ کردے گا تم کو رہائی نہ ہوگی۔الغرض تمام فرشتے حضرت محبوب سبحانیؓ کی جناب میں حاضرہوکر اپنی تفسیر کے عذر خواہہوئے اور حضرت صمدیت سے بھی شفاعت کا اشارہ ہوا۔اس وقت غوث الاعظمؓ نے جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اے خالق کل رب اکبر اپنے رحم و کرم سےمیرے مریدین کو بخش دے اور ان کو منکر نکیر کے سوالوں سے بری فرمادے تومیں ان فرشتوں کاقصورمعاف کرتاہوں فرمان الٰہیآپہنچاکہ میں نے تیری دعا قبول
کی توفرشتوں کو معاف کرتب جناب غوث پاکؓ نے فرشتوں کو چھوڑ دیا اور وہ عالم ملکوت چلے گئے۔ (گلستانِ اولیاء)عبادت دو قسم کی ہیں ایک ظاہری عبادات جس کے متعلق توبچہ بچہ واقفیت رکھتاہے دوسری باطنی عبادت جس کو آج کل عمررسیدہ افراد(بوڑھے لوگ بھی بھولچکے ہیں)انہیں اس عبادت کا علم نہیں ہے آج کے اس افراتفری کے دورمیں ہرشخص ایک دوسرے کا دشمن نظرآرہاہے جبکہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہےکہ مسلمان مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ان بھائیوں میں تفرقہ کس طرح پڑا؟اور اب تفرقہ سے کس طرح نجات حاصل ہوسکتی ہے ؟آیئے ان دوپہلوؤںپرغور کرتے ہیں!شیطان جوکہ ہمارا ازلی دشمن ہے اسے یہ قدرت بھی حاصل ہے کہ وہ انسان کے خون میں سرائیت کرجائے ۔آنحضرت محمد ﷺ کے فرمانکے مطابق شیطا ن تمہاری نسوں میں دوڑرہاہے ۔دوسری جانب انسان میں روحیں ہیں ان کا تعلق بھی انسان کی نسوں سے ہے ۔جب انسان زبان سے ظاہریعبادت کرتاہے تو وہ عبادت کا اثر ان روحو ں اور انسانی نسوں میں گردش کرنے والے خون تک نہیں پہنچتاکیونکہ یہ دونوں انسان کے اندر ہیں ۔ایسے شخص کی ظاہریعبادت اس مثال کی طرح ہے کہ کسی بل میں سانپ بیٹھاہے اور وہ باہر سے زمین پرڈنڈے ماررہاہے بھلا اس سانپ کو ڈنڈو ں کاکیا اثرہوگاوہ تواندرسے محفوظ ہے۔ہم زبان سے ظاہرمیں تلاوت توکررہے ہیں، ذکرکررہے ہیں ، نمازیں پڑھ رہے ہیں لیکن شیطان جو ہماری نسوں میں موجود ہے ۔اسے ظاہری عبادت سے کوئیاثرنہیں پڑرہاجب تک ہماری نسوں میں خون کے ذریعے نورسرائیت نہیں کرے گااور انسان میں موجود روحیں نورسے منورنہ ہوجائیں۔شیطان انسانی نسوں سےنہیں بھاگے گا۔اب انسانی رگوں میں خون کس طرح سرائیت کرے اور کس طرح انسان میں موجودروحیں منورہوں اور شیطان انسان میں سے نکل کر بھاگے اسکے لئے لوگ اہل سلاسل سے رجوع ہو کر طالب یا بیعت ہوتے ہیں اور نقشبندی اورچشتی ، سہروردی اور قادری کہلاتے ہیں لیکن افسو س آج کل بے شمار لوگوں نےمندرجہ بالاسلاسل میں سے کسی نہ کسی سلسلے کے پیرومرشد سے طالب یا بیعت ہوکراپنی نسبت اسی سلسلے سے قائم کی لیکن ان میں سے اکثریت اس راز کو پانے میںمحروم رہی،محروم کیوں رہی؟اس لئے کہ یہ راز اور یہ دولت تواللہ کے کامل ولیوں سے حاصل ہوتی ہے جوکہ اللہ کے ولی سے وابستہ ہوئے وہ پاگئے ان کے بعد ان کیاولادوں نے کہاکہ ہماراباپ ان کے باپ سے مرید تھا لہٰذا ہم ان کے بیٹے سے مرید ، ان کا بیٹاان کے بیٹے سے اور یہ سلسلہ پھر اسی طرح چلتا رہایاد رہے کہ ولایت
وراثت نہیں اگروراثت ہوتی تو نبوّت ہوتی جو عرفہ واعلیٰ ہے جب ہرنبی کا بیٹانبی نہیں ہوسکتااسی طرح ہرولی کابیٹاولی کس طرح ہوسکتاہے۔لہٰذاجولوگ جدی پشتیولایت والی نام نہادگدیوں سے وابستہ ہوئے وہ خالی ہی رہے۔لوگ کہتے ہیں وہ بھی تو بزرگ ہے اس کی داڑھی ہے وہ نماز بھی پابندی سے پڑھتاہے اس کا والد جو کہ کامل ولی تھا اس کی اور اس کے بیٹے کی نمازوں میں زمیںآسمان کافرق ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا ولی چن لیتا ہے تو اس کے اوپر وہ ایک دفعہ تجلی ضرور ڈالتا اور اسے پیارسے دیکھتاہے اسی میں یا تو اس اﷲ کے ولی کا شیشہعقل ٹوٹ جاتا ہے اگر شیشہ عقل ٹوٹ گیا تو وہ مجذوب ہو گیا اور یہ تجلی برداشت نہیں کر سکا تو ہلاک ہو گیا اگر اس نے اس تجلی کو برداشت کر لیا تو محبوب ہوگیا۔اب روزانہ اس کے اوپرتین سو ساٹھ(360) مرتبہ نظر رحمت پڑنا شروع ہو گئی اگر وہ مجذوب ہو گیا ہے تو لوگوں کو پتھر مارے گا،ڈنڈے مارے گا،گالیاںدے گاوغیرہ وغیرہ اور اس کی ماراورگالیوں سے فیض شروع ہو جاتا ہے۔ایسی تجلی برداشت کر کے اگر کوئی ولی محبوب ہو گیا تو اﷲ کی نظر رحمت اس کے جسمپرپڑتی رہتی ایک نظر رحمت انسان کے سات کبیرہ گناہ کو جلاتی ہے گویااس کے ایک دن میں اس محبوب ولی اﷲ کے دوہزار پانچ سو بیس (2520)گناہ کبیرہ جل کرخاک ہو گئے ۔ ایک وقت آتا ہے کہ اس کے تمام گناہ اﷲ تعالیٰ اپنی نظر رحمت کے ذریعہ جلاکر خاک کر دیتا ہے۔اب اس کے نامہ ا عمال میں گناہ نہیں اوروہ گناہوں سے محفوظ ہوگیا۔نظر رحمت اس پر مسلسل پڑتی رہتی ہے اس کے بعد یہ نظر رحمت اﷲ کے فضل سے اس ولی کے پاس بیٹھنے والےطالبین،مریدین،معتقدین کے گناہ جلانے شروع کر دیتی ہے اس طرح ایک دن اس ولی کی نسبت سے اس کے ساتھ بیٹھنے والوں کے گناہ بھی جل کر خاک ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صحابہ اکرام نبی کریم ﷺ کی زیادہ سے زیادہ صحبت میں بیٹھتے۔ ان کی اس صحبت میں بیٹھنے کے سبب ہر صحابی نے بغیر چلوں اور وظیفوں کے ولیوں سے اعلیٰ مقام حاصل کیا کیونکہ حضور پاک ﷺ کے اوپر تو وہ نظر رحمت چوبیس گھنٹے رہتی تھی اس طرح ان کی صحبت میں بیٹھنے کے سبب بغیرچلوںاوروظیفوں کے صحابیت کے عرفہ و اعلیٰ مرتبہ پر فائزہو گئے اور جو لوگ آپ کی صحبتوں سے دور رہے نماز تہجدبھی پڑھتے رہے لیکن منافق و خوارج ہو
گئے۔دوسرے جب اصحاب کہف کے اوپر نظر رحمت پڑی اس وقت کوئی بھی ساتھی نہ تھا اس وقت ان کے قریب ایک کتا تھا اﷲ کی نظر رحمت کے سبب وہ کتا بھی حضرت قطمیررضی اﷲتعالی عنہ بن گیا۔
یہ ہی وہ نظر رحمت ہے جو انسان کے اندر کو جگاتی ہے اس وقت حضو ر ﷺکی وہ صحبت توہمیں ایک نظر رحمت سے دیکھیں اور صحابہؓ کی طرح ہمارے اندرکو جگادیں تو پھر ہم کیا کریں؟اﷲ کے بندوں اﷲ جل جلالہ ٗمیں اور اس کے رسول ﷺ کے نام میں نور اور برکت ہے اس کے نور کو اپنی نس نس میں اور رگوں میںسرائیت کر لو!تسبیحات دو طرح کی ہوتی ہیں ایک پتھر کی تسبیح جو ظاہر میں نظر آتی ہے اس کا کام ٹک ٹک کرنا ہے اس کے ساتھ زبان بھی اﷲاﷲ کرتی ہے درود شریف پڑھتی ہےاس تسبیح کا تعلق ظاہری انگلیوں سے ہے اس کا انسان کے اندر سے تعلق نہیں۔دوسری تسبیح اﷲتعالیٰ نے تمہارے اندر رکھ دی ہے جو اسی طرح ٹک ٹک کررہی ہےاس کو دل کی تسبیح کہتے ہیں جس طرح پتھر کی تسبیح کی ٹک ٹک کے ساتھ زبان اﷲاﷲ کرتی ہے اسی طرح اس دل کی ٹک ٹک کے ساتھ اﷲ اﷲکو ملایاجاتا ہے۔کچھ دنوں اﷲ اﷲ کی مشق کے بعددل کی خالی ٹک ٹک اﷲاﷲ میں تبدیل ہو جاتی ہے دل کی ٹک ٹک تو چوبیس گھنٹے چلتی رہتی ہے پتھر کی تسبیح کو چوبیس گھنٹے نہیں چلاسکتے لیکن دل کی تسبیح تو 24گھنٹے چلتی رہتی ہے اور جب دل کی ٹک ٹک اﷲ اﷲ میں تبدیل ہو گئی تو بندہ اس وقت کھاتا پیتارہے دل اﷲاﷲکرتا رہے گاباتیں کرے کام کاج کرے، خرید و فروخت حتیٰ کہ سوتا رہے تو بھی یہ دل اﷲاﷲکرتا رہے گا اب اس ٹک ٹک کا کام ہے خون کو آگے دھکیلنا ایک (ٹک)اﷲ دوسری ٹک (اﷲ) تیسری چوتھی یہ سلسلہ 24گھنٹے جاری رہتا ہے گویا 24گھنٹے دل کی یہ ٹک ٹک اللہ ھُو کے نورکو خون کی نسوں میں دھکیلتی رہتی ہے اسی طرح اب اللہ اللہ کا نور ٹک ٹک کے ذریعہ نسوں میں چلاگیااور شیطان جو انسان میں پوشیدہ تھا اس انسان کی رگوں سے اس وقت نکل کربھاگ جاتاہے اور روحیں جاگ اٹھتی ہیں جبروحیں جاگ اٹھتی ہیں تو اللہ ھُو کا نور ان کی غذابن جاتاہے اللہ ھُو کے نور کے ذریعہ ان روحوں کی نشوونماہوناشروع ہوجاتی ہے۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جوجاگ کرعبادت کررہے ہیں لیکن انکا شمارسوئے ہوئے لوگوں میں ہوتاہے اورکچھ لوگ بستروں پرسورہے ہیں لیکن ان کا شمار زندہ لوگوں میںکیاجاتاہے کیونکہ بظاہرتووہ سورہے ہیں لیکن ان کے دل تواللہ اللہ (عبادت)کررہے ہیں۔ ایسے ہی بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے کہ ’’میرے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اُٹھتے بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹوں کے بل بھی میرا(اللہ کا)ذکرکرتے ہیں(سورۃالنساء آیت نمبر 120 ) ۔ نیزفرمایا کہ اللہ کے ذکر کرنے والوں کو نہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے اور نہ فروخت ‘‘اب ایسے شخص جس نے اپنے دل کی ہرٹک ٹک کو اللہ اللہ میں تبدیل کرلیا اس کا اٹھنا ،بیٹھنا،چلنا،پھرنا،باتیں کرناحتیٰ کہ سونا تمام کے تمام اعمال اور ہر گھڑی بارگاہِ رب العزت میں عبادت کا درجہ رکھتے ہیںایسے ہی لوگوں کی نسبت سلطان العارفین حضرت سلطان حق باھوؒ فرماتے ہیں۔
کچھ جاگدیاں سُتے ہو تے کچھ سُتیاں جاگدے ہُو
حضورپاک ﷺ فرماتے ہیں کہ ہم سوتے ہیں مگرہمارے دل نہیں سوتے
نور بنانے کے مختلف طریقے
پہلا طریقہ
کاغذ پر کالی پنسل سے اللہ لکھیں، جتنی دیر طبیعت ساتھ دے روزانہ مشق کریں ایک دن لفظ ا للہ کاغذ سے آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گاپھر آنکھوں سے تصورکے ذریعہ دل پر اُتارنے کی کوشش کریں۔
دوسرا طریقہ
زیرو کے سفید بلب پر پیلے رنگ سے اللہ لکھیں،اُسے سونے سے پہلے یا جاگتے وقت آنکھوں میں سمونے کی کوشش کریں ۔جب آنکھوں میں آ جائے تو پھر اُس لفظ کو دل پر اُتاریں۔
تیسرا طریقہ
یہ طریقہ اُن لوگوں کے لئے ہے جِن کے راہبر کامل ہیں اور تعلق اورنسبت کی وجہ سے روحانی اِمداد کرتے ہیں ۔ تنہائی میں بیٹھ کر شہادت کی انگلی کو قلم خیال کریںاور تصور سے دل پر اللہ لکھنے کی کوشش کریں، راہبر کو پکاریں کہ وہ بھی تمھاری انگلی کو پکڑ کر تمھارے دل پر اللہ لکھ رہا ہے۔ یہ مشق روزانہ کریں جب تک دل پر اللہ لکھا نظر نہ آئے۔پہلے دونوں طریقوں میں اللہ ویسے ہی نقش ہوتا ہے، جیسا کہ باہر لکھا یا دیکھا جاتا ہے۔ پھرجب دھڑکنوں سے اللہ ملنا شروع ہوجاتا ہے تو پھر آہستہآہستہ چمکنا شروع ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس طریقے میں کامل راہبر کا ساتھ ہوتا ہے، اس لئے شروع سے ہی خوشخط اور چمکتا ہوا دل پر اللہ لکھا نظر آتا ہے۔ دنیا میں کئی نبی ولی آئے، ذکر کے دوران بطور آزمائش باری باری، اگر مناسب سمجھیں تو سب کا تصور کریں جس کے تصور سے ذکر میں تیزی اور ترقی نظر آئے آپ کا نصیبہ اُسی کے پاس ہے۔ پھر تصور کیلئے اُسی کو چن لیں، کیونکہ ہر ولی کا قدم کسی نہ کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے، بے شک نبی ظاہری حیات میں نہ ہو۔ اور ہر مومن کا نصیبہ کسی نہ کسی ولی کے پاس ہوتا ہے۔ ولی کی ظاہری حیات شرط ہے۔ لیکن کبھی کبھی کسی کو مقدر سے کسی ممات والے کامل ذات سے بھی ملکوتی فیض ہوجاتا ہے، لیکن ایسا بہت ہی محدود ہے۔ البتہ ممات والے درباروں سے دنیاوی فیض پہنچاسکتے ہیں۔ اسے اویسی فیض کہتے ہیں اور یہ لوگ اکثر کشف اور خواب میں اُلجھ جاتے ہیں، کیونکہ مرشد بھی باطن میں اور ابلیس بھی باطن میں۔ دونوں کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔ فیض کے ساتھ علم بھی ضروری ہوتا ہے، جس کیلئے ظاہری مرشد زیادہ مناسب ہے، اگر فیض ہے، علم نہیں تو اُسے مجذوب کہتے ہیں۔ فیض بھی ہے، علم بھی ہے اُسے محبوب کہتے ہیں۔ محبوب علم کے ذریعے لوگوں کو دنیاوی فیض کے علاوہ روحانی فیض بھی پہنچاتے ہیں، جبکہ مجذوب ڈنڈوں اور گالیوں سے دنیاوی فیض پہنچاتے ہیں۔اگر کوئی بھی آپ کے تصور میں آکر آپ کی مدد نہ کرے تو پھر گوہر شاہی ہی کو آزما کر دیکھیں۔ مذہب کی قید نہیں، البتہ ازلی بدبخت نہ ہو۔ جاری ہے ۔۔

Check Also

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

اگر روح بیمار ہو تو قرآن پاک سے بہتر کوئی دوا نہیں

جواب دیں