ہفتہ , جولائی 24 2021

بغاوت یا مجبوری

غربت کی کوکھ میں جنم لینے والی یہ لڑکی نہ صرف خود غریب والدین کی بیٹی تھی بلکہ صدیوں سے ان کا خاندان غربت اور غلامی کی زندگی بسر کررہا تھا خاندانی لحاظ سے معاشرے میں انہیں ادنیٰ تصور کیا جاتا تھا ‘ ایک سانس لینے والے انسان سے زیادہ ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی ‘والدین سخت محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کا پیٹ ھرتے رہے لیکن کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کیا‘ مگر بڑی لڑکی کی جب شادی ہوئی تو بدقسمتی کا یہ عالم تھا کہ خاوند کی شادی کے چند ہفتوں کے بعد ٹانگ ٹوٹ گئی دو کنال زمین جو وراثت سے خاوند کو ملی تھی اس نے علاج کیلئے وہ بھی بیچ ڈالی بلکہ قرض دینے والوں نے ہتھیا لی ۔ گاؤں کے لوگوں نے ترس کھا کر جنگل میں ایک جھونپڑا بنا دیا ۔ مگر بعض یہاتوں نے حسد اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ جنگلات سے اس کی بے دخلی کا حکم نامہ جاری کرا دیا ۔ اب اس مفلوک الحال لڑکی کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ کہاں سر ڈھانپے اور کھانے کیلئے روٹی روزی کا کہاں سے بندوبست کرے ۔ خاوند چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔ چھوٹے بچے ماں کے ساتھ گھر گھر جا کر بھیک مانگتے مگر اس عورت نے بھیک مانگنے کے برعکس محنت و مزدوری کو ترجیح دی ۔ کسی کے گھر جا کر کپڑے دھوتی کسی کے برتن مانجتی ۔ کسی کے دالان میں جھاڑو دیتی کسی دیہاتی کے مال مویشیوں کا گوبر اٹھا کر کھیت میں ڈالتی اور اس طرح دیہات میں کوئی روٹی دے دیتا کوئی بچوں کو پھٹے پرانے کپڑے عنایت کر دیتا ۔ شام کو یہ عورت ایک بڑے سے برتن میں سالن اور روٹیاں لے کر اپنے جھونپڑے میں چلی جاتی اورخاوند کیساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتی ۔ ایسا اکثر بار ہوا کہ صبح سویرے فارسٹ گارڈ آدھمکتا اور انہیں بے دخل ہونے کیلئے کہتا ابھی وہ رخصت ہوتا تو پٹواری کے ہمراہ دیہاتی اس کے جھونپڑے کا محاصرہ اور دائیں بائیں لہسن اور پیاز کیلئے بنائی ہوئی کیاریوں کو اجاڑ دیتے ۔ گاؤں کے وکیل اور چودھری صاحب بھی اندرون خانہ دیہاتیوں کا ساتھ دیتے کیونکہ وہ اکثریت میں تھے اور یہ بیچاری ایک کمتر ذات کی عورت تھی جو برادری اور طاقت کے لحاظ سے بھی کمزور تھی اور شادی کے بعد کے پندرہ سال اس نے اسی ذلت میں گزراے مگر ہمت نہ ہاری ۔ اسی اثناء میں اس کے ہاں سات بچے بھی پیدا ہوچکے تھے اس کی غربت اور بے کسی کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ غریبوں کا کوئی خدا نہیں ہے مگر اس کی صحت اور جوانی کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ خدا اس پر مہربان ہے ایسے سنگین حالات میں بھی اس کے چہرے پر بشاشت موجود تھی مگر جس محلے کے مضافات میں یہ رہتی تھی وہاں کے اکثر لوگ بیرون ملک آباد تھے یورپ اور مشرق وسطی میں روز گار کمانے کیلئے گئے ہوئے تھے ان کے گاؤں میں بڑے بڑے محلات بنے ہوئے تھے بڑی بڑی لینڈ کروزر اور نئے ماڈل کی گاڑیاں شو شو کرتے ہوئے اس کے جھونپڑے کے پاس سے گزرتی تھیں ۔ انہی لوگوں کے درو بام صاف کر کے یہ اپنی اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی تھی مگر جب بھی بن بلائے ان نودولیتوں کے آنگن میں جھانکتی تو حقارت سے ان کی عورتیں منہ موڑ لیتی اور بن پوچھے یہ جھاڑو لے کر صفائی شروع کر دیتی ۔ اگر کسی کی مرضی ہوتی تو خشک آٹے کی خیرات اس کے آنچل کے ایک کونے میں باندھ دیتی اور یہ کلو دو کلو آٹا لے کر سیدھا گھر آ جاتی ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ محلے کے چند گھروں میں کام کیا اور شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹی اپنے مسائل کے حل کیلئے گاؤں کے ممبر یا کھڑپنچ کے گھر جاتی تو سب ٹرخادیتے یا مظلوم اور کمزور سمجھ کر مذاق کرتے اور جب یہ گاؤں کے سرپرست اکیلے ہوتے تو ایک دوسرے کیساتھ اس کے جسمانی اعضا پر گفتگو کرتے ۔ مگر غربت اور غیرت کے سوااس کے پاس کچھ بھی نہ تھا دنیا اس کیلئے ایک جہنم اور ذلت سے کم نہ تھی مگر قدرت نے غم سہنے کا اس کو عادی بھی بنا دیا تھا ۔ ایسے ہی مساعد حالات میں گرمیوں کی رات کو زمین پر سوئے ہوئے اس کے بچے کو سانپ نے ڈس لیا ۔ وہ بچے کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تمام لوگوں کے گھروں پر گئی کہ مجھے گاڑی پر لفٹ دے دو تاکہ بچے کو ہسپتال میں لے جاؤں مگر دولت کے نشے میں مست اپنی خواب گاہوں میں سوئے ہوئے ایک بھی گاؤں کے مالکان نے اس کو لفٹ نہ کرائی ۔ سب نے یہ کہہ کر ٹال دیا بچے کو کانٹا چبھا ہو گا فکر کرنے کی ضرورت نہیں کسی نے کہا بچھو نے کاٹا ہو گا مولوی سے پھونک مروا لو مگر اس نے چیخ چیخ کر کہا میں نے سانپ کو بھاگتے ہوئے دیکھاہے ۔ میرابچہ مر جائے گا خدا کیلئے میری مدد کرو مگر پھر بھی کسی نے اس کی چیخ و پکار پر کان نہ دھرے ۔ اتنے میں یہ اپنے جھونپڑے کی طرف روانہ ہو گئی اور بچہ اس کے کندھے پر بیٹھا ہوا دم توڑگیا ۔
بچے کے مرنے کے بعد اس کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی اگر پٹواری بے دخلی کا آرڈر لے کر گھر پر آتا تو جھونپڑے سے نکلنے کے بعد اس کی کایا پلٹی ہوتی اگر فارسٹ گارڈ محکمہ جنگلات کا کوئی حکم نامہ لے کر آیا تو وہاں جھونپڑے میں ہی ریشہ خطمی ہو جاتا ۔ دیہاتی اب بے بس ہو گئے تھے محکمہ مال اور جنگلات والے اس کے گرویدہ ہو گئے تھے محلے اور علاقے کے امیر اوباشوں کے ساتھ اس کے تعلقات استوار ہو گئے تھے اب اس کے جھونپڑے کے پاس سے شو شو کرتی گاڑیاں اس کے جھونپڑے کا طواف کرنے کیلئے بیتاب تھیں ۔ اب اس کو کوئی پیدل چلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا بڑی بڑی مہنگی کاروں کی فرنٹ سیٹ پر یہ بیٹھی ہوئی نظر آتی مہنگے کپڑے زیب تن ہوتے زیورات سے اس کے بازوجھٹک رہے ہوتے میک اپ سے اس کا حسن دو چند ہوجاتا ۔ گھر پر فروٹ کے کریٹ پڑے ہوتے بجلی کے پہنچنے سے گھر بار کی تاریکی ختم ہو گئی اب مشقت کرنا قصہ پارینہ بن گئی لوگوں کے دروں پر ٹھوکریں کھانا ختم ہو گیا ۔ اس نے اپنے ساتھ غریب دیہاتیوں کی لڑکیوں کو بھی شامل کر لیا اب گاؤں سے بوڑھے اور نوجوان چھپ چھپ کر اپنا شوق پورا کرتے جو عورتیں اس کو حقارت کی نظر سے دیکھتی تھیں ان کے شوہر اس کی مٹھی میں بند تھے اور ان کے گھرو ں پر ناچاکی کے سلسلے شروع ہو گئے تھے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا اس کا مرغوب مشغلہ بن گیا تھا گاؤں کا ہر مرد بڑا احساس ہو کر اس کے گھر کے پاس سے گزرتا نوجوان شرمندہ نظر آتے ایلیٹ کلاس کی یہ مجبوری تو کیا بلکہ ضرور ت بن گئی تھی امیروں کی خواہشات کا یہ آخری سہارا تھی ۔ معاشرے سے اس نے چن چن کر انتقام لیا مگر سماج کے لوگ اس کی غربت پر اجتماعی بے حسی کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج اجتماعی شکل میں انہیں ایسی بے بسی اور مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑتا کیونکہ سماج کی اجتماعی غفلت کا خمیازہ لوگوں کو اجتماعی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔

Check Also

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک  1998کو ماہانہ اجرک کی ٹیم نے عالمی روحانی شخصیت حضرت سےدنا ریاض احمد …

جواب دیں