منگل , جولائی 27 2021

ساحلوں کی پاسبان

حصول آزادی کے وقت ہماری نیوی کو چند بحری جہاز ورثے میں ملے تھے۔ ہمارے پاس تربیت یافتہ عملے خصوصاًٹیکنیکل شعبوں میں شدید کمی تھی اور عملاً ہماری  ساحلی تنصیبات بھی منظم حالت میں موجود نہ تھیں۔ اس لئے اپنے مختلف شعبوں اور محکموں کی تعمیروترقی کے ساتھ موجودہ یونٹوں اور تربیت یافتہ اداروں کی تدریجی اور باقاعدہ توسیع کے علاوہ ایسے نئے اداروں کے قیام میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ساحلی تنصیبات اور تربیتی اداروں کو جو نظام دیکھنے میں آتا ہے وہ گزشتہ ۵۸ برسوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس وقت پاک بحریہ بلاشک وشبہ ایک سہ جہتی قوت ہے جو سمندرپر سمندر میں اور سمندر سے اوپر دفاعی ذمہ داریاں انجام دینے کی اہل ہے لیکن اس کے باوجود اسے ناقابل تسخیر متحرک اور مزاحمتی قوت بنانے کے امکانات پائے جاتے ہیں تاکہ ہر قسم کے نامساعد حالات میں ہماری سمندری حدود کا دفاع کرنے کی صلاحیت اور اہمیت پید اکی جا سکے ۔ آج پاکستان نیوی میں وسائل کے مطابق ایسا بیڑا موجود ہے جو ملک کی دفاعی ضروریات پر پورا اتر سکتا ہے اس کے علاوہ مربوط اور منظم ساحلی تنصیبات بھی قائم ہیں جن میں ڈاکنگ اور مرمت کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جو بحری خو دکفالت کی جانب اہم پیش رفت ہے علاوہ ازیں ایسے تربیتی ادارے بھی ہیں جو بحری افراد کو اعلی درجہ کی خصوصی پیشہ ورانہ ہنر مندی کی تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں جنہیں اعلیٰ درجے کی مہارت سے لیس سیلرز کی تربیت میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔ ان میں پی این ایس قاسم‘ پی این رہبر این ایس بہادر شامل ہیں حصول آزادی کے ابتدائی پانچ سال میں نیوی کی توسیع اور مربوط طریقے سے اس کی تعمیرو ترقی کے منصوبے بنائے گئے تھے علاوہ ازیں سازو سامان کی نقل وحرکت کے مواصلاتی انتظام کے ادارے اور نیوی کے ڈاکیارڈ کی تعمیر سے کارساز پر پاکستان نیوی ٹیکنیکل کالج کاقیام شامل ہے اب پاک بحریہ کے افسروں کو ہر قسم کی بحری تربیت دی جانے لگی ہے اس کے ساتھ بحریہ کے لئے مزید جہازوں آبدوزوں اور طیاروں کے حصول کا عمل بھی جاری رہا ۔ پرانی دفاعی یونٹوں کوجدید اور تیز تر ساحلی دفاعی یونٹوں میں تبدیل کردیاگیا پھر بعد میں ان میں تیز ترین گریڈ بوٹوں کا اضافہ بھی عمل میں لایا گیا
آج کی پاک بحریہ کا شمار ایک قو ت کے طور پر کیا جاتا ہے جس کے پاس سطح آب پر چلنے والے مختلف شکلوں اور مختلف سائزوں کے جہاز ہیں جو اپنے اپنے خصوصی کردار کرنے پر متعین ہیں اس کے بیڑے میں برطانوی فرانسیسی طرز کے تباہ کن جہاز ہیں بعد میں ملکی سطح پراسی ٹیکنالوجی کی مدد پر نئے شپ شامل کئے گئے سطح آب پر چلنے والی دیگر یونٹوں میں جو اس وقت زیر استعمال ہیں مائن سویپر میزائل پٹرول کرافٹ اور بیڑے کے مدد گار معاون یونٹ شامل ہیں ۔بحریہ کا نمایاں اور دندان شکن حصہ تباہ کن اسکواڈرن کا ہے ان تباہ کن جہازوں کا بنیادی کردار تار پیڈ وبردار چھوٹے اور تیز رفتار کشتیوں کے حملے کے خلاف فلیٹ کا دفاع کرنا ہے رفتہ رفتہ انہیں مزید ذمہ داریاں سونپی جاتی رہیں یہاں تک کہ ان میں ہر قسم کی دفاعی صلاحیت پیدا کر لی گئی اب وہ بحری بیڑے کو زیر آب خطرات اور ہوائی حملے سے بچا سکتے ہیں نگرانی اور پٹرولنگ کا فرض بھی انجام دے سکتے ہیں وہ تجارتی جہازوں کی نگرانی کے علاوہ سمندر میں دوسرے کئی ضروری اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ دو ہزار ٹن سے چھ ہزار ٹن کے مختلف سائزوں کے ہوتے ہیں اور وہ میزائلوں ‘توپوں‘ تار پیڈوں اور آبدوزشکن راکٹوں اور ہیلی کاپٹروں وغیرہ سے لیس ہوتے ہیں ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار تین سمندری میل سے زیادہ ہوتی ہے ۔
کاؤنٹی کلاں ڈسٹرائز ماضی کی یاد گار ہیں اور یہ سمند رمیں گشت کے علاوہ بحری بیڑے کی کارروائیوں کے دوران بڑے جنگی جہازوں کی مدد کیا کرتے تھے آ ج کل کا بنیادی استعمال صرف تربیت یابیرون ملک خیر سگالی کے دوروں کے دوران علامتی علم دکھانے کے کردار تک محدود کردیا گیا ہے اس کلاس کے ڈسٹرائر کو پی این ایس کا نام دیا گیا ہے یہ چھ ہزار ٹن وزنی ہے اور اس میں 4.5انچ دھانے کی چار توپیں نصب ہیں ۔ پاک نیوی کے موجودہ تباہ کن جہازوں کے بیڑے میں طارق اور شمشیر شامل ہیں جن کی کل تعداد آٹھ ہے یہ جنگی جہا ز سمندر سے سمندر میں مار کرنے والے ہارپون  میزائلوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں سے لیس ہیں ۔ پاک بحریہ کے تمام تباہ کن جہازوں پر حملے کی پیشگی اطلاع دینے الا نظام موجود ہے جس نے ۲۰۰۲ء میں پاک بھارت  کشیدگی کے دوران نہایت عمدگی سے کام کیا ۔ ان پر نصب توپیں اور ہتھیاروں کا نظام موثر صدجارحیت ہے پاکستان مستقبل میں چین سے چار ایف ۲۲ قسم کے بحری  جہاز خریدے گا میزائل گن بوٹس کی تیار ی کے منصوبے پر بھی بات چیت جاری ہے ۔مائن ہنٹرز ‘دوسری جنگ عظیم میں سب سے زیادہ تعداد میں جہاز سمندری  سرنگوں کے ذریعے ڈبوئے گئے ۔ بارودی سرنگوں کو سمندری ناکہ بندی کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے پاک بحریہ میں شامل پی این ایس مجاہد اور دوسرے جہاز یہ ردار بخوبی سرانجام دیتے ہیں یہ بحری جہاز فرانس سے حاصل کئے گئے جبکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے کی رو سے انہیں پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور ان کا نام پی این
ایس مجاہد رکھا گیا ہے مائن سویپرز کا کام دشمن کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کی صفائی کرنا ہے ایٹمی کیمیائی اور حیاتیاتی حملے سے بچاؤ کے لئے واٹر شیلڈ فراہم کرتے ہیں  ور میزائل کے حملے سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتے ہیں بحریہ کی تاریخ میں نسبتاَ چھوٹی مگر تیز رفتار کشتیوں جوتوپوں تار پیڈ ویامیزائلوں سے مسلح ہوتی ہیں ساز گار حالات میں اکثر ڈرامائی نتائج دکھاتے ہیں پٹرول کرافٹ سکوارڈن میں چھوٹے آبدوزشکن جہاز بھی شامل ہوتے ہیں جن پر سونار کے آلات اور آبدوز شکن راکٹ  نصب ہوتے ہیں ۔

Check Also

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک  1998کو ماہانہ اجرک کی ٹیم نے عالمی روحانی شخصیت حضرت سےدنا ریاض احمد …

جواب دیں