ہفتہ , جولائی 24 2021

قائداعظم محمد علی جناح- بانی پاکستان

قائداعظم جنوبی ایشیاء کی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے، جنہوں نے اپنے عزم و استقلال ، یقین محکم اور عمل پیہم سے ایک آزاد وطن تخلیق کیا۔ ان کا قانون کی بالادستی پر پختہ یقین تھا اورانہیں بلا شبہ جمہوری اقدار کا ترجمان کہا جا سکتا ہے، قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہندوستانی اخبار ’’ٹائمز‘‘ نے لکھا۔پاکستان کا قیام موجودہ دور کا ایسا واقعہ ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ، یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آج بھی انسان کس طرح تاریخ کو اپنے عزم و استقلال کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے، پاکستان صرف ایک شخص مسٹر جناح کی تصوارتی دنیا تھا اور جسے انہوں نے بالآخر حاصل کیا اور اسلامی مملکت بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔‘‘
قائداعظم پاکستان میں استحصال سے پاک معاشرہ قائم کرنا چاہیے تھا ، اسی لئے قائداعظم نے دولت مندوں کو اپنا انداز فکر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا اور سرکاری افسروں پر زور دیا کہ وہ ایسی فضا پیدا کریں کہ ہر شخص کے ساتھ انصاف ہو سکے اور اس کو اپنا حق مل سکے، سرمایہ داروں ، جاگیر داروں اور نوابوں کو تنبیہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں کسی بھی طبقے کو لوٹ مار کرنے اور اجارہ داری کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ پاکستان امیروں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور نوابوں کی لوٹ مار کے لئے نہیں بنایا گیا ، پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے قائم ہوا ہے اور غریبوں کا ملک ہے اور غریبوں کو ہی حکومت کرنے کا حق ہے ، پاکستان میں ہر شخص کا معیار زندگی اس قدر بلند کیا جائے گا کہ امیر و غریب کا کوئی فرق نہیں رہے گا۔ پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیر فانی اصولوں کی روشنی میں مرتب کیا جائے گا۔قائداعظم نوکر شاہی کو من مانی کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دینا چاہتے تھے۔ قائد نے واضح الفاظ میں کہاتھا کہ حاکمیت کے تکبر کا نشہ ٹوٹنا چاہیے، اب آپ حاکم نہیں، آپ کا حکمران طبقے سے تعلق نہیں ا ب آپ کو ملازموں کی طرح فرائض بجا لانے چاہئیں۔سیاست آپ کا کام نہیں، آپ کا کام خدمت ہے جو سیاسی جماعت اکثریت حاصل کرے گی وہ حکومت قائم کرے گی اور آپ کا فرض ہے کہ آپ اس وقت کی حکومت کی خدمت کریں، سیاستدانوں کی حیثیت میں نہیں بلکہ خادموں کی حیثیت میں، مجھے احسا س ہے کہ قدیم روایات، قدیم ذہنیت، قدیم نفسیات ہمارے گھنٹی میں پڑی ہوئی ہے اور ان سے نجات پانا آسان نہیں۔ اب آپ کا فرض ہے کہ عوام کے سچے خادموں کی حیثیت سے کام کریں۔‘‘قائداعظم پاکستان میں معاشرتی برائیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، اسی لئے آپ نے11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ’’اس وقت ہندوستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے وہ رشوت ستانی اور بد عنوانی ہے۔ دراصل یہ زہر قاتل ہے اس کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ قائداعظم چور بازاری کو دوسری لعنت سمجھتے تھے اور اس برائی کو سختی سے ختم کرنا چاہتے تھے اس کے علاوہ اقربا پروری اور احباب نوازی کے بھی مخالف تھے۔قائداعظم نے قوم کو صاف الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کوہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ، جو پاکستان اور پاکستانی قوم کے بد خواہ ہوں، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، قائداعظم عام آدمی خصوصا مزدور طبقے کی فلاح و بہبود چاہتے تھے۔
آپ نے والیکا ٹیکسٹائل مل کے افتتاح کے موقع پر 6ستمبر 1947 ء کو فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ آپ نے اپنے کارخانہ کا پلان تیار کرتے وقت کاریگروں کے لئے مناسب رہائشی مکانات اور دوسری آسائشوں کاخاص طور پر اہتمام کیا ہو گا۔ کیونکہ کوئی بھی صنعت اس وقت تک حقیقتاًفروغ نہیں پا سکتی جب تک اس کے مزدور مطمئن نہ ہوں۔
قائداعظم بحیثیت قانون دان عدلیہ کی آزادی کی اہمیت کو جانتے تھے، اس لئے انہوں نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا اور آزاد اور بے داغ عدلیہ کے حامی رہے۔قائداعظم چاہتے تھے پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد سچے اسلامی اصولوں اور نظروں پر قائم کریں جس طرح اللہ کا حکم ہے، مملکت کے مسائل کے بارے میں فیصلے مشوروں اور باہمی بحث و تفیم سے کیا کرو۔قائداعظم نے پاکستان کے دستور کے بارے میں ایک انٹرویو میں فروری1948ء میں فرمایا کہ’’پاکستان کا دستور ابھی بننا ہے اور یہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی بنائے گی، یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہو گا اورا سلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل۔
اسلام اور اس کے نظریات سے ہم نے جمہوریت کا سبق سیکھا ہے۔ اسلام نے ہمیں انسانی مساوات، انصاف اور ہر ایک کے ساتھ رواداری کا درس دیا ہے۔ہم ان عظیم روایات کے وارث ہیں اور امین ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے معماروں کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قائداعظم پاکستان کو ایک عظیم اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ تاہم انہوں نے اپنے آپ کو اسلام کا خادم سمجھا۔ 17اپریل 1948ء کو گورنمنٹ ہاؤس پشاور میں قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد نے فرمایا کہ جو کچھ میں نے کیا ہے اسلام کے خادم کی حثییت سے کیا اور جتنا کچھ میری بساط میں تھا اس کے مطابق اپنی ملت کی خدمت کے لئے کام کیا۔ میری مسلسل یہ کوشش رہی کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کروں۔
یکم جولائی 1948ء کو بینک دولت پاکستان کا افتتاح کرتے وقت عوام کو واضح الفاظ میں بتایا کہ قدرت نے آپ کو ہر چیز عطا کی ہے۔ آپ کے پاس غیر محدود وسائل موجود تھے۔ آپ کی مملکت کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ اب اس کی تعمیر آپ کا کام ہے۔ پس تعمیر کیجئے جس قدر جلد اورجتنی عمدگی سے آپ کر سکیں ، آگے بڑھئے میں آپ کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے نوجوان طالب علم خلوص دل اور سچے جذبے کے ساتھ تعلیم کے حصول کے لئے محنت کریں گے۔ پاکستان کا مستقبل اب آپ ہی کے ہاتھوں میں ہے، تعلیم یافتہ اور ہنر مند اقوام ہی دنیا میں باوقار ہو کر زندگی گزارنے کی اہل ہو سکتی ہے۔ یاد رکھئے حصول علم ہی کے لئے محنت آپ کا نصب العین اور اپنے علم و ہنر سے اپنے وطن پاکستان کی خدمت آپ کا فرض ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ جلسے سے دسمبر1947ء سندھ یونیورسٹی میں خطاب کرنے والا یہ عظیم رہنما اپنے نوجوان طلبا سے کیا کیا امیدیں وابستہ رکھتا تھا۔ یقیناًبابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو ایک جمہوری، فلاحی اور اسلامی اصولوں کی تابع ریاست بنانا چاہا تھا۔ پاکستان کو سربلند وعظیم دیکھنے کے لئے اس کے نوجوان طلباء کو تعلیم و تحقیق کے میدان میں معرکہ آرائی و مہم جوئی کے لئے سرگرم دیکھنا چاہا تھا، قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نزدیک نوجوان طلباء ملک و قوم کی ایک ایسا اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں جو اپنی نوجوان توانائیوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے بل بوتے پہ ملک و قوم کو تعمیر و ترقی کی شاہراہوں پہ رواں دواں کرنے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ عظیم رہنما کیونکہ اپنے زمانہ طالب علمی میں ذہین، محنتی طالب علم رہا تھا، یہ عظیم راہبر قوم چونکہ اپنے زمانہ طالب علمی میں حصول علم کے نصب العین کو اپنے کے لئے پر خلوص تھا اس لئے وہ اللہ بزرگ و برتر کی رحمت سے با وقار اوربا مراد دیکھناچاہتا تھا اور ہمارے قائداعظم نے اپنی قوم کو اپنے نوجوان طلباء کو ترقی و وقار کا شاخسانہ ’’علم و ہنر کا حصول بتایا‘‘۔
22تا24مارچ آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 واں سالانہ اجلاس قائداعظم کی زیر صدرت لاہور میں منعقد ہوا جس میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی۔
قائداعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ہندوستان میں ہے، فرقوں کے درمیان نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس کو بین الاقوامی ہی جان کر حل کرنا چاہیے۔ قرار داد پاکستان بنگال کے وزیر اعلی مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی۔ اور پہلی تائید چوہدری خلیق الزما ں نے کی۔بیگم مولانا محمد علی جوہر نے اپنی تقریر میں اس کو پاکستان کی قراراد کہا۔انیس اپریل 1940 کو قائداعظم کی اپیل پر پہلا یوم پاکستان کل ہندو بنیاد پر منایا گیا ۔ 1941میں مدارس کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس قائداعظم کی صدارت میں منعقد ہوا۔

Check Also

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک

﴿انٹرویو﴾ماہنامہ اجرک  1998کو ماہانہ اجرک کی ٹیم نے عالمی روحانی شخصیت حضرت سےدنا ریاض احمد …

جواب دیں