اتوار , نومبر 28 2021

قصہ ایک مسجد کا

مسجد میں جماعت ہو رہی تھی۔ امام صاحب انتہائی خوش الحانی سے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک ایک صاحب کی جیب میں رکھے موبائل فون سے بھی تلاوت کی آواز آنے لگی۔یہ دراصل موبائل فون کی کالنگ ٹون تھی۔ امام صاحب کی تلاوت اور موبائل فون کی تلاوت دونوں ایسی ٹکرائیں کہ نہ امام صاحب کی تلاوت کا پتہ چلتا تھا نہ ہی موبائل پرریکارڈ کی ہوئی تلاوت کی سمجھ آتی تھی آوازوں کے اسی ٹکراؤ میں نماز مکمل ہوئی۔ہمارے ہاں قوت برداشت کا فقدان تو ضربالمثل ہے۔ امام صاحب نے سلام کیا پھیرا ہر شخص نے پہلے تو موبائل والے کو گھورنا شروع کیا۔پھر چاروں طرف سے طرح طرح کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک صاحب بولے مسجد کے دروازے پر لکھ کر بھی لگا دیا ہے۔ پھر بھی اثر نہیں ہوتا ۔ نماز میں آتے ہو تو موبائل تو بند کر دیا کرو۔ موبائل والے صاحب کہنے لگے’’ موبائل بند کر کے ہی لانا ہوتا تو اس کو گھر پر ہی نہ چھوڑ آتا۔ موبائل رکھنے کا تو فاہدہ ہی یہ ہے کہ اسے کسی وقت بھی بند نہ کیا جائے خبر کہ کس وقت کسی کو ضرورت پیش آئے اور وہ فون کرے۔ اگر ادھر فون بند ہو تو اسے کتنی پریشانی ہو گی۔ کیا کسی ضرورتمند کو پریشان کرنا اچھی بات ہے؟
دوسرے صاحب دور بیٹھے تھے۔ بڑ بڑاتے ہوئے بولے’’اجی نودو لتیے ہیں نو دو لتیے۔ یہ جملے سنتے ہی چاروں طرف سے مختلف قسم کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ کسی کودعا مانگنے کا خیال نہ رہا نہ مسجد کے تقدس کا۔ایک صاحب سمجھدار تھے۔ حالات کی نزاکت کو دیکھ کر بڑے نرم لہجے میں بولے! بھائیو! مسجد میں اونچا بولنا درست نہیںکیا ہوا جو موبائل بول اٹھا یہ تو دیکھو موبائل میں بھی تو قرآنی آیات کی تلاوت ہی تھی۔ ان کا اتنا کہنا تھا ترت ایک صاحب طنز نہ لہجے میں بولے۔ صاحب اگر موبائل میں بھی قرآن ہی تھا تو امام صاحب کو ہٹا کر موبائل ہی کو آگے رکھ لیا ہوتا۔ بس تو بحث فقہی حدودمیں داخل ہو گئی۔ ہر شخص مفتی تھا ایسے ایسے علمی فتوے آئے کہرہے نام اللہ کا ۔موبائل فون اس دور کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ آغاز میں تو یہ شخصی انفرادیت کے اظہار کا آلہ خیال کیا جاتا تھا۔ اور عموما مالدار لوگ سٹیٹس سیمبول کے طور پراپنے ہمراہ رکھتے تھے۔ جس سے دیکھنے والے مرعوب ہوتے۔ اور موبائل رکھنے والے کوتحسین اور لالچ بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے۔ لیکن اب یہ رکشہڈرائیورکے ہاتھ میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
موبائل فون میں رنگ ٹونز مختلف ہوتی ہیں گھنٹی کا بجنا کوئی نغزہ خاص قسم کی موسیقی جو چاہیں اس میں سیٹ کر سکتے ہیں اسی حوالے سے بعض لوگ اس میں قرآنیآیات کی تلاوت کو بطور رنگ ٹونز استعمال کرتے ہیں۔ جونہی کسی نے آپ کو فون کیا۔ آپ کے موبائل پر گھنٹی کی بجائے قرآن حکیم کی تلاوت شروع ہو جاتی ہے۔ آپ سمجھ جاتے ہیں کہ کسی محبت والے نے یاد کیا ہے اور فون جیب سے نکال کر کانوں کو لگا لیتے ہیں۔ اور ازونیاز کرتے ہیں۔تبادلہ خیال شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن حکیم کی تلاوت کو اس طرح رنگ ٹونز کے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس کا ایک جذباتی جواب تو یہ ہے کہ اس میں کچھ حرج نہیں بجائے موسیقی کے قرآن حکیم سننے کو ملتا ہے۔لہٰذا یہ اچھی بات ہے۔ لیکن فیصلے جذبات پر نہیں اصولوں پر ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے کہ ’’جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس کو خاموشی سے سنو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔لیکن جب موبائل پر قرآنی آیات کی آواز بلند ہوتی ہے تو یہ حکم فورا ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ خاموشی سے سنا نہیں جاتا اور نہ ہی سننے کی نیت ہوتی ہے۔بلکہ فورا اس قرآنی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور با کر اپنی باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔ گویا انسان سننے کے حکم کی فوری نفی کا ارتکاب کرتا ہے۔ جو ناجائز امر ہے۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایک بد عملی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے۔
کفار یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن مجید کو مت سنو اور جہاں اس کی تلاوت ہو رہی ہو وہاں شور کیا کرو تاکہ قرآن کی آواز دب جائے۔ تمہاری آواز غالب آ جائے اس طرح تم غالب آ سکو گے۔ اس طرح قرآن آواز کو دبا کر اپنی آوازوں کو غالب کرنا کفار کے عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ موبائل پر قرآن کی تلاوت کی رنگ ٹون آتے ہی تقریبا یہی عمل انسان سے سرزد ہوتا ہے۔ ادھر قرآنی آیت شروع ہوئی فون کا مالک فورا اسے بند کر کے اپنی بات شروع کر دیتا ہے۔ اس طرح قرآنی آیت کی آواز پر انسانی آواز کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس طرح آیت قرآنی کی توہین بھی لازم آتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جونہی قرآن آیت کو ٹون موبائل میں آتی ہے تو انسان فورا بٹن دبا کر فون  کرنے والے کی بات پر توجہ دیتا ہے۔ اور قرآنی آیت کے مکمل ہونے کا انتظار بھی نہیں کرتا۔ جبکہ آیت کو درمیان میں سے بند کرنا توہین آیات الٰہی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن آیات کی تلاوت کرنا عبادت ہے جس پر ثواب ملتا ہے۔ لیکن یہ عمل فرض یا واجب نہیں۔ لیکن قرآن کی سماعت فرض ہے۔ اگر قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس کا خاموشی سے سننا فرض ہے۔پڑھیں گے تو ثواب ہوتا ہے نہ پڑھیں گے تو گناہ نہیں۔ لیکن جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہوں وہاں خاموشی سے سننا فرض ہے۔ اگر نہ سنیں گے تو گناہ گار ہوں گے۔ موبائل کے اندر ریکارڈ کی ہوئی قرآنی ٹون میں یہ فرض ادا نہیں ہوتا بلکہ اس فرض کی عدم ادائیگی فوری طور پر عملی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس طرح انسان ایک فرض امر کا تارک ٹھہرتا ہے۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پچھلے دنوں مصر کے مفتی اعظم علی گوما نے الیگزینڈریا یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے واضح فرمایا کہ قرآنی آیات کو موبائل فون میں رنگ ٹون کے طورپر استعمال کرنا قرآن کی توہین کے مترادف ہے۔ اس طرح سے قرآن مجید کی بے حرمتی کا پہلو نکلتا ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔

Check Also

تمام عالم اسلام کو عید مبارک

تمام عالم اسلام کو عید مبارک

جواب دیں