منگل , جولائی 27 2021

اشتہاری بورڈ شہریوں کے لیے خطرہ

شہر کی معروف شاہراہوں اور گنجان علاقوں میں تقریبا 300بورڈز انتہائی اونچائی پرنصب کئے گئے ہیں۔ ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث ہر وقت گرنے کا خطرہ شہریوں کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ڈی گراؤنڈ میں بورڈ فٹ پاتھ پر چلنے والے راہ گیریوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں ، سر کیساتھ ٹکراتے ہیں۔ طوفان بادو باراں میں شہر کے مختلف علاقوں ، کوہ نور چوک، جڑانوالہ روڈ ، ریلوے اسٹیشن چوک، گیٹ ستیانہ روڈ جھال خانوآنہ، جی ٹی ایس چوک ٹی بی ہسپتال چوک میںآندھی کے باعث بڑے بڑے ہورڈنگز بورڈز زمین بوس ہوئے۔ بعض بورڈز کمزور بنیادی میٹریل اور غیر معیاری گھٹیا کوالٹی میٹریل کی وجہ سے گر گئے۔ بجلی کی تاریں متاثر ہوئیں متعدد علاقوں کو بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ بجلی کی طویل بندش سے شہری پریشان رہے۔ اسی طرح ریلوے سٹیشن چوک میں ہورڈنگ بورڈ گرنے سے رکشہ مسافر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا بیوی اوردو بیٹیاں شدید زخمی ہوئیں۔ ستیانہ روڈ پر خالی رکشے ، انتہائی اونچائی پرنصب ناقص میرٹیل کی وجہ سے بورڈ گرے تو رکشے تباہ ہو گئے۔ کیونکہ بورڈ نصب کرتے وقت ان کی مضبوطی کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ ہمارا خطہ آندھیوں کا مرکز ہے۔ تھوڑی سی آمدنی کی خاطر انسانیت کا خون کیا جا رہا ہے۔ بھاری بورڈوں کی نئی تنصیب غلط ہے۔ اندرون شہر گنجان آباد علاقوں میں ان کی تنصیب ممنوع قرار دی جائے۔ حسب سابق شہری علاقوں میں داخل ہوتے وقت کھلے علاقوں ، موٹروے یا بڑی سڑکوں پر بورڈز نصب ہوں جہاں جانی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اکثر و واقات ڈرائیونگ کے دوران نظر بٹ جانے کے باعث ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں مختلف مواقعوں پر شہر کے تجارتی رہنماؤں نے بڑے بڑے جہازی بورڈز اتارنے کا کئی بار مطالبہ کیا ہے۔ خطرناک بات یہ ہے جہازی سائز بورڈز کی تنصیب میں استعمال ہونے والے میٹریل اورنصب کرنے کے طریقے کو چیک کرنے کے لئے کوئی ادارہ یا نظام موجودنہ ہے جس کی وجہ یہ پبلیسٹی بورڈز عوام کی زندگیوں کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ اس وقت شہر میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے یہ خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔اب ملک کے اندر مختلف ملٹی نیشنل کمپنیاں وائر لیس اور موبائل ٹیلی فون کا کاروبار زور و شور سے چلا رہی ہیں انہوں نے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں کوئی سو فٹ اونچے آھنی کھمبے نصب کرنے شروع کر رکھے ہیں وہ متعلقہ زمین مالکان کوپرکشش ماہوار ادائیگی کرتے ہیں اور پیشگی رقم بھی ادا کررہے ہیں۔یہ ٹاور انتہائی اونچائی پر ہیں ٹاؤن ناظمین اور سٹی ڈسٹرکٹ ناظم ممبران اور سماجی کارکنان کواپنی اپنی ذمہ داریاں محسوس کرنا چاہیں۔ کسی بڑے حادثے کے رونما ہونے سے پہلے اس کا تدارک کرنا ضروری ہے۔ اشتہار بازی کی اہمیت اپنی ہے بلدیاتی اداروں کو مال پانی کی بھی ضرورت ہے مگر ان سے بڑھ کر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی ضروری ہے تیز رفتار گاڑیوں کے ڈرائیور کی ایک نظر جاذب نظر پر کشش بورڈ کی تصاویر کی جانب مصروف ہو جائے تو نتیجہ متعدد سیاہ گر افسوس ناک حادثہ سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ڈی گراؤنڈ پیپلز کالونی، ستیانہ روڈ گیٹ، ٹیلی فون ایکسچینج ڈی گراؤنڈ، جی ٹی ایس چوک ، ریلوے اسٹیشن چوک، چناب کلب چوک میں نصب بورڈز ٹریفک کیلے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ پارکوں اور گرین بیلٹ کی جگہوں پر دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔درختوں کو کاٹ کر ان بورڈز اور ہورڈنگ کیلئے جگہ بنائی جا رہی ہیں ۔دیوار میں بورڈز کی بنیادوں نے دراڑیں ڈال دی ہیں۔ اور راستہ میں رکاوٹ ان بورڈز کی تنصیب کی وجہ سے ہے۔ ڈی گراؤنڈ اور دوسرے اہم چوکوں سے انتہائی اونچائی پر نصب ہورڈنگ ختم کی جائے۔ سٹی ڈسٹرکٹ ناظم اور چاروں ٹاؤن ناظم ذمہ داری محسوس کریں۔

Check Also

محفل نعت و محفل سماع بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ

جواب دیں