ہفتہ , جولائی 24 2021

ملائیشیا ایک اسلامی ملک

محمد عابد یٰسین
اسلامی برادر ملک ملائیشیا کو آزاد ہوئے تقریبا 47 سال ہو گئے ہیں۔ ملائیشیا کی کل آبادی ایک کروڑ 45لاکھ سے زائد ہے۔ جس میں 65فیصد مسلمان ہیں بیس فیصد بدھ مت دس فیصد ہندو اور پانچ فیصد عیسائی۔ یہاں کی51فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔ ملائی ڈالر یہاں کی کرنسی ہے۔ یہاں پر ملائی ، چینی اور تامل زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پوری دنیا کی ربڑ اور ٹین کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ ملائیشیا پورا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ برتن سازی، کھاد اور ربڑ کی صنعت زوروں پر ہے۔ فصلوں میں ناریل ، چائے، چاول، انناس اورک کالی مرچ کاشت کی جاتی ہے ۔ معدنیات میں کوئلہ، خام تیل اور سونا شامل ہے۔ بجلی کی پیداوار ڈھائی لاکھ ٹن کلو واٹ سالانہ ہے۔ ملائیشیا میں16ویں صدی میں یورپی لوگ تاجروں کی صورت میں آنا شروع ہوئے اور پھر1857ء میں برطانیہ نے اسے اپنے کنٹرول کر لیا۔1957ء میں انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوا اور16ستمبر 1963ء کو موجودہ ملائیشیا کی شکل اختیار کی۔ہر دور حکومت میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ملک میں تعلیم کا نصاب ایک ہی ہے۔ اس میں کوئی طبقہ واریت نہیں، کیونکہ ملائیشیا کی حکومت پیدائش سے لیکر بائیس سال کی عمر تک ہر بچے کی کفیل ہوتی ہے۔

Check Also

محفل نعت و محفل سماع بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ

جواب دیں